ISLAMIC VIDEOS TUBE: غدر سے دھشتگردی تک غدر سے دھشتگردی تک - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Tuesday, June 3, 2014

غدر سے دھشتگردی تک

(اسے اتنا شئیر کرے کہ ھر مسلمان کو اس جنگ کی حقیقت پتہ چل جائے)

تحریر "غدر سے دھشتگردی تک"

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

1857 کی جہادِ آزادی جس کا اعلان علمائے اہلِ حق نے کیا۔ جس میں انگریزوں نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ انگریزوں کو کسی جگہ پر اتنا بڑا نقصان نہیں اٹھانا پڑا تھا جتنا اس "اعلانِ جنگ" سے ھوا تھا۔

انگریز اس بات کو سمجھ گیا تھا کہ مسلمانوں کا "نظریئہ جہاد" ان کےلئے خطرناک و مہلک تھا۔ انہوں نے کئی سال کی حکمتِ عملی تیار کی۔ اس طبقے کو گرانے کے لئے جو اسلام کے لئے کسی بھی قسم کی قربانیوں سے باز نہیں آتے۔ جو مرنے کو تو تیار تھے۔ لیکن انگریزوں کی غلامی کے لئے تیار نہ تھے۔

انگریزوں نے انہیں ختم کرنے کے لئے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا۔ جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے کافی تھا۔ جو اپنے آپ کو کہتا تو اسلامی تھا۔ لیکن اسلام کی ذرہ سی تعلیم بھی ان کے اندر نہیں تھی۔ بدقسمتی سے اس طبقے میں وہ لوگ شامل ھیں، جن کے نام سن کر شاید آج کا نام نہاد "پڑھا لکھا" طبقہ حیران اور جذباتی ھوجائے گا۔

جی ھاں "سر" سید احمد خان، جسے سر کا خطاب انگریزوں نے اس وجہ سے دیا کہ اسلام کو جو نقصان انہوں نے پہنچایا وہ انگریز خود بھی نہ پہنچا سکے۔۔

آپ لوگوں کو یہ سن کر حیرانگی ھوگی کہ سر سید احمد خان نے "جہادِ آزادی" کو "غدر" کہا۔ اور انگریزوں سے لڑنے والے کو "غدار" کہا۔ جس کی وجہ سے مسلمان 2 جماعتوں میں تقسیم ھوگئے، ایک نام نہاد "پڑھا لکھا" طبقہ، جو جہاد کو غداری کا نام دے رھا تھا۔ اور ایک "نام نہاد" ان پڑھ طبقہ جو کسی حال پر بھی اسلام کی تعلیمات کو ترک کرنے کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ کسی کی ملامت کئے بغیر اس نام نہاد "غداری" میں بڑھتا چلا گیا۔ یہ طبقہ اہلِ حق کا طبقہ تھا۔ جسے آج کی تاریخ شاید اسلئے بھول گئی کیونکہ ان کے سامنے تاریخ اتنی ضروری نہیں تھی، جتنا اسلام۔

آج تاریخ خود کو دھرا رھی ھے۔ آج علماء، بلکہ علماء سوء جو کہ اسلام کی تعلیمات کی دعوت بھی دیتے ھیں۔ لیکن اس اہل حق طبقے کو "دھشتگرد" کہتے ھیں۔

پیمانے بڑے عجیب ھے،

ھمیں نظر آتا ھے، عراق میں ابو مصعب الزرقاویؒ کا لشکر اتنے امریکی فوجوں کی گردنیں نہیں کاٹتا، جتنی ان مرتدین کی کاٹتا ھے، جو کہ اسلام کی تعلیمات سے ارتداد کر چکے ھیں۔ ابو مصعب الزرقاویؒ کا یہ لشکر عالمی سطح پر بھی "دھشتگرد" اور اپنے ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد کے نظر میں بھی "دھشتگرد" لیکن مسلم ممالک کی عوام انہیں مجاھد ھی کہتی ھے، ان کے اپنے ملک کے عوام کو چھوڑ کر۔

افغانستان کے طالبان کی مثال لیتے ھیں، ھر مسلم ملک میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان کے طالبان کی حمائیتی ھیں لیکن صرف افغانستان کی عوام کی ھی ایک بڑی تعداد اسے "دھشتگرد" کہتی ھے۔

آپ اسے اتفاق سمجھیں یا خوبصورتی لیکن اس وقت جس جگہ پر اسلام کا لشکر کافروں کے خلاف برسرپیکار ھے، اس جگہ پر عوام کو ایک خاص سازش کے تحت مجاھدین کے خلاف بھڑکایا گیا ھے۔ ان کے ذھین میں یہ "دھشتگرد" لفظ بٹھا دیا گیا ھے۔ اور دوسرے طرف ھر دوسرے ملک کی مسلمان عوام اسے "مجاھدین" ھی کہتی ھے۔

اسی طرح ایک منظم سازش کے تحت پاکستان، صومالیہ، شام، لبنان، عراق، الجزایر، سعودیہ، اردن، یمن اور بیشتر مسلم ممالک میں اس "جہاد" کو "دھشتگردی" اور "مجاھدین" کو "دھشتگرد" کہا جاتا ھے جیسے 1857 کی "جہادِ آزادی" کو "غدر" اور "مجاھدینِ آزادی" کو "غدّار" کہا گیا۔

حقیقت تو یہ ھے کہ یہ جنگ کبھی "war on terror" کی جنگ تھی ھی نہیں،بلکہ اس جنگ کا اصل نام تو "war on Crusade" تھا، جو ایک مکمل مذھبی جنگ تھی۔ جس میں صلیبی و صیہونی جماعتیں ایک طرف اور اسلامی جماعت ایک طرف تھی۔ تو کیا صیہونی اور صلیبی جماعتوں سے متحد نام نہاد مسلمان اس جنگ میں شہید ھونگے یا مردار۔۔ کیا اس وقت کا اللہ کے پیغمبرؑ نے ھمیں بتا نہیں تھا دیا۔ تو کیا آخرت میں ھم سے اس کے بارے پوچھ نہیں ھوگی۔ کیا اللہ کے سامنے ایسا کوئی جواز دیا جا سکے گا کہ ملک کی خاطر مسلمان بھائویں اور بہونوں کو کافرؤں کے حوالے کیا گیا تھا۔ اور اس حوالے کروانے والے کفر سے متحد لشکر کا ساتھ دیتے ھوئے اس کی تائید کرتے ھوئے ھم نے اسلام کی تعلیمات سے ارتداد نہیں کیا۔ اللہ ان عقلوں کو ٹھکانے لگائے گا۔ اس دنیا میں بھی ذلیل کرےگا اور آخرت میں تو درد ناک عذاب ان کے لئے تیار ھے۔

آج ان سازشوں کی وجہ سے بہت بڑا طبقہ جہاد اور مجاھدین سے متنفر ھو رھا ھے۔ آج نماز پڑھتا ھوا مؤمن بھی اس فتنے کا شکار ھے۔ جو کہ انگریزوں نے 2 سو سالہ محنت سے ھمارے دماغوں کو کنٹرول کرکے اس میں ڈال دیا ھے۔

اللہ پاک سے دعا ھے کہ اللہ ھر مسلمان کو فساد و فتنے کے اس دور میں ھدایت دے کر شہادت کی موت اور سعادت کی زندگی نصیب فرمائے

واللہ اعلم
اخوانکم فی الاسلام
والسلام
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: غدر سے دھشتگردی تک Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today