ISLAMIC VIDEOS TUBE: جو شخص رسول اﷲﷺکے دین میں سے کسی بات کا مذاق اُڑائے چاہے وہ بات ثواب سے متعلق ہو یا عذاب سے وہ شخص کافر ہے۔ جو شخص رسول اﷲﷺکے دین میں سے کسی بات کا مذاق اُڑائے چاہے وہ بات ثواب سے متعلق ہو یا عذاب سے وہ شخص کافر ہے۔ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Friday, April 3, 2015

جو شخص رسول اﷲﷺکے دین میں سے کسی بات کا مذاق اُڑائے چاہے وہ بات ثواب سے متعلق ہو یا عذاب سے وہ شخص کافر ہے۔

جو شخص رسول اﷲﷺکے دین میں سے کسی بات کا مذاق اُڑائے چاہے وہ بات ثواب سے متعلق ہو یا عذاب سے وہ شخص کافر ہے۔
دین اسلام کا مذاق اڑانے والا کیوں کافر ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے ۔
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللہِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ )التوبۃ:(65
’’)اے نبی (کہہ دیجئے کہ اﷲ،اس کی آیات،اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں۔تم عذر پیش نہ کرو۔تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو‘‘۔

دین اسلام کے کسی امر کا استہزأکرنا،اس کا مذاق اڑانا ،اجماع امت کے مطابق کفر ہے اگرچہ کوئی غیر سنجید گی سے بھی مذاق اڑائے . ابن جریر ،ابن ابی حاتم اور اور الشیخ وغیرہ نے روایت کیاہے۔کہ سیدنا عبداﷲبن عمر فرماتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کے موقع پرایک مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا،میں نے اپنے قراء جیساکسی کو نہیں دیکھایہ لوگ بڑے پیٹوہیں،زبان کے جھوٹے اورجنگ کے موقع پر بزدلی دکھانے والے ہیں۔ یہ بات سن کر دوسرے شخص نے کہا تم منافق ہو ہم یہ بات ضرور رسول اﷲﷺتک پہنچا دیں گے یہ بات رسول اﷲﷺتک پہنچ گئی اور قرآن میں مذکور بالا آیت نازل ہوگئی سیدنا عبداﷲبن عمر فرماتے ہیں۔ ’’میں نے دیکھا کہ وہ بات کرنے والا شخص رسول اﷲﷺ کی اونٹنی سے لٹک لٹک کر کہہ رہا تھا کہ میں تومذاق کررہا تھا لیکن رسول اﷲﷺفرمارہے تھے۔اﷲاس کارسول اور اس کی آیات ہی مذاق کے لیے رہ گئی ہیں۔‘‘ ہم مذاق اڑارہے تھے کا مطلب ہے کہ ہم حقیقت میں بات نہیں کررہے تھے بلکہ ہم ازراہِ مذاق یہ بات کررہے تھے صرف سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے خوش گپی کررہے تھے ۔اس کے باوجود اﷲتعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کافر قراردیا ہے۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ منافقین توپہلے ہی سے دلی طورپرکافر تھے۔بعد میں انہوں نے زبان سے بھی اظہارِکفر کردیا ۔
لیکن اس بات کی تردیدشیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫نے کی ہے۔آپ لکھتے ہیں۔’’دل سے کفر کرنا اور زبان سے اسلام لاناکفر ہی ہوتا ہے اس کو اسلام نہیں کہا جاسکتا۔جبکہ ایسی صورت میں یہ نہیں کہا جاتا کہ: قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ)التوبۃ: (65’’ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو ‘‘۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شروع ہی سے کافر نہ تھے۔)یعنی ایمان لاچکے تھے اور بعدمیں کافرہوئے(
اسی طرح جو شخص بھی محمدﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے کسی بھی حکم مذاق اڑائے،جیسا کہ علم شرعی کا مذاق اُڑانا،یا علم شرعی سیکھنے والے طالب علم یا سکھانے اساتذہ ،یا اس پر عمل کرنے والے،غرض علم شرعی سے تعلق رکھنے کسی بھی شخص کا مذاق اڑانا،اسی طرح اﷲتعالی کی طرف مقرر کردہ کسی ثواب یا عذاب کا مذاق اڑانا، اسی طرح اچھائی کاحکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کا ان کے اس مبارک فعل کی وجہ سے مذاق اڑانا،اسی طرح نفلی یا فرضی کسی بھی نمازکا مذاق اڑانایا پھر نمازیوں کا نمازپڑھنے پر مذاق اڑانا،اسی طرح ایک داڑھی رکھنے والے کا اُس اسلامی شعیرہ داڑھی کی وجہ سے مذاق اڑانا،اسی طرح سود جیسی لعنت کو چھوڑنے والے کا سود چھوڑ نے کی وجہ سے مذاق اڑانا،وغیرہ وغیرہ تو اس قسم کا مذاق اڑاناکفر ہے ۔اور وہ مذاق اڑانے والا استھزاء کرنے والا اﷲ کی نظروں میں کافرہے ۔)کیونکہ مذکورہ تمام صورتیں اﷲکی شریعت سے تعلق رکھتی ہیں ۔اور ان کا مذاق اڑانے والا اﷲکی شریعت کا مذاق اڑاتاہے(اسی طرح اﷲکے رسول اﷲﷺکی لائی ہوئی شریعت کی کسی بھی چیزکا مذاق اڑانا منا فقین کی صفات میں سے ہے ۔اور یہ کسی مسلما ن کے لئے لا ئق نہیں کہ وہ ایسا کفریہ فعل کا سرانجام دے۔
جیسا کہ ارشاد ِ الٰہی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ ،وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ،وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِهِينَ ،وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلاءِ لَضَالُّونَ ،وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ ،فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ ،عَلَى الأرَائِكِ يَنْظُرُونَ ،هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ)مطففین:(36-29
’’گناہ گار لوگ ایمان والوں کا ہنسی مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھوں کے اشارے کرتے تھے اورجب اپنے گھروں کی طرف لوٹتے تودل لگیاں کرتے تھے اورجب انہیں دیکھتے تو کہتے یقینا یہ لوگ گمراہ ہیں۔جبکہ یہ ان پرنگراں بناکرتو نہیں بھیجے گئے ۔پس آج ایمان دار ان کافروں پر ہنسیں گے تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا‘‘۔

امام محمد بن عبدالوہاب﷫نے حکم المرتدصفحہ(۱۰۵)پراور شیخ حمد بن عتیق نے مجمو عۃ التوحید میں اور کافی علماء نے:رسول اﷲﷺکی لائی ہوئی شریعت کے کسی بھی جزء کامذاق اڑانے والوں کی دواقسام بیان کی ہیں۔
واضح طور پر مذاق اڑایا جائے ۔جیسا کہ یہ قول ہے ’’ یہ قرآن پڑھنے والے بڑے پیٹو ،بزدل اور جھوٹے ہیں‘‘ان لوگوں کے متعلق ہی آیتِ ممانعت نازل ہوئی تھی ۔

مذاق اڑایا توجائے مگر غیر واضح طور پرمبہم انداز میںجیسے کہ آنکھ کے اشاروں کنایوں کے ساتھ یا تلاوت قرآن کا،زبان نکال کر ہونٹ پھیلا کر،مذاق اڑایا جائے ۔یا سنتِ رسول اﷲﷺکا مذاق اڑایاجائے یا اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر مذاق اڑایا جائے۔
الغرض قرآن وحدیث کا مذاق اڑانے والوں کی مخالفت کرنا۔ان کی مجلسوں کو ترک کرناہر مسلمان پر لازم ہے۔ایسانہ ہو کہ یہ مسلمان بھی انہی میں شامل ہوجائیں ۔
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللہِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللہَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا)النساء: (140
’’اور اﷲتعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتارچکا ہے کہ تم جب بھی کسی مجلس والوں کو اﷲتعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر اورمذاق اڑاتے ہوئے سنوتو اس مجلس میں ان کے ساتھ مت بیٹھوجب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں )ورنہ(تم بھی اُس وقت انہی جیسے ہوگے یقینا اﷲتعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والاہے‘‘۔

  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: جو شخص رسول اﷲﷺکے دین میں سے کسی بات کا مذاق اُڑائے چاہے وہ بات ثواب سے متعلق ہو یا عذاب سے وہ شخص کافر ہے۔ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today