ISLAMIC VIDEOS TUBE: دعوت خلافت اور منہج رسول ﷺ | قسط نمبر 3 دعوت خلافت اور منہج رسول ﷺ | قسط نمبر 3 - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Sunday, March 1, 2015

دعوت خلافت اور منہج رسول ﷺ | قسط نمبر 3

قسط نمبر 3 
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دعوت کے چند بنیادی اصول :::
1- مخاطبین تک بات پہنچانے کے مواقع تلاش کرنا:
داعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے موقع کی تلاش میں رہے جب لوگ اس کی دعوت کو سننے کے لئے متوجہ ہوں۔ مناسب موقع پر کی گئی بالکل سادہ اور عام سی بات بھی مخاطب پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے، جبکہ بے محل اور غیر مناسب وقت میں بہت علمی بات بھی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اس طرح بعض مرتبہ حق بات غلط موقع پر بیان کی جائے تو دعوت کو فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچا دیتی ہے۔ سمجھنے کے لئے چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں!
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعوت:
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس وقت دعوت دی جب ساری قوم آُ کی طرف متوجہ تھی ۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑ دیا او کافروں کے قائدین نے آپ علیہ السلام کو سب کے سامنے لا کھڑا کیا اور پوچھا کہ اے ابراہیم! ہمارے معبودوں کا یہ حال تم نے کیا ہے؟
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا:

كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ (الانبیاء-63)
ترجمہ: یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے، سو تم لوگ ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہوں۔

ایک آدمی کے لئے ایسے سنہری موقع کبھی کبھی آتے ہیں جب اس کے تمام مخاطب پوری توجہ کے ساتھ اس کے ہونٹوں کی جنبش تک کو محسوس کر رہے ہوں۔ لہذا داعی ایسے وقت میں اپنی مکمل دعوت کو کس خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے، یہ اُس داعی کی بصیرت اور توفیق الہٰی ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت خلیل علیہ السلام کا یہ مختصر جملہ مخالف کفار پر اس کلہاڑی کے وار سے زیادہ بھاری تھا جس سے آپ علیہ السلام نے ان بتوں کو توڑا تھا۔ اس جملے نے صرف عوام میں ہی نہیں بلکہ ان کے قائدین میں بھی کھلبلی مچادی اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اپنی قوم کے سامنے اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ، جس کو عام حالات میں کبھی بھی تسلیم نہ کرتے، کہنے لگے:
لَــقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰٓـؤُلَاۗءِ يَنْطِقُوْنَ (الانبیاء-65)
ترجمہ: تم تو جانتے ہو یہ بت بول نہیں سکتے۔

ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَـيْــــًٔا وَّلَا يَضُرُّكُمْ - اُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (الانبیاء-66،67)
ترجمہ: اللہ کے خلیل نے فرمایا تو کیا تم اللہ کے علاوہ اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کوئی فائدہ دے سکتا ہے نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمہارے معبودوں پر! کیا تمہیں عقل بھی نہیں ہے۔

فائدہ:
اس واقعہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ داعی ایسے موقع کی تلاش میں رہے جب لوگ اس کی بات کو سننا چاہ رہے ہوں ، ورنہ اگر اس نے ایسے موقعوں کو گنوا دیا تو بقول شاعر:
زمانہ بڑے غور سے سُن رہا تھا،
ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے !

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں جب معجزہ دکھایا تو فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے، لہذٰا میں بھی تمہارے مقابلے میں اپبے جادوگر لاؤں گا، کوئی وقت طے کر لو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُـحًي (طہٰ-59)
ترجمہ: فرمایا تمہارے وعدے کا دن جشن کا دن ہے اور جب دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔

فائدہ:
سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس موقع پر ایک بات کو ترجیح دی وہ یہ کہ لوگ زیادہ سے زیادہ جمع ہوں۔ اسی لئے آپ نے جشن کا دن چُنا کیونکہ جشن کے دن ان کا میلہ ہوتا تھا اور اس دن بھی آپ نے ایسا وقت پسند کیا جب سب لوگ میلے میں آ چکے ہوں ، تاکہ سب کے سامنے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہو جائے۔ مقتدر طبقہ ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ حق کی دعوت کو عوام الناس تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ لہٰذا داعی کو یہ سوچتے رہنا چاہئے کہ وہ اپنی بات کو کس طرح عوام تک پہنچائے۔
آج بھی دعوتی میدان میں سرگرم مجاہدین کو ایسے موقعوں کی تلاش میں رہنا چاہئے جب وہ اپنی دعوت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکیں۔
اس کی ایک اور مثال حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے جب آپ نے جیل میں موجود قیدیوں کو اس وقت دعوت دی جب قیدی آپ علیہ السلام سے خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے آئے تھے۔
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: دعوت خلافت اور منہج رسول ﷺ | قسط نمبر 3 Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today