ISLAMIC VIDEOS TUBE: آپ کو کوئی حق نہیں! آپ کو کوئی حق نہیں! - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Sunday, March 15, 2015

آپ کو کوئی حق نہیں!

ضرور پڑھیے، بہت اہم ہے۔

آپ کو کوئی حق نہیں!

سیکولر اور لبرل ذہن کے طبقہ نے کافی مکاری اور دجل و فریب سے مسلم امت میں گمراہی پھیلانے اور مسلمانوں اور اسلام کی قوت کو توڑنے کے لئے کام کیا ہے۔ چنانچہ اسی ضمن میں انہوں ایسے کئی جملے میڈیا وغیرہ کے ذریعہ بہت زیادہ اور بار بار دھرائے ہیں کہ جو آج ہر لا علم نوجوان کی زبان پر ہوتے ہیں بلکہ بڑے بوڑھے بزرگ حضرات بھی ان کی چرب زبانی سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اور جب بھی کوئی دیندار شخص اپنے خاندان میں یا کسی بھی موقع پر جیسے کہ ٹاک شوز وغیرہ میں یا کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے یا ایمان و اعمال کی اصلاح کی نیت سے سمجھاتے ہیں تو وہاں موجود ایسے سیکولر اور لبرل ذہنیت کے مریض فوراً ان جملوں کی رٹ لگاتے ہیں:

1۔ "آپ کو کسی نے کسی کے معاملات میں، اس کی زندگی میں دخل کا حق نہیں دیا۔"

2۔ "آپ کون ہوتے ہیں کسی کو کافر یا مسلمان یا منافق یا مرتد وغیرہ کہنے والے۔"

3۔ "ہر کسی کو اپنی قبر میں جانا ہے، ہر کوئی خود اپنا حساب دے گا، آپ کو کوئی ضرورت نہیں کسی کو کچھ کہنے کی۔"

4۔ "یہ میرا  اور اللہ کا معاملہ ہے، آپ کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے۔"

5۔ "آپ کسی کو گناہ گار یا  کافر نہیں کہہ سکتے، کیا پتہ اللہ کو اس کا کونسا عمل پسند آ جائے، کیا معلوم کہ کافر مسلمان ہو جائے۔"

"آپ کون ہوتے ہیں کسی کو کچھ کہنے والے، کیا آپ نیک پارسا  ہیں؟ کیا آپ تمام گناہوں سے بچتے  ہیں؟ کیا آپ مکمل دین پر عمل کرتے ہیں؟ جب خود نہیں کرتے تو دوسروں کو کیوں کہتے ہیں؟"

آئیے ان بے معنی اور گمراہ کن اشکالات و شبہات کا جائزہ قرآن کریم  و احادیث کی روشنی میں لیتے ہیں:
اللہ رب العزت اور اس کے رسول ﷺ نے اہلِ ایمان کے درمیان ایک ایسا خوبصورت رشتہ قائم کیا ہے کہ جس کی نظیر کسی دوسرے دین و تہذیب میں نہیں ملتی۔ چاہے قبائلی نظام ہو، یا قومی نظام، چاہے وطن پرستی ہو یا نسل پرستی ہر ہر تہذیب میں خودغرضی کا نظریہ واضح پایا جاتا ہے، یعنی میری قوم، میرا وطن، میرا قبیلہ، میری نسل ہی میرے اپنے ہیں باقی سب غیر ہیں، اور میرا محبت، فکر، غم، خوشی وغیرہ کا انہی سے رشتہ ہے اور کسی سے نہیں بلکہ جو بھی میری قوم کا دشمن وہ میرا دشمن (چاہے وہ مسلمان ہو)، جو میرے وطن کا دشمن وہ میرا دشمن (چاہے اہلِ ایمان ہو)۔
مختصر یہ کہ اسلام نے مسلمانوں کو ایک ایسا پاکیزہ و مضبوط رشتہ فراہم کیا جس کی بنیاد پر دنیا بھر کے تمام مسلمان وہ ایک جسم کی مانند ہیں۔ جس کو مواخات اور عقیدۃ الولاء والبراء کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ جس کی تفصیل قرآن و حدیث کی روشنی میں درج ذیل ہے:

”إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوْا بَیْنَ اَٴخَوَیْکُمْ“۔ (الحجرات:۱۰)
ترجمہ:۔”ا س کے سوا نہیں کہ اہلِ ایمان تو (آپس میں) بھائی بھائی ہیں، پس (اگر کوئی نزاع ہوجائے تو) اپنے بھائیوں کے درمیان صلح صفائی کرادو“۔

”المسلم أخو المسلم لایخذلہ ولایکذبہ ولایظلمہ“۔(ترمذی،ج:۲،ص:۱۴)
ترجمہ:۔”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس کا ساتھ چھوڑتا ہے، نہ اس کو جھٹلاتا ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے“۔

”المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضاً“۔ (بخاری،ج:۲،ص:۸۹۰)
ترجمہ:۔”مسلمان مسلمان کے لئے عمارت (کی اینٹوں) کی طرح ہے، ایک دوسرے کو مضبوط رکھتا ہے“۔

جب "رشتہِ اخوت" سمجھ آ گیا تو بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ  کیا کوئی  بھائی ہے جو چاہے گا کہ اس کا بھائی ناکام ہو جائے؟ اس کا بھائی سزا کاٹے؟ اس کا بھائی آگ میں جلے؟ لاکھ اختلاف سہی مگر کیا کوئی سگا بھائی چاہے گا کہ اس کا بھائی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے برباد ہو جائے؟ ایک مخلص بھائی اگرچہ وہ خود کسی فعل میں باصلاحیت نہ ہو (مراد: نیک اعمال صحیح طور پر نا کرتا ہو، گناہوں سے نہ بچ پاتا ہو) لیکن کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کا بھائی بھی ویسا ہی رہے؟ بلکہ عقلمند شخص خود بھی عمل کی کوشش کرے گا اور اپنے بھائی کی بھی اس میں مدد کرے گا۔
اس کے علاوہ:
کبھی عقلی طور سے سوچا جائے تو گلوبل ولیج میں یہ کچھ عامیانہ سی حرکت نظر آتی ہے۔ اور اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ یہ ناصحانہ انداز صرف مسلمانوں میں ہی کیوں؟ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ پہلے خود اپنے اعمال درست کئے جائیں پھر دوسروں کو نصیحت کی جائے جیسا کہ آیتِ ربانی ہے :
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُون
کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو ، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
( البقرة:2 - آيت:44 )

مگر ۔۔۔۔۔۔
کیا یہ "شرط" ضروری ہے کہ : پہلے خود کی اصلاح کر لی جائے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کی جائے؟
اگر دوسروں کی اصلاح کے لیے ایسی شرط کا پورا کرنا پہلے لازم قرار دے دیا جائے تو ۔۔۔۔۔ تو پھر ہوگا یہ کہ ہم کسی کو بھی "فریضۂ احتساب" ادا کرنے والا نہ پائیں گے اور اس طرح اسلام کا ایک عظیم فریضہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" معطل ہو کر رہ جائے گا !!

علمائے امت نے اس بات کو نہایت واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔
حضرت سعید بن جبیر (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
اگر کوئی شخص اس وقت تک نیکی کا حکم نہ دے ، اور برائی سے نہ روکے ، جب تک خود اس میں کوئی (برائی) نہ رہے ، تو (پھر تو) کوئی شخص نیکی کا حکم نہ دے سکے گا اور برائی سے نہ روک سکے گا۔
امام مالک (رحمة اللہ علیہ) قولِ بالا پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اور انہوں (سعید بن جبیر) نے سچ کہا ، وہ کون ہے جس میں کوئی چیز (خرابی) نہیں؟"
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44

اور امتِ مسلمہ کی خصوصیت بھی قرآن میں کچھ یوں بیان کی گئی:
"تم بہترین امّت ہو جو لوگوں کے فائدے کیلئے نکالے گئے ہو تم نیکی کی تلقین کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور  الله تعالی پر ایمان رکھتے ہو".
آل عمران: 110

اس تفصیل کے نتیجہ میں مذکورہ اشکالات کا جواب تلاش کرتے ہیں:

جواب نمبر 1۔ نہیں ایسا نہیں ہے! ہمیں حق کے ساتھ ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ ہم نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں اور برائی سے روکنے کے بھی ایمانی درجے بیان کیے گئے ہیں، یعنی اگر قوت سے روک سکیں تو قوت سے روکیں، ورنہ زبان سے، نہیں تو کم از کم دل میں اس برائی کو برا جانیں۔

جواب نمبر 2۔ ہم کسی کو اپنی طرف سے کافر یا مرتد یا منافق وغیرہ نہیں کہہ رہے، بلکہ شریعت نے ایمان اور اسلام کے جو اصول بیان کئے ہیں ہم اس کی روشنی میں بتا رہے ہیں کہ کس عقیدے کا شخص مسلمان ہے اور کس عقیدے کا شخص کافر ہے، ہم کسی کو کافر و منافق بنا نہیں رہے بلکہ کفر کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ کوئی مسلمان کفر کو معمولی سمجھ کر کفر اختیار نہ کرے اور جس نے کفر کا ارتکاب کیا وہ ہوشیار ہو جائے کہ اس سے کفر ہوا اور پھر سے ایمان لے آئے، اور اگر ایمان نہیں لاتا تو بھی خبردار رہے کہ اس کے کفر سے مسلمان گمراہ نہیں ہوں گے کیونکہ اس کے کفر کو کفر کہا جا رہا ہے، لہٰذا وہ اپنے کفر کو اسلام کا نام نہیں دے سکتا۔
 اس کے علاوہ اسلام ایک باقاعدہ  دین و مذہب ہے جس کے متعدد عقائد  اور اصول ہیں: جن کو مان کر ایک شخص مسلمان اور انکار کرکے کافر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن و احادیث کی روشنی  میں ایسے اصولوں اور عقائد کو بیان کیا گیا کہ جو کفر و اسلام میں فرق کرتے ہیں اور ایسی علامات کو صراحتاً ارشاد فرمایا جو کہ نفاق میں مبتلاء کرنے والی ہیں۔

جواب نمبر3۔ ہر کسی کو اپنی قبر میں جانا ہے، لیکن والدین سے ان کی اولاد کی پرورش کی بابت روزِ حشر سوال ہوگا، میاں سے بیوی کے متعلق سوال ہوگا یعنی اللہ تعالٰی نے بعض کو بعض پر ذمہ دار بنایا ہے، اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا مسلمانوں کو بھائی بھائی بنایا ہے اور ایک دوسرے کے ایمان کی فکر کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے ضرورت ہے سمجھانے کی۔

جواب نبمر 4۔ یہ سوال؛ سوال نمبر تین کے مترادف ہے، اس کا وہی جواب ہے جو سوال نمبر تین کا ہے۔ مختصر یہ کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنا پر آپ کو حق کی دعوت دی جائے گی اور باطل سے روکا جائے گا۔

جواب نمبر 5۔ گناہگار کو اس غرض سے گناہگار کہنا کہ مقصود اس کی اصلاح ہو اور اس کے گناہ کی نشاندہی کرنا ہو؛ درست عمل ہے، یہ ایک غیر حتمی بات ہے کہ اس کا کوئی عمل اللہ کو پسند آ جائے، اس بنیاد پر اس کی اصلاح کی کوشش نہ کرنا بیوقوفی و بے وفائی ہے۔
کافر کو کافر اگر اس لئے نہ کہا جائے کہ وہ کبھی مسلمان ہو سکتا ہے تو پھر تو مسلمان کو بھی مسلمان کہنا غلط لازم آتا ہے کہ کیا پتہ وہ کب کافر ہو جائے؟
البتہ قرآن الکریم کا اللہ تعالیٰ کے کلام کا اسلوب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے کافروں کو کافر (کہہ کر مخاطب کرنے کا) کہہ رہے ہیں۔ نیز  نبی کریم ﷺ سے ان (کافروں) کے تمام معبود سے برائت کا اعلان کروا رہے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
ترجمہ : (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) ) ان منکران اسلام سے کہہ دو کہ اے کافرو!
تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ :
مشرکین الگ اور موحدین الگ:
اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں۔
اس کے علاوہ احادیث ِ مبارکہ میں بھی کفار کی ہجو (برائی ) بیان کرنے کا حکم ملتا ہے، ملاحظہ فرمائیے :
حضرت براء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مشرکین کی ہجو کرو! جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔ صحیح بخاری۔  حدیث نمبر:۵۷۴۴
تحریر مزید ضخیم نہ ہو اس لیے اسی پر اکتفا کرتی ہوں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
شیئر کرنا نہ بھولیے! فجزاکم اللہ خیرا۔


  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: آپ کو کوئی حق نہیں! Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today