ISLAMIC VIDEOS TUBE: جمہوریت اور اسلافِ امت واکابرینِ وقت جمہوریت اور اسلافِ امت واکابرینِ وقت - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Monday, February 17, 2014

جمہوریت اور اسلافِ امت واکابرینِ وقت

آئین اور جمہوری نظام کے کفری ہونے کے معاملہ پر مولانا عبدالعزیز غازی حفظہ اللہ کو اکابر علماء سے علیحدہ کہنے والے ذرا اکابرین کی ان تحریرات پر بھی ایک نظر کر لیں اور پھر فیصلہ کریں۔ ۔ ۔
(تعصب سے بالاتر ہو کر پڑھیں، ورنہ ضد اور عناد کا کوئی علاج نہیں)

جمہوریت اور اسلافِ امت واکابرینِ وقت:
آئیے دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کے بارے میں اسلافِ امت اور اکابرینِ وقت کیا فرماتے ہیں، جو ہمارے لئے مشعلِ راہ اور ہم سے زیادہ اس دین کی سمجھ رکھنے والے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے باب ’’سیاسۃ المدینۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ولما کانت المدینۃ ذات اجتماع عظیم لا یمکن أن یتفق رأیھم جمیعاعلی حفظ السنۃ العادلۃ۔۔۔‘‘
’’جبکہ شہر انسانوں کے بڑے ہجوم کا نام ہے ، سو ا ن سب کی رائے کا سنت کی حفاظت پر متفق ہو جانا ناممکن ہے۔۔۔‘‘
معلوم ہوا کہ جمہوری نظام جو اکثریت کی موافقت کا محتاج ہوتا ہے، اس میں اسلام اور مسلمانون کی کامیابی ثابت کرنا دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے فرمایا:
’’غرض اسلام میں جمہوری سلطنت کوئی چیز نہیں۔۔۔یہ مخترعہ متعافہ جمہوریت محض گھڑا ہوا ڈھکوسلہ ہے ، بالخصوص ایسی جمہوری سلطنت جو مسلم و کافر ارکان سے مرکب ہووہ تو غیر مسلم سلطنت ہی ہوگی ‘‘۔

مولانا ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں:
’’وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مزدور اور عوام کی حکومت ہے، ایسی حکومت بلا شبہ حکومتِ کافرہ ہے‘‘۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ جمہوریت کے تصور کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جمہوریت اور جمہوری عمل کا اسلام سے کیا تعلق ہے ؟ اور خلافتِ اسلامی سے کیا تعلق ؟ موجودہ جمہوریت تو سترہویں صدی کے بعد پیدا ہوئی ہے ۔ یونان کی جمہوریت بھی موجودہ جمہوریت سے الگ تھی، لہٰذا اسلامی جمہوریت ایک بے معنیٰ اصطلاح ہے۔۔۔ہمیں تو اسلام میں کہیں بھی مغربی جمہوریت نظر نہیں آئی اور اسلامی جمہوریت تو کوئی چیز ہے ہی نہیں، معلوم نہیں اقبال مرحوم کو اسلام کی روح میں یہ جمہوریت کہاں سے نظر آگئی؟۔۔۔ جمہوریت ایک خاص تہذیب و تاریخ کا ثمرہ ہے، اسے اسلامی تاریخ میں ڈھونڈنا معذرت خواہی ہے ‘‘۔
قاری طیبؒ فرماتے ہیں:
’’یہ (جمہوریت )رب تعالیٰ کی صفتِ ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفتِ علم میں شرک ہے‘‘۔
سو اے اللہ کو ایک ماننے والو! شرک کا راستہ اختیا ر کرکے بھی بھلا کوئی اسلام کو سربلند کر سکتا ہے ؟
مفتی رشید احمدلدھیانوی ؒ نے فرمایا:
’’یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرۂ خبیثہ کی پیداوار ہے ۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں‘‘۔
مولانا یوسف لدھیانویؒ شہید نے فرمایا:
’’جمہوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے‘‘۔

مولانا یوسف لدھیانویؒ شہید کی کتاب ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں یہ مسئلہ بھی موجود ہے :
سوال: حرام کو قصداً حلال کہنا بلکہ اسلامی کہنا کہاں تک لے جاتا ہے ؟میں آپ کی توجہ مئی ۱۹۹۱ء میں ہماری قومی اسمبلی کے منظور شدہ شریعت بل کی شق ۳ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ شریعت ، یعنی اسلام کے احکامات، جو قرآن و سنت میں بیان کیے گئے ہیں، پاکستان کا بالادست قانون ہوں گے ۔ بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متاثر نہ ہو۔ یعنی ملک کے سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متاثر ہونے کی صورت میں قرآن اور حدیث کو رد کر دیا جائے گا ۔ سیاسی نظام اور حکومتی شکل کے سلسلے میں سپریم لاء آئین ۱۹۷۳ ء ہی ہوگا۔
مولانا صاحب! اس بل کا بنانے والا ، اس کے منظور کرنے والے، اس کو ملک میں رائج کرنے والے اور ان تمام حضرات کی معاونت کرنے والے علماء کرام کس زمرے میں آئیں گے؟
جواب۔۔۔ ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ بغیر شرط اور استثناء کے اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول ﷺ کے تمام احکام کو دل و جان سے تسلیم کرے۔ ’’یہ کہنا کہ میں قرآن و سنت کو بالادست مانتا ہوں بشرطیکہ میری فلاں دنیوی غرض متاثر نہ ہو‘‘ ایمان نہیں بلکہ کٹر نفاق ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے محمد رسول اللہ ﷺ کا امتی ہونے سے صریح انحراف ہے۔

نوٹ تحریر کو مختصر رکھنے کی غرض سے میں نے حوالہ جات نہیں لکھے، لیکن اگر کسی کو مذکورہ علماء کے اقوال کے حوالہ جات مطلوب ہیں تو کتاب ادیان کی جنگ، مصنف مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ، صفحہ نمبر 53 سے 58 تک پڑھ لیں۔
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: جمہوریت اور اسلافِ امت واکابرینِ وقت Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today