ISLAMIC VIDEOS TUBE: رب کی زمین پر رب کا نظام رب کی زمین پر رب کا نظام - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, December 27, 2014

رب کی زمین پر رب کا نظام


میلاد النبی صلی الله علیہ وسلّم کے موقع پر شایع ہونے والی تمام تحریریں پڑھ ڈالیے۔ اس موقع پر حکمرانوں اور رہنماؤں کی طرف سے جاری کیے جانے والے کُل بیانات کا بغور مطالعہ فرما لیجیے۔ نشریاتی اداروں سے نشر ہونے والے سارے پروگرام باریک بینی سے دیکھ لیجیے۔ سب کا خلاصہ یہی ہوگا کہ دنیا کا سب سے بڑا انقلاب پیغمبر انقلاب صلی الله علیہ وسلّم نے برپا کیا۔ آپؐ کی تعلیمات کسی ایک زمانے یا کسی ایک دور کے لیے مخصوص اور محدود نہیں۔ رہتی دنیا تک کے لیے ہیں۔ صرف آپؐ ہی کا دیا ہوا نظام انسانیت کی صلاح و فلاح کا نظام ہے۔ اُسوۂ کامل اگر کوئی ہے تو صرف اور صرف محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلّم کی سیرت میں ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف زبانی قول و قسم کی حدتک مسدود ہے اور فقط بیانات تک محدود ہے۔ اس کے برعکس عملاً کیا ہوتا ہے؟
عملاً یہ ثابت کیا جاتاہے کہ ’سیاست‘ محمد عربی صلی الله علیہ وسلّم کے سکھائے ہوئے طریقے پر نہیں چل سکتی۔
’معیشت‘ اگر رسولِ برحق صلی الله علیہ وسلّم کے دیے ہوئے نظام کے مطابق چلانے کی کوشش کی گئی تو ہمارا دیوالیہ نکل جائے گا۔
’حکومت‘ اگر اُن اُصولوں پر چلانے کی کوشش کی گئی جو سرکارِ دوعالم صلی الله علیہ وسلّم کے قائم کردہ اُصول ہیں تو ہم زمانے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔
’بین الاقوامی تعلقات‘ کی شرائط اگر وہ مقرر کی گئیں جو محسن انسانیت صلی الله علیہ وسلّم نے طے فرمادی ہیں تو ہم دُنیا بھر میں تنہا رہ جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
زبان سے تو اس بات کا سب اقرار کرتے ہیں کہ معلم ِانسانیت صلی الله علیہ وسلّم نے زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں چھوڑا جس کے متعلق جامع رہنمائی نہ فرما دی ہو۔ مگر عمل کی دنیا میں سب ہی آپؐ کے دین کو فقط مسجد و خانقاہ تک محدود کرکے رکھ دینا چاہتے ہیں۔
جسے نماز پڑھنی ہے، نماز پڑھے۔ جسے قرآن کی (محض) تلاوت کرنی ہے وہ تلاوت کرتا رہے۔
جسے روزے رکھنے ہیں وہ روزے رکھے۔ جو زکوٰۃ دینا چاہتا ہے وہ ہم کو دے۔ جسے حج کرنا ہے بخوشی حج کرے۔
پر جہاد کوئی نہ کرے۔ اس کا آرڈر نہیں ہے۔
امربالمعروف بے شک کرلے، مگر نہی عن المنکر سے باز رہے کیوں کہ اس سے لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت سرزد ہوتی ہے اور بنیادی انسانی حقوق پامال ہوجاتے ہیں۔
(نہ جانے اس قسم کا بنیادی انسانی حق کس نے کس کو دے دیاہے؟ اوریہ حق دینے والی اتھارٹی کون ہے؟)
مزے کی بات یہ ہے کہ ’’برائی سے روکنے‘‘ کی کوشش کرنے والوں کو ’’طاقت سے روکنے‘‘ کا حق استعمال کیا جاتا ہے، اور اس روک ٹوک کو ’’برحق‘‘ بھی سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ برائی سے روکنے والوں کو روکنا ہی اصل ’’حق‘‘ گردانا جاتاہے۔ پھر ’’اپنی پسند کی یہ شریعت‘‘ زبردستی سب پر مسلط کردی جاتی ہے، مگر محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلّم کی شریعت کا نام سنتے ہی بڑے بھولپن سے پوچھا جاتا ہے کہ ’’کس کی شریعت؟۔۔۔ کون سی شریعت؟‘‘
--محمد نعمان بخاری--✍
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments
Item Reviewed: رب کی زمین پر رب کا نظام Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today