ISLAMIC VIDEOS TUBE: نماز میں نیت کرنے کے مسائل سیکهئے نماز میں نیت کرنے کے مسائل سیکهئے - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Monday, February 9, 2015

نماز میں نیت کرنے کے مسائل سیکهئے

{ نماز میں نیت کرنے کے مسائل سیکهئے }
=========================
سوال 1: امام کے ساتھ نماز باجماعت میں بھی اگر وقت پکارنے میں غلطی کر بیٹھے، یعنی وقت ظہر کا ہے اور جماعت میں شامل پہلی رکعت میں رکوع سے قبل شامل ہوگیا ہے، لیکن وقت ظہر کے بجائے وقت عصر کہہ کر جماعت میں شامل ہوا، اس صورت میں اب یہ نمازی کیا کرے گا؟ اس کی یہ نماز ہوگئی یا وہ دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
جواب: نیت دِل کا فعل ہے، اگر دِل میں ارادہ ظہر کی نماز پڑھنے کا تھا، مگر غلطی سے ظہر کی جگہ عصر کا وقت زبان سے نکل گیا تو نماز صحیح ہوگئی۔
--------------------------------------------------------
سوال 2: کیا زبان سے نماز کی نیت کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟
جواب: زبان سے نماز کی نیت کے الفاظ کہنا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ ائمہ متقدمین سے، اس لئے اصل نیت دِل ہی کی ہے، مگر لوگوں پر وساوس و خیالات اور افکار کا غلبہ رہتا ہے جس کی وجہ سے نیت کے وقت دِل متوجہ نہیں ہوتا، دِل کو متوجہ کرنے کے لئے متأخرین نے فتویٰ دیا ہے کہ نیت کے الفاظ زبان سے بھی ادا کرلینا بہتر ہے، تاکہ زبان کے ساتھ کہنے سے دِل بھی متوجہ ہوجائے۔
نیت اصل میں دِل کے قصد و ارادے کا نام ہے، اور زبان سے محض اس قصد کی ترجمانی کی جاتی ہے، پس اگر دِل میں دھیان مثلاً: ظہر کی نماز کا تھا، مگر زبان سے عصر یا عشاء کا لفظ نکل گیا، تو نماز صحیح ہے، اور اگر دِل میں دھیان ہی نہیں تھا تو نماز کی نیت باندھ کر نماز نئے سرے سے شروع کردے.
نیت دِل سے ہوتی ہے، یعنی دِل میں یہ دھیان جمالینا کہ فلاں وقت کی نماز پڑھ رہا ہوں، زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں، تاہم اگر زبان سے کہہ لے خواہ کسی زبان سے کہے، جائز ہے۔
====================================
* کتاب ، آپ کے مسائل اور انکا حل * نیت *
حضرت مولانا محمد یوسف لدهیانوی شهید رحمه الله
استاد: الجامعته العلوم الاسلامیه علامه محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی، پاکستان.
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: نماز میں نیت کرنے کے مسائل سیکهئے Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today