ISLAMIC VIDEOS TUBE: Paris Magazine Attack Paris Magazine Attack - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, January 10, 2015

Paris Magazine Attack

پیرس میں توہین آمیز خاکے چھاپنے والے رسالے کے دفتر پر حملہ ہوا‘ بارہ چودہ افراد مارے گئے۔ اس کے بعد سے ملک میں مسلمانوں سے تعصّب کی لہر اور بھی تیز ہوگئی ہے اور مسجدوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ فرانس کی قوم پرست جماعتیں پہلے ہی ’’زینوفوبیا‘‘ کو ’’اسلام فوبیا‘‘ میں تبدیل کر چکی ہیں اور اس نوع کے تبصرے اور بیانات آتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کی وجہ سے فرانس کا کلچر خراب ہو رہا ہے۔ اس حملے سے اس نفسیات کو مزید بڑھاوا مل گیا۔ جب امریکہ اپنے طیّاروں سے مسلمانوں کے شہر برباد کرتا ہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ عیسائی مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں (حالانکہ مشرف کا پیرومرشد بش کہہ چکا تھا کہ اس نے صلیبی جنگ شروع کی ہے) لیکن چند افراد کے حملے کو فرانس میں مسلمانوں کا حملہ بتایا جا رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ معافی مانگیں۔ قطر کے اخبار ’’الانابہ‘‘ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ مسلمانوں کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔
اتفاق سے انہی دنوں فرانس میں ایک کتاب خوب فروخت ہو رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ2022ء میں فرانس پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ یہ ملک کے سب سے مشہور ادیب مشل ہولے بیک نے لکھی ہے اور اس میں فرانس کے عوام کو بے حس کہا گیا ہے جو اسلامی یلغار کے سامنے سپر انداز ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی سائنسی تجزئیے پر مبنی کتاب نہیں ہے۔ بلکہ طنز کے ذریعے فرانسیسی عوام کو اُکسانے کی کوشش ہے کہ وہ مسلمانوں کییلغار روکیں ۔یہ عین مین وہی تکنیک ہے جو بھارت میں بی جے پی اور سنگ پریوارSangh Parivarکی دوسری جماعتوں نے پہلے ہی چلا رکھی ہے کہ مسلمان زیادہ بچّے پیدا کرتے ہیں‘ وہ جلد ہی بھارت پر قبضہ کر لیں گے‘ حکومت ان پر پابندیاں لگائے اور ہندو جوڑے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے چار چار بچّے پیدا کریں۔ حالانکہ نہ تو بھارتی مسلمانوں میں شرح پیدائش اتنی زیادہ ہے کہ وہ جلد اکثریت میں آجائیں گے نہ فرانس میں ایسا خطرہ ہے۔ فرانس کی دس فیصد سے بھی کم آبادی مسلمان ہے۔ ساڑھے چھ سات کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں مسلمان زیادہ سے زیادہ 70-65 لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔ (اور جیسا کہ ہر جگہ ہوتا ہے فرانس کی جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب60فیصد ہے‘ یعنی اپنی آبادی کے تناسب سے چھ گنا سے بھی زیادہ مسلمان قیدی ہیں)۔
فرانس کے یہ مسلمان زیادہ تر باہر سے آئے ہیں یعنی الجزائر‘ لیبیا اور شمالی افریقہ کے مسلمان ملکوں کے تارکین وطن ہیں۔ نو مسلم کم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نئی قانون سازی کی سوچ پل رہی ہے جس کے تحت مزید تارکین وطن کو روکا جائے گا۔
مشل بیک کے برعکس ایک صحافی نے قدرے نرم کتاب لکھی ہے۔ ایرک زموراس صحافی کا نام ہے جس نے ’’لاسوسائڈ فرانسیسیا ‘‘(فرانس خودکشی کرتا ہے) نامی ناول میں بتایا ہے کہ دراصل اسلام اخلاقی طور پر زیادہ پر اعتماد مذہب ہے اس لئے فرانس اس سے شکست کھا رہا ہے۔ یہ ناول بھی منفی بنیاد پر لکھا گیا ہے لیکن اس میں اس سچائی کا اعتراف ہے کہ فرانس (یامغرب) کی اخلاقیات اسلام کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ مشل ہولے بیک نے اخبار لی فگارو کو انٹرویو دیتے ہوئے دواور باتوں کا اعتراف بھی کیا۔ ایک اس نے یہ کہا کہ روشن خیال حضرات دماغی خلا کا شکار ہیں (پاکستان کے خالی دماغ یعنی روشن خیال کیا فرماتے ہیں۔۔۔؟) اور ان سے تو اسلام بہتر ہے اور دوسرا یہ کہ میں نے قرآن کو دوسری بار پڑھا تو اسے خاصا اچھا پایا۔۔۔(کیا پاکستان کے روشن خیال بھی اس نظریہ سے ہی سہی‘ ایک بار قرآن پڑھنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟)کیا پتہ مشل تیسری بار قرآن پڑھیں تو وہ اس کی ساری اچھائی سمجھ لیں۔ ایسا کتنوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ البتہ پاکستانی روشن خیالوں کے بارے میں ایسا گمان ممکن نہیں۔ ان کے ہاں اس باب میں تو بس۔۔۔ ساری کھڑکیاں بند ہیں۔
معروف کالم نگار عبداللہ طارق سہیل
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments
Item Reviewed: Paris Magazine Attack Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today