ISLAMIC VIDEOS TUBE: امریکی زوال کی پیش گوئیاں! امریکی زوال کی پیش گوئیاں! - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Tuesday, January 13, 2015

امریکی زوال کی پیش گوئیاں!

امریکی زوال کی پیش گوئیاں!
سال 2020 تک امریکا موجودہ شکل میں نہیں رہے گا۔ یہ پیش گوئی مغرب کے سب سے ممتاز سیاسی تجزیہ کار جان کالٹنگ نے اپنی کتاب THE FALL OF US EMPIRE میں کی ہے۔
جان کالٹنگ دنیا بھر خصوصا مغرب میں ایک مفکر، ذہین و ہوشیار رائٹر اور عالمی شہرت و اہمیت رکھنے والے مصنف کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔
جس چیز کی وجہ سے انہوں نے عالمی شہرت پائی ہے، وہ ان کی کچھ پیش گوئیاں ہیں، جو سچی ثابت ہوئی ہیں۔ اسّی کی دہائی میں سوویت یونین کے حوالے سے انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ نوے کی دہائی میں سوویت یونین بکھر جائے گا اور کئی ممالک اس سے الگ ہوکر نئی جنم لیں گے۔ دنیا نے دیکھا کہ سوویت یونین واقعی تباہ ہوگیا اور دنیا کے کئی ممالک اس سے الگ ہوکر آزاد ہوگئے۔ انہوں نے دوسری پیش گوئی یہ کی تھی کہ اکیسویں صدی میں عربوں کی آمرانہ حکومتیں گرادی جائیں گی۔ آج کل عرب ممالک کی حالت ہمارے سامنے ہے۔ جان کالٹنگ نے دیوار برلن کے حوالے سے بھی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرقی اور مغربی برلن پھر سے ایک ہوجائیں گے اور برلن کی دیوار گر جائے گی۔ بعد میں دنیا نے مشرقی اور مغربی برلن دونوں ایک ہوتے ہوئے دیکھا۔ حال ہی میں جان کالٹنگ نے ایک اور پیش گوئی کی ہے۔ وہ لکھتا ہے 2020 تک امریکا موجودہ شکل میں نہیں رہے گا دنیابھر کے سنجیدہ طبقے اس پیش گوئی کو نظر انداز نہیں کرتے۔ اسے حیرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عالمی امور کے ماہرین اور تجزیہ کار جان کالٹنگ کے اس نظریے کے محرکات اور دلائل کی تلاش میں ہیں۔ وہ اس سلسلے میں امریکا کی ظالمانہ جنگی پالیسیوں اور خود امریکا کے اندر سفید فاموں اور سیاہ فاموں کے ٹکراؤ کو قوی اور واضح محرکات کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے جان کالٹنگ کے نظریے کو نظر انداز نہیں کررہے، بلکہ اس پر غور وخوض کررہے ہیں۔
امریکا بڑے عرصے سے ساری دنیا کی فتح کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے لیے وہ عملی جنگ میں مصروف ہے۔ اس سے قبل بھی کئی ممالک جاپان، ویت نام، روس، لیبیا، فلسطین، اردن، چین، صومالیہ، شام، شمالی کوریا، مصر، سوڈان، انڈونیشیا، عراق اور افغانستان ایسے ممالک ہیں، جو یا تو براہ راست امریکی جارحیت کا نشانہ بنے ہیں یا سیاسی مداخلت کے ذریعے امریکی مظالم کا شکار ہوئے ہیں۔ خلیج ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق امریکا کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے دنیا بھر کی آبادی کے چار حصے امریکی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ امریکا کی اندرونی آبادی کا بڑا حصہ امریکا کے ظالمانہ جرائم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔
امریکا میں حالیہ علیحدگی پسند تحریکوں کا اٹھنا بھی امریکی پالیسیوں کا رد عمل ہے۔ جان کالٹنگ کی پیش گوئی کے مطابق 2020 تک یہ تحریکیں امریکا کی جغرافیائی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کریں گی۔ 2012 میں اوباما کے دوبارہ صدر بننے پر لوزیانا ریاست کے 13 ہزار افراد نے امریکا سے علیحدگی کے لیے عدالت کو درخواست دی تھی۔ انہوں نے امریکا سے الگ ملک کے طور پر اپنے لیے ریاست کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔ لوزیانا کے لوگوں کے مطالبے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ دیگر ریاستوں میں بھی امریکا سے آزادی کی آوازیں اٹھنے لگیں۔ عدالتوں کو درخواستیں دی جانے لگیں۔ اب تک وہائٹ ہاوس سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے ریاستوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔ امریکی آئین کے مطابق جو بھی ریاست آزادی مانگےاورایک ماہ کے دوران اس ریاست کے 25 ہزار افراد آزادی کے مطالبے پر دستخط کردیں تو امریکی صدر کی ذمہ داری ہے کہ ان کے مطالبے پر غور کرے۔ اس شرط کو پورا کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
جن ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں، وہاں دستخطوں کی کمپین تکمیل کے قریب ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ امریکا سے اپنی ریاستوں کی آزادی کے لیے ایک دوسرے کو تیار کررہے ہیں تاکہ آئندہ کسی مہینے میں دستخط مہم کا سلسلہ شروع کیا جاسکے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا کے اکثر لوگ حکومتی پالیسیوں کے مخالف ہیں۔ آزادی پسندوں کا اعتراض ہے کہ امریکی حکومت بجائے اس کے کہ عوام کے پیسے عوام پر خرچ کرے، اسے دنیا پر قبضے اور جارحیت پر خرچ کررہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ امریکی عوام ایک مضبوط قوم ہے۔ انہیں ذرائع ابلاغ اور دیگر ذرائع سے معلوم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ امریکا دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔ اس پر ڈیڑھ سو کھرب سے زیادہ ڈالر کا قرضہ ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی معیشت زوال کا شکار ہے۔ اسی طرح امریکا کی زیادہ توجہ اب تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے جنگوں پر ہے۔ ماضی کی بہ نسبت بے روز گاری کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی ریاستوں کے اندر اپنے مسائل کم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ساری دنیا پر حکومت کرنے کا بوجھ اپنے سروں پر سوار نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری طرف امریکی جانتے ہیں کہ امریکی پالیسیوں نے ساری دنیا کو آگ کا گولہ بنادیا ہے۔ کوئی امریکی شہری دنیا میں محفوظ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ آزادی پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سب کے بجائے اس بات کو زیادہ پسند کرتے ہیں کہ اپنی ریاستوں کو امریکا سے آزادی دلائیں اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپنے معمول کے رابطوں کا آغاز کریں تاکہ بااعتماد طریقے سے دنیا میں ہر شخص سے لین دین کرسکیں۔
سفید فام اور سیاہ فام کی پرانی رقابتیں ایک بارپھر تازہ ہونے لگی ہیں۔ فریقین کے مطالبات کے درمیان زمین وآسمان کا فاصلہ ہے۔ اوباما کے خلاف ریپبلکن جماعت کی کامیابی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا میں یہ فرق اور امتیاز بڑھ رہا ہے۔ جو شاید عنقریب ایک بڑی خانہ جنگی پر منتج ہو جائے۔ اس کو دیکھتے ہوئے جان کالٹنگ لکھتا ہے: امریکا ایک ایسی بند گلی میں داخل ہوگیا ہے، جہاں سے اسے واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔
موجودہ حالات میں ایک جانب امریکا میں آزادی پسندوں کا مطالبہ شدت پکڑ رہا ہے۔ آزادی پسند ریاستوں میں مضبوط تحریکی آثار نظر آرہے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ وہائٹ ہاوس سے آزادی مانگ رہے ہیں۔ ان کے خلاف جوابی رد عمل بھی شروع ہوگیاہے۔ جو لوگ آزادی چاہتے ہیں ان کی شہریت منسوخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے امریکیوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ امریکا میں بڑے پیمانے پر اسلحے کی خرید وفروخت جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف گذشتہ تین ماہ میں امریکیوں نے تین ملین ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے۔ یہ اسلحہ مستقبل میں امریکی زوال کا ایک طاقت ور طوفان اٹھائے گا۔ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ امریکی زوال کے لمحات اب قریب آگئے ہیں۔ بہ قول جان کالٹنگ 2020 کا انتظار کریں۔
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: امریکی زوال کی پیش گوئیاں! Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today