ISLAMIC VIDEOS TUBE: اللہ کو گالی دینے والے کے سلسلے میں راجح قول اور گالی کی اقسام اللہ کو گالی دینے والے کے سلسلے میں راجح قول اور گالی کی اقسام - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Friday, March 6, 2015

اللہ کو گالی دینے والے کے سلسلے میں راجح قول اور گالی کی اقسام

اللہ کو گالی دینے والے کے سلسلے میں راجح قول اور گالی کی اقسام
اور سچائی یہ ہے کہ: جس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی، اسے قتل کرنا ضروری ہے اور اس سےتوبہ نہیں کروایا جائے گا، اور اُسکی توبہ اللہ کے حوالے ہے جس سے وہ اپنی باطن کے ساتھ ملاقات کرے گا، اور اللہ اسکے ساتھ عدل ،یا عفو سے معاملہ کرے گا۔
اور جس شخص نے اللہ کو گالی دی اور توبہ کرلیا ،اور اسے طلب کرنے اور اس پر قدرت پانے سے پہلے اپنی توبہ کا اظہا رکردیا ، تو اسکی سچائی ظاہر ہونے کی بنا پر اسکی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور اسکا حکم ان کافروں کے جیسا ہے جو رضامندی سے اسلام میں داخل ہوتے ہیں ، بھلے ہی وہ اپنے اسلام قبول کرنے سے پہلے اللہ کو بُرا بھلا کہنے پر متفق تھے۔ا

اللہ کو گالی دینا دو طرح سے ہے:
پہلا: ظاہر اور واضح طور پر گالی دینا(ڈائرکٹ گالی دینا):
جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو لعن طعن کرنا، اسکی برائی کرنا، اسکا مذاق اُڑانا، اسکے اندر عیب اور کمی نکالنا ؛ تو ایسے شخص پر گذشتہ سبھی احکام نافذ ہوں گے، اور جب علماء اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے احکام کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہی مُراد ہوتی ہے۔

دوسرا: غیر ظاہری طور پر گالی دینا (بالواسطہ گالی دینا ):
جیسے کہ اللہ کی ان نشانیوں اور مخلوقات کو گالی دینا جن میں وہ تصرّف کرتا ہے، اور جنکی انسانی اختیارات وکمائی کی طرح، کوئی اختیارات اور کمائی نہیں ہوتی ہے،
جیسےزمانہ،دنوں،گھنٹوں،سکنڈوں،مہینوں،سالوں،ستاروں اور انکی گرش وغیرہ کو گالی دینا، تو اس پر گالی دینے والے کے کُفر، اسے قتل کرنے کے حکم وغیرہ کے بارے میں سابقہ احکام عائد نہ ہوں گے،مگر یہ واضح ہوجائے کہ اس نے انہیں چلانے اور جاری کرنے والے کا قصد کیا ہے، اور واضح طور سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو مراد لیا ہے۔
صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘اللہ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے،وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے،جبکہ زمانہ میں ہی ہوں،میرے ہاتھ میں تمام امورہیں، میں ہی دن اوررات کو پھیرتا ہوں (صحیح بخاری: 4826،7491) ،(مسلم:2246)۔
اور دوسری روایت میں یہ ہے:
‘‘ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے زمانے کی ناکامی؛ تو تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے: کہ ہائے زمانے کی بربادی؛کیونکہ زمانہ میں ہی ہوں ،میں ہی اس کے رات اور دن کو پھیرتا ہوں، اور جب میں چاہوں گا تو اسے سمیٹ لوں گا ( صحیح مسلم:2246)
اور ستارے جیسے سورج چاند ،اور اور انکے آثار جیسے رات اوردن اور زمانے، مجبور ہیں خود مختار نہیں ہیں،اور اللہ وحدہ کے ارادہ سے خارج نہیں ہوتے ہیں، اور نہ ہی انکی کوئی مشیئت ،اختیار اور کمائی ہے، انہیں صر ف کونی امور کا ہی حکم دیا جاتا ہے ، انہیں اس سے باہر نکلنے کا حق نہیں ہے۔
اسلئے ان چیزوں کا گالی دینا اور بُرا بھلا کہنا، انکے چلانے والے اور انہیں حکم دینے والے اللہ سبحانہ کی ذات پر زیادتی کرنا ،اور اسمیں اسکے ارادے اور حکمت پر اعتراض ظاہر کرنا ہے۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے زمانےکو گالی دینے کو لازمی طور پر اپنا گالی دینے والاٹہرایا ہے!
اور انسان کو گالی دینے کو اپنے گالی دینے کی طرح نہیں بنایا ہے، کیونکہ
انسان کو مشیئت اوراختیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے

  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: اللہ کو گالی دینے والے کے سلسلے میں راجح قول اور گالی کی اقسام Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today