ISLAMIC VIDEOS TUBE: کتاب ادیان کی جنگ ’’قوم کے بڑے (اکابرین) کس کے ساتھ ہیں‘‘صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۷ کتاب ادیان کی جنگ ’’قوم کے بڑے (اکابرین) کس کے ساتھ ہیں‘‘صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۷ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Tuesday, February 25, 2014

کتاب ادیان کی جنگ ’’قوم کے بڑے (اکابرین) کس کے ساتھ ہیں‘‘صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۷

حضرت مولانا عبدالعزیز حفظہ اللہ کو اور دیگر ان علماء کو کہ جو پاکستانی آئین کو کفری و غیر اسلامی بیان کررہے ہیں، ان کو محض کم تعداد یا (کسی بھی اعتبار سے) چھوٹے ہونے کی بناء پر جو غلط ثابت کیا جا رہا ہے، ان لوگوں کے لیے ایک منفرد تحریر:

کتاب ادیان کی جنگ ’’قوم کے بڑے (اکابرین) کس کے ساتھ ہیں‘‘صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۷
کسی بھی طالب علم کے لئے اس اختلاف میں کوئی رائے قائم کرنا یا یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کیا حق ہے اورکیا باطل؟ کس کے نظریات اسلامی ہیں اور کس کے غیر اسلامی؟ اور یہ پیچیدگی اس وقت اور زیادہ ہو جاتی ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ جمہوریت کو کفر کہنے والوں میں ایسے چوٹی کے علماء موجود ہیں، جن کی صرف علمی استعداد ہی نہیں بلکہ تقویٰ و دیانتداری کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دوسری جانب وہ لوگ جو اس کو اسلامی قرار دیتے ہیں، اور اس میں شرکت اور ضروری سمجھتے ہیں، ان میں ایسے افراد شامل ہیں جن کے علمی مقام و دیانت کے سبھی قائل ہیں۔

کسی بھی بحث میں دلائل جس کے پاس بھی زیادہ ہوں یا شریعت کی روشنی میں جس فریق کی بات حق و سچ ہو ، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انسان فیصلہ کرنے میں دلائل سے زیادہ جس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے ، وہ یہ ہوتی ہے کہ ’’قوم کے بڑے‘‘ کس کے ساتھ ہیں۔ حتٰی کہ ا نبیاء جیسی مقدس شخصیات کو بھی اس پیچیدہ صورتِ حال سے گزرنا پڑا ۔ حالانکہ اگر دلائل کے اعتبار سے دیکھا جائے تو انبیاء کے حق و سچ ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے ، کہ انبیاء پر براہِ راست وحی نازل ہوتی تھی؟
چنانچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کے سامنے جب کوئی دعوت پیش کی جاتی ہے تو اس کو قبول یا رد کرنے میں وہ اپنے بڑوں کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کے بڑے اگر اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو اس معاشرے کے عام لوگ بھی اس کو قبول کر لیتے ہیں اگر کسی بھی معاشرے کے بڑے اس دعوت کو رد کر دیں تو پھر دعوت دینے والوں کو ابتداء ہی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس صورت میں داعیوں کے سامنے جو اعتراض بار بار کیا جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ: آپ زیادہ سمجھدار ہیں یا بڑے زیادہ سمجھدار ہیں؟ اگر یہ سب جو آپ بیان کر رہے ہیں حق ہوتا تو ہمارے بڑے اس کو کیوں اختیار نہ کرتے؟
لیکن کیا ’’قوم کے بڑے‘‘ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں؟ کیا ’’نوجوان‘‘ ہمیشہ غلط ہوتے ہیں اور ان کا طریقۂ کار کبھی بھی درست نہیں ہوتا؟ کیا شریعتِ اسلامیہ میں یہ کوئی معیار ہے کہ بڑوں اور چھوٹوں کی آراء جب مختلف ہو جائیں تو بڑوں کی بات ہی قابلِ اعتبار اور قابلِ عمل ہوگی ؟ اور کیا حق کو صرف اس لیے رد کر دیا جائے گا کہ وہ معاشرہ کے مشہور و نامور افراد کی زبان سے جاری نہیں ہوا؟ کیا اس قسم کے اعتراض حق کو رد کرنے والے پہلے ہی سے نہیں کرتے چلے آ رہے؟
(وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ )(الزخرف:۳۱)
’’وہ کہتے کہ قرآن کو دونوں بستیوں(مکہ و طائف) میں کسی بڑی شخصیت پرکیوں نہیں اتارا گیا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا:
( اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ۔۔۔)(الزخرف:۳۲)
کیا آپ کے رب کی رحمت کی تقسیم یہ(کافر) کرتے ہیں۔۔۔‘‘؟

کہ یہ فیصلہ کریں گے کہ اللہ کی رحمت کس کو عطا کی جائے؟اللہ کی رحمت کا مستحق کون ہے؟وہ جس کو یہ بڑا سمجھتے ہیں یا وہ جس کو اللہ نے بڑا سمجھااور بڑا بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا؟ ان کے نزدیک بڑیہونے کا معیار دنیا ہے،اس کی شہرت،چمک دمک،بڑے بڑے القاب ہیں، ٹی وی اور اخبارات اور کانفرنسوں میں نمایاں نظر آنا ہے۔۔۔ سو یہ دنیا اللہ نے ان میں تقسیم کر دی ہے ،لیکن اللہ کی رحمت ان سب پر بھاری ہے اور اللہ جس کو چاہیں اپنی رحمت کے لئے منتخب فرما لیں۔
اسی طرح اگر انبیاء کی دعوت کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائیتو پھر اس اعتراض کی حقیقت میں کوئی زیادہ وزن نظر نہیں آتا ،کیونکہ جتنے بھی انبیاء آئے اور اپنی دعوت کا آغاز کیاتو سب سے پہلے جس طبقے نے ان کی مخالفت کی وہ قوم کے ’بڑے‘ ہی تھے۔ جب کہ انبیاء ان کی نظر میں کم عمر ہوا کرتے تھے۔انبیاء علیھم السلام کی مخالفت کرنے والوں میں وقت کے مشہور و معتبر افراد پیش پیش رہے۔ پیشہ، ذہانت، شہرت و حلقۂ احباب کے اعتبار سے انبیاء کے مخالفین کو معاشرہ میں بڑا مقام حاصل ہوا کرتا،جبکہ انبیاء کی دعوت کو جو طبقہ سب سے پہلے قبول کرتااس کے بارے میں یہ ’بڑے ‘کہا کرتے تھے کہ:
(۔۔۔وَمَا نَرٰئکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا۔۔۔)(ھود:۲۷)
’’۔۔۔اور ہم تمہارے ماننے والوں میں صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو ہم میں چھوٹے (کم حیثیت) ہیں۔۔۔‘‘۔
کبھی یہ ’’بڑے‘ ‘نبی پر ایمان لانے والوں کو بیوقوف کہتے تھے:
(۔۔۔قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآءَُ۔۔۔)(البقرۃ:۱۳)
’’۔۔۔(منافقین)کہنے لگے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں۔۔۔‘‘؟

ابراہیم علیہ السلام نے جب بتوں کو توڑا تو اس وقت آپ کی عمر(ابن کثیر کی روایت کے مطابق)سولہ سال تھی۔جبکہ اس نظام کا کفر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اس سے پہلے ہی واضح کر دیا تھا۔آپ غور فرمائیے !ایک طرف ’نوجوان ‘ہیں(جن کو بڑوں نے جذباتی بھی کہا ہوگا)اور دوسری جانب قوم کے ذہین و فطین،جہاں دیدہ تجربہ کار بڑے ہیں۔ لیکن کیا کسی میں یہ جرأت ہے کہ وہ خلیل اللہ کو جذباتی نوجوان کہہ کران کے طریقۂ کار کو غلط کہہ سکے اور قوم کے بڑوں کو حق بجانب قرار دے؟
امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت نقل کی ہے :
’’اللہ نے ہر نبی کو جوان مبعوث فرمایااور جس عالم کو بھی علم سے نوازا جوانی ہی میں نوازا‘‘۔
اگر آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو چیزاپنے صحابہؓ کو سمجھائی وہ یہ تھی کہ حق و باطل کو پہچاننے کا معیار صرف عمر میں چھوٹا بڑا ہونا نہیں ہے بلکہ معیارِ حق شریعتِ محمدیہ ﷺ ہے۔
لہٰذا اہلسنت کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، معیارِ حق ہیں، باوجودیکہ ان میں کوئی عمر میں چھوٹا اورکوئی بڑا تھا۔اس کی وجہ وہی حق ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ان پاک ہستیوں کو سکھایا تھا، اور ان سب میں مشترک تھا۔
صحابہ کرامؓ کی سیرتِ مبارکہ اٹھا کر دیکھیں تو کتنے ہی کم عمر صحابہ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا اور اختلاف کی صورت میں بڑی عمر کے صحابہ مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
حنفی مسلک میں کتنے مسائل ایسے ہیں جن میں استاد (امام ابو حنیفہؒ )کے مقابلے شاگردوں(امام ابو یوسف ؒ اور امام محمدؒ ) کے قول پر عمل کیا جاتا ہے۔یہی معاملہ تمام مسلکوں میں ہے اور اہلِ حدیث حضرات کے یہاں بھی۔

چنانچہ یہ کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ آج ہم حق بات کو پہچان لینے کے باوجود اسے صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ ’’ہمارے بڑے‘‘اس حق کے ساتھ نہیں ہیں۔کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم بندوں نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے؟کیا قیامت کے دن اللہ کے سامنے ایسے لوگ کوئی حجت قائم کر پائیں گے، اور کیا محض بڑوں کے پیچھے چلنے کی دلیل ان کے کسی کام آئے گی؟
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: کتاب ادیان کی جنگ ’’قوم کے بڑے (اکابرین) کس کے ساتھ ہیں‘‘صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۷ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today