ISLAMIC VIDEOS TUBE: قوم اور قومیت قوم اور قومیت - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Wednesday, June 11, 2014

قوم اور قومیت

قوم اور قومیت:
تاریخ ، ملک،زبان اور رنگ ونسل یہ چند ایک ایسی مبادیات ہیں جن پر نظریہ قوم اور قومیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جو قوم ان خصائص و مبادیات کی بنا پر وجود میں آتی ہے دین اور عقیدہ سے قطع نظر صرف ان بنیادوں پر ان کے درمیان دوستی اور تعاون قائم ہوتا ہے کیونکہ نظریہ قومیت اور اس کے داعیوں کے ہاں دین اور عقیدے کی کوئی خاص وقعت اور حیثیت نہیں ہوتی۔ نظریہ قومیت ان لادین اور غیر مذہب کافر طاقتوں کا خود کاشتہ پو دا ہے جو دین کو امور حیات اور امور سلطنت سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں۔
جو قوم ان اساسیات اور مبادیات کے ساتھ تشکیل میں آتی ہے وہ طاغوت کے زمرے میں آتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں الولاء والبراء اور حقوق و واجبات کی تقسیم اس قوم کی طرف نسبت کی بنیاد پر ہی عمل میں آتی ہے۔ جو اس قوم سے تعلق رکھنے والا ہے اسے دوستی اور مدد ملے گی اور وہ تمام حقوق کا حقدار ہوگا اگرچہ وہ زمین کا سب سے بڑا سرکش انسان ہی کیوں نہ ہو۔ اور جو اس قوم سے تعلق نہیں رکھتا اسے ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا اگرچہ وہ زمین کا سب سے نیک انسان ہی کیوں نہ ہو۔ نظریہ قومیت کا اعتقاد رکھنا اور اس کی مدد کرنا طاغوت کا اعتقاد رکھنے اور اس کی مدد کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ جبکہ اسلام دین اور عقیدے کی بنیاد پر دوستی اور اخوت کوواجب قرار دیتا ہے اور اس نے رنگ و نسل اور قومیت سے قطع نظر تقوی اور عمل صالح کو لوگوں کے درمیان افضلیت اور شرف کا معیار قرار دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃ} (الحجرات: ۱۰)
’’بے شک سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ ‘‘
سب مسلمان بھائی بھائی اور ایک دوسرے کے دوست ہیں اگرچہ وہ مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے ہوں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ} (التوبہ: ۷۱)
’’مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ،معاون اور) دوست ہیں۔ ‘‘
{یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللَّہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} (الحجرات: ۱۳)
’’اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا ہے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو تمہارے کنبے اور قبیلے بنا ئے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے معزز ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ بلا شبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے تقوی اور عمل صالح کو فضیلت اور شرف کا معیار قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’میرے خاندان کے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دوسرے لوگوں کی نسبت میرے زیادہ قریب ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ، تم میں سے میرے زیادہ قریب وہ ہے جو متقی ہے وہ جو کوئی بھی ہو اور جہاں کہیں بھی ہو۔ ‘‘( السنہ از ابن ابی عاصم ، شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔)
’’کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقوی کے۔ ‘‘((مسنداحمد۲۳۵۳۶))
’’ اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کا کبر و غرور اور آباء و اجداد کے ساتھ فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے۔ مومن متقی ہے اور فاجر بدبخت ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ قوموں کی بنیاد پر فخر کرنا چھوڑ دیں۔ ایسے لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں سیاہ رنگ کے بدبودار حشرات الأرض سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔ ‘‘(ابو داود:۵۱۱۶۔)
’’ جس نے زمانہ جاہلیت کے کسی تعلق کی تمنا کی وہ جہنم کے گروہوں میں سے ہے۔ ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگرچہ وہ شخص نماز پڑھتا ہو اور روزے رکھتا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہو۔ تم اللہ کی طرف اپنی نسبت کرو جس نے تمہارا نام ’’مسلم‘‘، ’’مومن ‘‘ اور ’’اللہ کے بندے‘‘رکھاہے۔‘‘(صحیح ترغیب لترھیب ۵۵۳۔)
اور فرمایا ’’ایسا شخص ہم میں سے نہیں جس نے جاہلیت کی پکار لگائی ‘‘۔(صحیح نسائی ۱۷۵۶)امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’جاہلیت کی پکار سے مراد قبیلوں اور عصبیت کی پکار لگانا ہے ،اسی میں فقہی مذاہب ،مختلف گروہوں اور اپنے اپنے مشائخ کے لیئے تعصب کرنا،انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دینا ،ان کے لیے محبت اور دشمنی کرنا یہ سب جاہلیت کی پکار ہے ۔‘‘(فتح المجید ۳۱۹)
اسلام کے علاوہ ہر نسبت جاہلیت کی نسبت ہے۔ ہر وہ تعلق جو عقیدہ ، دین ، عمل صالح اور خشیت الٰہی کے علاوہ کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو وہ جاہلیت کا تعلق ہے۔ اس تعلق کو ختم کردینا اور اس سے برأت کا اظہار کرنا واجب ہے۔
قومیت کے بارے میں ہم نے جو رائے پیش کی ہے یہ اس قبیلہ اور خاندان کے بارے میں ہے جس کے ہاں دوستی اور دشمنی کا معیار دین اور اخلاق سے قطع نظر صرف اور صرف قبیلہ یا خاندان کی طرف نسبت ہو۔ صرف وہی شخص دوستی اور مدد کا مستحق ہوجو اپنے قبیلہ یا خاندان کی طرف منسوب ہواور اس قبیلہ کے رسوم و رواج اور قوانین کو اپنانے والاہواگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اس مدد اور دوستی کا مستحق وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس قبیلہ سے تعلق رکھنے والا نہیں ہے خواہ وہ بہترین مسلمان اور مومن ہی کیوں نہ ہو۔
اس صورت میں قبیلہ اور اس کے رسم ورواج اہل قبیلہ کی نگاہ میں ایک ایسا معبود ہوتا ہے جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جارہی ہوتی ہے۔ کیونکہ قبیلہ کے رسم و رواج جس بات کو لازم ٹھہراتے ہیں اسے تسلیم کیا جاتا ہے اگرچہ وہ شریعت میں حرام ہی کیوں نہ ہو۔ جس بات سے قبیلہ کے رسم و رواج اورقوانین روک دیں اس سے رک جایا جاتا ہے اگرچہ وہ کام شریعت میں واجب ہی کیوں نہ ہو۔ یہ واضح شرک اور کفر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ} (الأنعام : ۱۲۱ )
’’اور اگر تم نے ان لوگوں کی اطاعت کی تو یقینا تم مشرک ہوجاؤ گے۔ ‘‘
یعنی اگر اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال کرنے اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کو حرام کرنے میں ان کی بات مانو گے تو تم بھی انہیں کی طرح مشرک ہو جائو گے۔
بعض قبائل اور خاندانوں میں دوستی اور محبت کی ایک یہ صورت بھی معروف ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے کارنامے بڑے فخریہ انداز سے بیان کرتے رہتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ وہ دین پر قائم بھی تھے یا نہیں۔ بلا شک و شبہ اسلام نے اس بات سے منع کیا ہے اور بڑی سختی سے اس سے بچنے کی تلقین کی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’موسی علیہ السلام کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک کہنے لگا : میں فلاں ہوں اور فلاں کا بیٹا ہوں اپنی نو پشتیں گنوانے کے بعد دوسرے کو گالی دے کر کہنے لگا کہ تو کون ہے؟ دوسرا کہنے لگا: میں فلاں ہوں فلاں کا بیٹا اسلام کا بیٹا۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ ان دونوں نسب بیان کرنے والوں سے کہہ دو : پہلا شخص جو نو لوگوں کی طرف اپنی نسبت بیان کرنے والا ہے وہ نو لوگ سب کے سب جہنمی ہیں اور تو دسواں بھی ان کے ساتھ جہنمی ہے۔ دوسرا شخص جودو کی طرف نسبت بیان کرنے والا ہے وہ دونوں جنتی ہیں اور یہ تیسرا بھی ان کے ساتھ جنتی ہے۔ ‘‘(نسائی صحیح جامع ۱۴۹۲۔)

((طاغوت از شیخ ابو بصیر الطرطوسی ص 68))
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: قوم اور قومیت Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today