ISLAMIC VIDEOS TUBE: فتنۂ وطنیت فتنۂ وطنیت - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, March 22, 2014

فتنۂ وطنیت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

23 مارچ کے حوالے سے خصوصی پوسٹ۔

فتنۂ وطنیت

شرک کا ایک چور دروازہ وطن پرستی بھی ہے۔ وطن پرستی دین کی موت ہے، جب کوئی قوم وطن پرستی کے فتنہ میں مبتلا ہو جاتی ہے اور یہ نظریہ اختیار کر لیتی ہے کہ ’’قومیں اوطان‘‘ سے بنا کرتی ہیں، اور آب و گل کی پرستش میں منہمک ہو جاتی ہے تو اس وقت سے ہی وہ شرک کی لعنت کا طوق گلے میں پہن کر اپنے خالق حقیقی کو ناراض کر لیتی ہے، جس کے سبب اس کی تنزلی شروع ہو جاتی ہے۔ بلکہ وہ اپنی عاقبت برباد کر بیٹھتی ہے۔

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

قزمان بن حارث نے غزوۂ احد میں شدید لڑائی کی، چھ سات مشرکین کو تنہا موت کے گھاٹ اتارا، مگر رسول اللہ ﷺ نے اسے جہنمی قرار دیا۔
[[أَمَا إِنَّہُ مِنْ أَھْلِ النَّارِ]]
’’یقینا وہ جہنمی ہے۔‘‘

کیوں؟ اس لئے کہ اس نے یہ لڑائی محض اپنی قوم اور وطن کی نام آوری کی خاطر لڑی تھی، اس نے صحابہ کے سامنے خود اپنی زبان سے اقرار کیا تھا۔
[[وَاللہِ مَا قَاتَلْنَا إِلَّا عَلَی اَلْأَحْسَابِ]]
’’اللہ کی قسم! ہم نے خاندانی شرافت اور حسب کی خاطر لڑائی لڑی۔‘‘
[الاصابۃ لإبن حجر ۳۳۵/۵، ترجمۃ رقم: ۷۱۲۳]

خاندانی شرافت، عظمت اور افتخار کی خاطر لڑنے والا تو جہنمی ہوا، اور جو محض اپنے وطن کے غلبہ اور تسلط کی خاطر لڑے، وہ؟

یقینا وطن کی حفاظت و پاسبانی کی خاطر قتال لازمی ہے، مگر اس سے ’’اعلاءِ کلمۃ اللہ‘‘ اور صرف ’’رضائے الٰہی‘‘ مقصود ہو۔ وطن کی سرحدوں کی حفاظت لازمی امر ہے! مگر بایں فکر و نظر کہ دشمنانِ اسلام کی مدافعت اور مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت ہو گی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:
[[مَنْ قَاتَلَ لِتِکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ]]
’’جو شخص اللہ کے کلمے کو سر بلند کرنے کے لئے لڑے، وہ اللہ عز و جل کی راہ میں (لڑتا) ہے۔‘‘
[صحیح بخاری، کتاب العلم، رقم: ۱۲۳]

اشکال:
وطن پرست اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[[حُبُّ الْوَطْنِ مِنَ الْاِیْمَانِ]]
’’وطن سے محبت کرنا ایمان سے ہے۔‘‘

ازالہ:
لیکن یہ روایت موضوع ہے، علامہ البانی ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ۱۱۰/۱ رقم: ۳۶‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے۔ جیسا کہ صغانی (ص ۷) وغیرہ نے کہا ہے۔ اور اس کا معنی بھی درست نہیں ہے۔ کیونکہ وطن انسان کو جان و مال کی طرح عزیز ہوتا ہے۔ اور جان و مال سے محبت کرنے پر انسان ممدوح نہیں ٹھہرتا، اور نہ ہی یہ لوازم ایمان سے ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ آج مسلمان ہوں یا کافرعموما ہر کوئی اپنے وطن سے محبت کرتا ہے۔‘‘ انتھی

[’’شرک کے چور دروازے‘‘ سے اقتباس]

  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: فتنۂ وطنیت Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today