ISLAMIC VIDEOS TUBE: مغرب کے سفاک معاشرتی رویئے مغرب کے سفاک معاشرتی رویئے - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, March 15, 2014

مغرب کے سفاک معاشرتی رویئے

مغرب کے سفاک معاشرتی رویئے!!!
کچھ عرصہ پہلے یورپ میں ایک پاکستانی نژاد ’’جوڑے‘‘ نے18ماہ کی بچی قتل کر دی تھی‘ اس کا مقدمہ چلنا اب شروع ہوگیا ہے۔ لندن کے عمار قریشی نامی شخص نے ناروے میں اپنی گرل فرینڈیاسمین کو اس کی 18ماہ کی بچی قتل کرنے کی فرمائش کی تھی۔ سکائپ پر قتل کا منظر عمار قریشی نے دیکھا۔ عمار کو غصہ تھا کہ جب وہ اپنی گرل فرینڈز سے بات کرتا ہے تو یہ بچی رد کرمزہ کرکراکرتی ہے۔ اس نے یاسمین سے کہا‘ اسے بالٹی میں ڈبو دو‘ اس نے ڈبو دیا وہ ننھی سی جان تڑپ تڑپ کر مر گئی۔
کیسی بد بخت ماں یہ یاسمین تھی۔ لگتا ہے عمار قریشی کی فرمائش تو بہانہ تھی ورنہ وہ اپنی بچی کو مارنے کے لئے تیار بیٹھی تھی۔ اس لئے کہ اس سے پہلے بھی وہ 18ماہ کی معصوم بچی کو زبردستی لال مرچیں کھلاتی تھی اور ہاتھ پاؤں باندھ دیتی تھی تاکہ ٹھیک طریقے سے تڑپ بھی نہ سکے۔ یہ منظر بھی بدبخت عمار سکائپ پر دیکھتا۔خبر میں بتایا گیا ہے کہ یاسمین کے بھائی نے اسے عمار قریشی کی گرل فرینڈ بنایا تھا۔ تعارف کچھ اور الفاظ میں کرایا ہوگا لیکن مفہوم یہی ہوگا ’’یہ میری بہن ہے‘ اسے اپنی گرل فرینڈ بنا لو‘‘۔
زندگی میں خوشی اور لطف کو مقصد بنانے کا فلسفہ بھی کسی یورپی فلسفی ہی نے دیا تھا۔ جو اپنا مقصد یہ بنا لیتے ہیں‘ ان کے لئے باقی رشتے مہمل ہو جاتے ہیں۔ یورپ نے ستم کے اوپر ستم یہ کیا ہے کہ ایسے قاتلوں کو رعایت دینے کے لئے ’’نفسیاتی مرٰض‘‘ کی اصطلاح کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ عدالتیں ایسے ’’مریضوں‘‘ کو زیادہ سزا نہیں دیتیں چنانچہ ذہنی مریض بڑھتے جاتے ہیں اور ان کے جرائم بھی۔ اس معصوم بچی کی مختصر لیکن بے بس زندگی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ جب اسے مرچیں کھلائی جاتی ہوں گی‘ جب اسے مارا پیٹا جاتا ہوگا اور جب اس کے ہاتھ پاؤں باندھے جاتے ہوں گے تو اسے کیسا لگتا ہوگا‘ وہ کیا سوچتی ہوگی ۔اس کا مرنا اچھا ہی ہوا کہ اس کی سزائے زندگی 18ماہ میں پوری ہوگئی‘ اور جیتی رہتی تو اسی طرح تڑپتی ۔
ایسے ماں باپ خوشی اور مسرت کے پیچھے بھاگتے ہیں اور بچوں کو مار دیتے ہیں۔ یہ امریکہ اور یورپ کے کلچر کا حصہ ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے یہ رپورٹ آئی کہ امریکہ میں ہر سال تین ہزار بچوں کو ان کے ماں باپ اپنی خوشیوں میں مداخلت کے جرم میں ہلاک کر دیتے ہیں۔ امریکی جریدے ’’جرنل آف فارنزک سائنس انٹرنیشنل اور اخبار یو ایس ٹو ڈے کے مطابق امریکی والدین پچھلے تین عشروں میں ایک لاکھ سے زیادہ بچے مار چکے ہیں۔ اور ان سب کا جرم ایک ہی تھا کہ وہ ان کے عیش و آرام میں محل ہوئے تھے۔ امریکی والدین میں بچوں کو ہلاک کرنے کا جو طریقہ سب سے مقبول ہے‘ وہ انہیں ڈبو کر مارنا ہے (وہی جو لندن اور اوسلو کے پاکستانی نژاد ’’جوڑے‘‘ نے اختیار کیا) دوسرے نمبر پر تکیے سے منہ دبا دینا ہے۔ پھربچوں کو اٹھا کر دیوار سے دے مارنے کا طریقہ ہے۔ چوتھا گرمی میں بچے کو گاڑی میں بند کرکے دھوپ میں کھڑی کر دینا ہے۔ اس چوتھے طریقے کو دیکھا جائے تو پہلے تین طریقے ’’رحم دلی‘‘ پر مبنی لگتے ہیں۔ پانچواں بچوں کو گولی مار کر ہلاک کر نا ہے۔ اب تک جتنے بچے قتل ہوئے ان میں 11فیصد سوتیلے تھے۔ مرنے والے بچوں کی عمریں بارہ سال تک کی تھیں۔ زیادہ تر بچوں کو ان کے باپ نے مارا ایسے کیس78.3فیصد ہیں۔ 21فیصد قتل ماؤں نے کئے۔
انسان کو پیدا ہی ظالم کیا گیا ہے لیکن نئے معاشرتی رویوں نے اس کے ظلم کوکتنا پھیلا دیا ہے ۔
سینئر صحافی عبداللہ طارق سہیل
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: مغرب کے سفاک معاشرتی رویئے Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today