ISLAMIC VIDEOS TUBE: علم غیب عطائی کی وضاحت علم غیب عطائی کی وضاحت - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Sunday, March 8, 2015

علم غیب عطائی کی وضاحت

ایک سوال: اللہ کے نبی کو عطائ علم غیب تھا بول سکتے یا نهیں؟
جواب: اول تو " علم غیب " کی تعریف جانیئے! ___ " جو چیز آنکهوں سے غیب هو اور دل میں اس کا اقرار هو وه غیب هے "
* کل ماغاب عن العیون وکان محصلاََ فی القلوب فهو غیب ...... فقه الغته الباب اول فی الکلیات *
علم غیب درحقیقت اس علم کو کہا جاتا ہے جو سبب طبعی کے واسطہ سے نہ ہو بلاواسطہ خودبخود ہو۔ انبیاءعلیہم السلام کو بذریعہ وحی اور اولیاء کو بذریعہ الہام جو باتیں اور علوم حاصل ہوجائیں تو وہ علم غیب نہيں بلکہ انباءالغیب ہیں۔
لہذا اس سے معلوم ہوا کہ علم غیب صرف اور صرف اللہ تبارک کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ جیسے کہ اللہ تبارک کا فرمان ہے ”وما یعلم الغیب الا اللہ “
کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ کو ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کا علم بغیرکسی واسطہ کے ہے۔( معارف القرآن )
اور آپﷺ کا علم بذریعہ وحی ہے۔ جسکو علم غیب نہيں کہ سکتے۔ اور جب آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا علم “”علم غیب “” نہیں تو آپ کو کسی صورت عالم الغیب نہیں کہ سکتے ہیں۔
-------------------------------------------------------
( علم غیب عطائی کی وضاحت )
-------------------------------------
بعض حضرات کهتے هیں که الله نے نبی صلی الله علیه وآله وسلم کو علم الغیب عطائی کلاََ دیا هے !!

لیکن علم غیب عطائی چاهے کلاََ هو یا جزءََ اس کو " علم غیب " نهیں کهتے.
اور سوال یه هے که نبی صلی الله علیه وآله وسلم کی کون سی صفت ذاتی هے ؟ آپ صلی الله علیه وآله وسلم کا وجود مبارک ذاتی هے یا عطائی ؟ اگر عطائی هے تو آپ نے " لستُ بموجودِِ " که کر ذاتی وجود کی نفی کیوں نه کی ، آپ صلی الله علیه وسلم کی رسالت ذاتی هے یا عطائی ؟
اگر عطائی هے تو " لست برسول " فرماتے اور ذاتی رسول کی نفی فرماتے.
قرآن کریم آپ کو ذاتی طور پر حاصل هوا یا عطیه خداوندی هے ؟

اسی طرح سے آپ صلی الله علیه وآله وسلم کا کی باق صفات ، اخلاق کریمانه سب اگر عطائی هیں تو آپ نے کسی کی بهی نفی کیوں نه کی الغرض جب آپ صلی الله علیه وآله وسلم کا وجود مبارک هی ذاتی نهیں بلکه عطائی هے تو موصوف عطائی کی کوئی صفت ذاتی نهیں هوسکتی بلکه یه فرق سوائے ساده لوح مسلمانوں کی آنکهوں میں دهول جهونکنے کے علاوه کچه نهیں
_______________________________
* قرآن پاک کی آیات " علم غیب عطائی " کی نفی پر بهی دلالت کرتی هیں *

1: آیت مبارک هے " وما علمنه الشعر وما ینبغی له ، سوره یس " _____ " هم نے آپ صلی الله علیه وسلم کو شعر نهیں سکهایا "
مطلب اس کا یه هوگا که هم نے سکهائے نهیں تو آپ نے سیکها بهی نهیں ، اس کے علاوه " علمنه " تفعیل هے اور تفعیل تدریج پر دلالت کرتا هے که آهسته آهسته بهی نهیں سکهایا لهذا مطلب یه هوگا که آپ کو شعر کا علم دیا نهیں تو آپ کو اس کا علم آیا بهی نهیں .

2: دوسری آیت مبارک " * ولقد ارسلنا رسلاََ من قبلک منهم من قصصنا علیک ومنه من لم نقصص علیک ، سوره المئومن * _____ : آپ سے قبل کئی رسول هم نے بهیجے ان میں سے بعض کے احوال هم نے آپ کو بتائے اور بعض کے احوال آپ کو نهیں بتائے *
نوٹ: جب بعض پیغمبروں کے احوال آپ کو نهیں بتائے گئے تو " علم غیب عطائی " کا دعوی بهی درست نه هوا.
________________________________
هم همارے پیارے نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کے لئے " علم غیب " کے کسی طرح بهی قائل نهیں
" نه کلی نه جزئی " ( اور اگر هم جزئی علم غیب کے قائل هوجائیں تب تو کلی غیب کا عقیده رکهنے والے حضرات کلی مشرک اور هم جزئی مشرک ) باقی " اطلاع الغیب ، انباء الغیب اور اخبار الغیب " یه سب علم غیب نهیں هے!!!
جس چیز کے هم قائل هیں وه " علم غیب " نهیں اور جو " علم غیب " هے هم اس کے " جزئی " هونے کے بهی قائل نهیں هے!
( اس کے علاوه " عطائی علم " کو علم غیب نهیں کهتے، عطائی کو علم غیب کهنا یه صرف شرک کو رواج دینے کے لئے ایک ڈهال هے )

نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کو جو علم آیا وه حضرت جبرائیل علیه السلام کے ذریعه بتایا گیا اور نبی نے اس کو حواس سے حاصل کیا اس لئے وه علم غیب هوا هی نهیں!
( قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا الله .... سوره النمل 65 )
آپ که دیجیئے ( اے محمد صلی الله علیه وسلم ) جو آسمانوں و زمین میں هیں غیب نهیں جانتے مگر صرف الله تعالی .
غیب هوتا هی بلاواسطه هے اور اس کے علاوه فرمایا که مخلوق میں سے کوئی بهی اس کو نهیں جانتا اصلاََ اب آپ بتائیں که نبی مخلوق میں داخل هیں یا نهیں ؟
---------------------------------------------------------------
1: آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے هیں که کب قائم هوگی ؟ آپ فرمادیجیئے اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس هے الله کے سوا اسے کوئی ظاهر نهیں کرے گا... الاعراف:187

2: بعض مدینه والے نفاق پر اڑے هوئے هیں ، آپ انهیں نهیں جانتے هم جانتے هیں... سورته التوبه:۱۰۱له جاننے والا خبردار هے.... سوره لقمن:34
( آیت میں هے " وما تدری نفس " نفس نکره تحت النفی عام هے نبی علیه السلام بهی اس میں شامل هے )

3: بعض مدینه والے نفاق پر اڑے هوئے هیں ، آپ انهیں نهیں جانتے هم جانتے هیں... سورته التوبه:101
( اگر " ماکان ومایکون " کا علم آپ صلی الله علیه وآله وسلم کو هوتا تو آپ لازماََ انهیں جانتے )

4: اگر میں غیب جانتا تو بهت ساری بهلائیاں اکهٹی کرلیتا اور مجهے کوئی تکلیف نه پهنچتی .... سوره الاعراف: 188
5: آپ که دیجیئے که میرا یه دعوی نهیں که الله کے خزانے میرے پاس هیں اور نه هی غیب دانی کا دعوی هے اور نه هی یه که میں فرشته ( یعںی نور ) هوں میں تو صرف اس بات کی تابعداری کرتا هوں جس کی وحی میری طرف هوتی هے.... سوره الانعام:50
( آیت صرحتاََ دلالت کرتے هے که نبی اکرم صلی الله علیه وسلم مختار کل نهیں ، نه هی آپ عالم الغیب هیں اور نه هی آپ کی حقیقت وماهیت نور هے )
6: آپ که دیں که میں کوئی نیا رسول نهیں اور میں نهیں جانتا که میرے ساته کیا پیش آئے گا اور تمهارے ساته کیا کیا جائے گا میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا هوں جو میری طرف وحی هوتی هے اور میرا کام تو کهول کر ڈر سنانا هے.... سوره الاحقاف:9
------------------------------------------------------------------
حاصل کلام یه هے که انبیاء کرام اور اولیاء کو جو علم دیا جاتا هے اس کو علم غیب کهنا هی ناجائز هے جو علوم نبی صلی الله علیه وآله وسلم کے پاس آئے وه الله تعالی نے بتلائے وه الله کے بتلانے سے آئے اور جن علوم کی همیں خبر هے تو وه نبی کے بتلانے سے هوا اب اگر خبر والا علم ، علم غیب هے پهر تو صحابه ، تابعین ، تبع تابعین اور هم سب عالم الغیب بن جائیں گے!!

بنده علم غیب کو نهیں جانتا مگر یه که اس کے سینه میں کوئی چیز مثقش هوجائے یه علم غیب نهیں هوتا علم غیب تو وه هے جو ذاتی طور پر هو . الله تعلی نے آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلمم کو " اخبار الغیب ، انباء الغیب اور اطلاع الغیب کے ذریعے سے جتنے علوم سے نوازا هے وه الله کی مخلوق میں سے کسی کو بهی حاصل نهیں اور خلق خدا میں ' فوق کل ذی علم علیم ' کے مصداق آپ صلی الله علیه وآله وسلم هیں لیکن اس کے باوجود آپ صلی الله علیه وآله وسلم عالم الغیب نهیں .
اس لئے که اخبار الغیب همیں نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمائے هیں وه بهی وحی کے ذریعے سے آپ صلی الله علیه وسلم کو بتائی اس لئے اخبار الغیب کو علم الغیب نهیں کها جاتا هے.
------------------------------------------
ایک عقلی دلیل بهی جان لیجیئے!!!

غزوه خیبر کے موقع پر ایک یهودی عورت نے گوشت میں زهر ملایا تها ، آپ صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں پیش کیا اس میں سے آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے بهی ایک دو لقمے کهالئ تهے اور اس میں سے حضرت بشر رضی الله تعالی عنه نے بهی کهایا پهر اسی زهر کے اثر سے وه صحابی رسول شهید هوگئے .
دلیل * الصحیح البخاری ، کتاب المغازی ، باب غزوته الرجیع : ج2 ص584 ، قدیمی *

نوٹ:____ اگر همارے پیارے نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم عالم الغیب هوتے ، حاضر فی کل مکان و ناظر کل شئی هوتے تو وه مکان بهی ایک جگه هے جس میں یه عورت زهر ملارهی تهی ، اگر عالم الغیب هوتے تو ابتداء هی کهانے سے رک جاتے اپنے اصحابه رضوان الله اجمعین کو منع فرمادیتے که اس میں زهر ملایا گیا هے پهر بعد میں اس یهودی عورت کو اس صحابی کے قصاص میں اس عورت کو قتل کردیا گیا.
===================
* ظاهرجان احسن... طالب دعا *

  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: علم غیب عطائی کی وضاحت Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today