ISLAMIC VIDEOS TUBE: پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟ پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Friday, February 7, 2014

پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟

پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟

اس کے کیا نقصانات ہیں؟

اور سائنس اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟

اللہ تعالیٰ بچے کو نر و مادہ کے باہم جنسی ملاپ سے پیدا فرماتاہے۔ نر میں اعضائے تولیدی کو ”ٹیسٹیز“ اور مادہ کے اعضائے تولیدی کو ”اووری“ کہتے ہیں۔ یہ اعضاء نہ صرف تولیدی ہیں بلکہ یہ ”غدود“ کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں۔

غدود انسانی جسم کا ایسا جز ہے جس کے ذمہ جسم کے مختلف افعال کو باقاعدہ بناکر انہیں کنٹرول کرنا ہے۔ جیسا کہ ”پٹیوٹری“ غدود انسان کے قد کا ذمہ دار ہے، اگر یہ ٹھیک وقت پر برابر مقدار میں ہا رمونز خارج کرے تو انسان کا قد نارمل ہوگا ورنہ یا تو بہت زیادہ بڑھے گا یا پھر پست رہ جائے گا ۔

اسی طرح مادہ میں ”اووری“ بھی ایک خاص قسم کا ہارمونز ”اسٹروجن“ خارج کرتی ہے۔ اس ہارمونز کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ بچیوں میں عورت ذات والی تمام خصلتیں اور خصوصیات بھردے، اس کے ساتھ اسے نسوانی حسن بخش دے گی۔ اسی طرح نر میں” ٹیسٹیز“ جو ہارمونز خارج کرتا ہے اسے ”انڈروجن“ کہتے ہیں اور یہ انسانی بچے مردانہ پن پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اگر یہ دونوں غدود صحت مند ہوں گے اور اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دیں تو نر (بچہ) میں مردانہ خصوصیات اور مادہ (بچی) میں نسوانی خصوصیات ہوں گی لیکن اگر یہ غدود اپنا کام صحیح طور پر سرانجام نہ دیں اور”اسٹروجن“ اور”انڈروجن“ صحیح مقدار میں پیدا نہ کرسکیں تو پھر پیدا ہونے والے بچے میں بے قاعدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

یہ ویکسین جب شروع سے پلائی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ بچے جب جوان ہوتے ہیں تو اس وقت تک یہ اپنا کام کرچکی ہوتی ہے اب بچہ جوان ہوکر مستقل بانجھ پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ویکسین میں کون سی چیز ملائی جاتی ہے یہ تو ابھی تک زیر تحقیق ہے۔

ڈاکٹر ہاروناکائیٹا جو کہ احمد دبلو یونیورسٹی زاریا میں فارماسوٹیکل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ ہیں، وہ نائیجریا سے ویکسین کے کچھ نمونے تحقیق کے لئے انڈیا لے گئے تاکہ ان میں موجود اجزاء کی جانچ پڑتال ہوسکے، جب ڈاکٹر کائٹانے ان ویکسین کو مختلف ٹیسٹ اور جانچ پڑتال کے مراحل سے گزارا تو اس میں کچھ ایسے مواد کی ملاوٹ کے شواہد ملے جو کہ صحت کے لئے خطرناک ہیں۔

ڈاکٹر کائٹا نے ہفت روزہ ”کیڈونا ٹرسٹ“ کو ایک انٹرویو میں بتایا،

”ہم نے پولیو کے اس ویکسین میں کچھ ایسی اشیاء دریافت کی ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ اور زہریلی ہیں اور خاص طور پر کچھ ایسی ہیں جو براہ راست انسان کے جنسی نظام تولید پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے خود ہمارے بیچ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی خباثت اور بدتمیزی کی پشت پناہی کررہے ہیں اور برابر ان کی مدد کررہے ہیں اور مجھے یہ کہہ کر افسوس ہو رہا ہے کہ ان میں کچھ ہمارے اپنے ماہرین بھی شامل ہیں“

ڈاکٹر کائٹا نے یہ مطالبہ کیا کہ جو لوگ پولیو ویکسین کے نام پر یہ جعلی دوائی در آمد کررہے ہیں، ان کے خلاف دوسرے مجرموں کی طرح مقدمہ چلانا چاہئے اور سزا دینی چاہئے“۔

۱۹۹۵ء میں فلپائن کی آزاد خواتین کی ایک لیگ نے تشنج کے ٹیکوں کے خلاف کورٹ میں مقدمہ جیت لیا تھا اور یونیسف کی اس مہم کو روک لیا تھا۔ اس ویکسین میں ایسی دوائی (Beta-Human Chorionic Gonadotropinیا β-hCG) استعمال کی گئی تھی۔ جس کے استعمال کرنے سے عورت کا حمل مکمل طور پر نہیں ٹھہر سکتا تھا ۔ فلپائن کی سپریم کورٹ نے یہ معلوم کیا کہ تین ملین خواتین کو جن کی عمر ۱۲ سے ۴۵ سال تک تھی پہلے ہی سے یہ ویکسین دی جاچکی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے (۲۰جون ۲۰۰۵ء)جاری کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود ۵۰۰ سے زائد پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ یمن اور انڈونیشیا جنہیں ۱۹۹۶ء میں پولیو ویکسین کی مہم چلانے کے بعد اس بیماری سے آزاد خطہ قرار دے دیا گیا تھا۔ وہاں پھر سے یہ وبا پھوٹ پڑی ہے۔ یمن میں ۲۴۳ اور انڈونیشیا میں ۵۳ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

بہت سے محققین نے اس ویکسین کو دراصل دنیا کی آبادی کنٹرول کرنے کا خفیہ مگر انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت کیا ہے اور اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔ ایک خفیہ امریکی دستاویز “NSSMZOO” جو ۱۹۷۴ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۸۹ء میں ڈی کلاسیفائی ہوئی۔ اس دستاویز پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دستخط ہیں۔ اس دستاویز میں شناخت کئے گئے ممالک میں سے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نائیجریا، انڈونیشیا، برازیل، فلپائن، میکسیکو، تھائی لینڈ، ترکی، ایتھوپیا اور کولمبیا ہیں۔ پاپولیشن کنٹرول اس دستاویز کا مرکزی اور یک نکاتی ایجنڈا ہے۔

۲۹جون ۱۹۸۷ء کو ایک امریکی اخبار نے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر روبرٹ سے بات کی، جن کا کہنا تھا کہ خسرہ کی ویکسین نقصان دہ وائرس سے آلودہ ہیں۔ ۳۰ برس تک نامی گرامی ڈاکٹر چلاتے رہے کہ ہم ”ویکسین“ نامی ٹائم بم سے کھیل رہے ہیں، خسرہ کے ویکسین سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ کینسر کا باعث ہے۔

لندن کے موقر ترین روز نامے دی ٹائمز نے ۱۱مئی ۱۹۸۷ء کو فرنٹ پیج پر اس حوالے سے یہ سرخی لگائی تھی کہ ”خسرہ کے لئے لگائے گئے ٹیکے ایڈز وائرس پھیلا رہے ہیں“۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک کنسلٹنٹ نے اپنے ادارہ کو رپورٹ دی کہ زیمبیا، زائرے اور برازیل میں خسرہ ویکسین اور ایڈز وائرس کے پھیلاؤ کے درمیان تعلق کا شبہ تھا۔ تحقیق پر یہ شک وشبہات صحیح نکلے۔ عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ ملنے کے باوجود اسے شائع نہیں کیا۔ برازیل واحد جنوبی امریکی ملک تھا جس نے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین مہم میں حصہ لیا اور پھر یہی ملک ایڈز کا سب سے بڑا شکار بنا۔ پولیو، خسرہ اور ہیپٹائٹس کی ویکسین میں وائرس کی موجودگی کے ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔ان میں منگی وائرس جیسا خطرناک وائرس بھی شامل ہے ۔

عالمی ادارہ صحت پر خسرہ ویکسین کے ذریعے ایڈز پھیلانے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ ان ٹیکوں کی وجہ سے بانجھ پن ہونا بھی ثابت ہوچکا ہے۔ ویکسین دو ماہ کے بچوں کے لئے قطعاً محفوظ نہیں۔ مگر یہ ویکسین کا شیڈول نومولود کے ابتدائی دنوں سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ نومولود کے وزن، قد اور جسامت جیسے معاملات بالکل نظر انداز کردیئے جاتے ہیں۔ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ ایک ہی دوائی یا ٹیکہ کسی ایک انسان کے لئے تو قطعی محفوظ ہو سکتے ہیں، مگر دوسرے کے لئے موت کا باعث بھی۔

ویکسین کو بچوں میں ذہنی عوارض کا سبب بھی قرار دیا جاتا ہے۔ پولیو کے قطرے جب پلوانے شروع ہوئے جن بچوں نے یہ استعمال کئے ہیں، یقیناً آج وہ جوان ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوں گے اور آج کل نوجوانوں کی اکثریت جن امراض میں مبتلا نظر آتی ہے وہ مردانہ امراض ہی ہیں۔ اس ضمن میں مزید جو حقائق دیئے گئے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں۔

ہندوستان کے ایک جریدے ”المرشد“ میں پولیو کے قطروں سے متعلق ایک مدلل مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون کو پاکستان کی ”اشرف لیبارٹریز“، فیصل آباد کے ترجمان ماہنامہ ”رہنمائے صحت“ کی اشاعت میں شامل کیا گیا۔ جس میں سات سے زائد ایسے کیس ذکر کئے گئے ہیں جن میں بچوں کو پولیو کے قطروں کا کورس مکمل کروایا گیا تھا۔ انہیں اس روک تھام کے باوجود پولیو ہوگیا۔

سید محمّد شعیب
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today