ISLAMIC VIDEOS TUBE: حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, December 27, 2014

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ
نام، نسب عبداللہ : نام ،ابو محمد کنیت ،والد کا نام جحش اور والدہ کا نام امیمہ تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے:
عبداللہ بن جحش بن رباب بن یعمربن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی، حضرت عبداللہ ؓ کی والدہ امیمہ عبدالمطلب کی صاحبزادی اورآنحضرتﷺکی پھوپھی تھیںِ ایامِ جاہلیت میں وہ حرب بن امیہ کے حلیف تھے، بعضوں نے قبیلہ بنی عبدشمس کو ان کا حلیف لکھا ہے، لیکن ان دونوں روایتوں میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ حرب بن امیہ اس قبیلہ کا ایک ممبر تھا۔
)اسد الغابہ :۳/۱۳۱(
اسلام
حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے ابتداہی میں داعیِاسلام کو لبیک کہا تھا، اس وقت تک آنحضرتﷺارقم بن ابی ارقمؓ کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔
)طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :۶۲(
ہجرت
مشرکین قریش کے ظلم سے یہ خاندان بھی محفوظ نہ تھا، انہوں نے دو دفعہ سرزمین حبش کی طرف ہجرت فرمائی، آخر سفر میں تمام خاندان یعنی دوبھائی ابو احمد، عبید اللہ اور تین بہنیں زینب، ام حبیبہ، حمنہ بنت جحش نیز عبداللہ کی بیوی ام حبیبہ بنت ابی سفیان ساتھ تھیں۔
عبیداللہ نے حبش میں نصرانیت اختیار کرلی اور وہیں پیوندِ خاک ہوا،حضرت عبداللہ بن جحشؓ اپنے بقیہ خاندان کو پھر مکہ واپس لائے اور یہاں سے اپنے قبیلہ یعنی بنی غنم بن دودان کے تمام ممبروں کو جو سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے، ساتھ لے کر مدینہ پہنچے ،انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے اس طرح مکہ کو خالی کردیا تھا کہ محلہ کا محلہ بے رونق ہو گیا اوربہت سے مکانات مقفل ہوگئے۔
)طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :۶۲،۶۳(
مدینہ میں حضرت عاصم بن ثابت بن ابی افلح انصاریؓ نے ان کے تمام قبیلہ کو اپنا مہمان بنایا، آنحضرتﷺنے ان دونوں میں بھائی چارہ کرادیا تھا۔
) طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث: ۶۲(
غزوات
ماہ رجب ۲ ھ میں رسول اللہﷺنے ان کو ایک جمعیت کی امارت سپرد کی اورسربہرفرمان دے کر حکم دیا کہ دوروز سفر کرنے کے بعد کھول کر پڑھیں اوراس کی ہدایتوں کو اپنا طرزِ عمل بنائیں، حضرت عبداللہ نے حسبِ ارشاد دو منزلوں کے بعد کھول کر پڑھا، اس میں حکم دیا گیا تھا کہ مکہ اور طائف کے درمیان جو نخلستان ہے وہاں پہنچ کر قریش کی نقل و حرکت اوردوسرے ضروری حالات کا پتہ چلائیں،انہوں نے نہایت ادب کے ساتھ اس حکم پر سمعاً وطاعۃ کہا اوراپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوکر بولے :
"صاحبو میں رسول اللہﷺکے اس فرمان کو پورا کرکے رہوں گا ،تم لوگوں میں سے جو شہادت کا آرزو مند ہو ساتھ چلے اورجو اس کو ناپسند کرتا ہو وہ لوٹ جائے ، میں کسی کو مجبور نہیں کرتا۔"
اس تقریر پر سب نے جوش کے ساتھ رفاقت وجان نثاری کی حامی بھری اورنخلستان پہنچ کر قریش کے تجسس میں مصروف ہوئے ،اتفاقاً اس طرف سے ایک تجارتی قافلہ گذرا، گوماہِ رجب میں مراسمِ جاہلیت کے مطابق قتل و خونریزی ناجائز تھی، تاہم مسلمانوں نےحملہ آورہونے کی رائے قائم کرلی اوریکایک ٹوٹ پڑے،عمرو بن حضرمی جو اس قافلہ کا سرگروہ تھا ماراگیا ،عثمان بن عبداللہ اورحکیم بن کیسان گرفتار ہوئے، بہت سامالِ غنیمت ہاتھ آیا، حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے اس میں سے ایک خمس نکال کر باقیحصہ مساوی تمام شرکائے جنگ میں تقسیم فرمادیا، اس وقت تک تقسیم غنیمت کے متعلق کوئی قانون وضع نہیں ہوا تھا،لیکن حضرت عبداللہ کا اجتہاد صحیح ثابت ہوا اورقرآن میں اسی کے مطابق خمس کی آیت نازل ہوئی۔
حضرت عبداللہ بن جحش ؓ مالِ غنیمت کا خمس لے کر دربارِ نبوت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے لینے میں پس و پیش کیا اور فرمایا کہ میں نے تم کو ماہِ حرام میں خونریزی کا حکم نہیں دیا تھا، مسلمانوں نے بھی اس جسارت پر ملامت کی، قریش نے اس واقعہ کوزیادہ شہرت دی، اورکہنے لگے، محمدﷺاوران کے اصحاب نے ماہِ محرم کو حلال کرلیا، اور قتل وخونریزی کرکے اس کی بے حرمتی کی،لیکن وحیِ الہی نے ان کو اوران کے ساتھیوں کو ان جگر دوزطعنوں سے بری کردیا۔
)سیرۃ ابن حشام:۱/۳۴۴،۳۴۵(
"يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ"
)البقرۃ:۲۱۷(
لوگ آپ سےحرمت والے مہینے کےبارےمیں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے؟آپ کہدیجئے کہ اس میں جنگ کرنا بڑاگناہ ہے،مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنااس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا،مسجد حرام پر بندش لگانا اور اس کےباسیوں کووہاں سے نکال باہر کرنااللہ کے نزدیکزیادہ بڑا گناہ ہےاورفتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے۔
حضرت عبداللہ بن جحش ؓ غزوۂ بدر واحد میں شریک تھے،حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے ایک روز پہلے میں نے اورعبداللہ نے ایک ساتھ دعامانگی تھی میرے الفاظ یہ تھے:
"اے خدا!کل جو دشمن میرے مقابلہ میں آئے وہ نہایت بہادر اورغضبناک ہوتاکہ میں تیری راہ میں اس کو قتل کروں"
عبداللہ نے آمین کہا، پھر دست بدعا ہوئے:
"خدایا! مجھے ایسا مقابل عطاکر جو نہایت شجاع اورسریع الغضب ہو، میں تیری راہ میں اس سے معرکہ آراہوں یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کرکے ناک کان کاٹ ڈالے، جب میں تجھ سے ملوں گا اور تو فرمائے گا اے عبداللہ!یہ تیرے کان ،ناک کیوں کاٹے گئے؟ تو عرض کروں گا تیرے لیے اورتیرے رسول کے لیے، ان کو اپنی یہ تمنا اس قدر متوقع محصول نظر آتی تھی کہ قسم کھا کھا کر کہتے تھے، خدایا! میں تیری قسم کھاتا ہوں کہ میں دشمن سے لڑوں گا، یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کرکے میرا مثلہ کرلے گا۔"
شہادت
غرض، شوال ۳ ھ سنیچر کے روز معرکۂ کا رزار گرم ہوا، حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اس جوش سے لڑے کہ تلوار ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، آنحضرتﷺنے ان کو کھجور کی چھڑی مرحمت فرمائی جس نے ان کے ہاتھ میں تلوار کا کام دیا، دیر تک لڑتے رہے،بالآخر اسی حالت میں ابوالحکم ابن اخنس ثقفی کے وار نے شہادت کی تمنا پوری کردی، مشرکین نے مثلہ کیا اوران کے ناک کان کاٹ کر دھاگے میں پروئے، حضرت سعدؓ نے دیکھا تو بولے:
"خدا کی قسم عبداللہؓ کی دعاء میری دعاء سے بہتر تھی"
) ایضاً(
چالیس برس سے کچھ زیادہ عمر پائی، اپنے ماموں سید الشہداء حضرت امیرحمزہؓ کے ساتھ ایک ہی قرب میں مدفون ہوئے۔
) ایضاً:۱۳۲(
انا للہ وانا الیہ راجعون
اخلاق
گذشتہ واقعات سے ان کے مذہبی جوش ووارفتگی کا اندازہ ہواہوگا، جفاکشی ان کی فطرت میں داخل تھی، چنانچہ نخلستان کی مہم پر مامور کیے گئے توآنحضرتﷺنے ان کے ساتھیوں سے فرمایا تھا :
"گوعبداللہ بن جحش ؓ تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہے تاہم بھوک پیاس کی سختیوں کو زیادہ برداشت کرسکتا ہے۔
)اصابہ تذکرہعبداللہ بن جحشؓ(
خدا اوررسول کی محبت نے ان کو تمام دنیا سے بے نیاز کردیا تھا، انہیں اگر کوئی تمنا تھی تو صرف یہ کہ جان عزیز کسی طرح راہِ خدا میں نثار ہوجائے، چنانچہ یہ آرزو پوری ہوئی اور"المجدع فی اللہ"یعنی گوش بریدہ راہ خدا ان کے نام کا فصل امتیازی ہوگیا۔) اسد الغابہ جلد ۳ :۱۳۲(
حلیہ
حلیہ یہ تھا قد میانہ ،سر کے بال نہایت گھنے۔
)طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :۶۴(
اولاد
حضرت عبداللہؓ کے ازواج واولادکی تفصیل معلوم نہیں،غالباًایک لڑکا تھا، آنحضرتﷺاس کے ولی تھے اورآپ نے اس کے لیے خیبر میں جائیداد بھی خرید فرمائی تھی۔
)طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :۶۴(
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments
Item Reviewed: حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today