ISLAMIC VIDEOS TUBE: عبد الستار ایدھی صاحب کی حقیقت عبد الستار ایدھی صاحب کی حقیقت - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, July 18, 2015

عبد الستار ایدھی صاحب کی حقیقت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عبد الستار ایدھی صاحب کی حقیقت
علامہ ساجد خان نقشبندی
عبد الستار ایدھی صاحب کا شمار ہمارے ملک کے معروف لوگوں میں ہوتا ہے انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے جو فلاحی کام سرانجام دیا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں پاکستان کے ہر شہری کا ان کے بارے میں یہی تصور ہوگا کہ وہ ایک سادہ اور نیک انسان ہیں مگر افسوس کہ حقائق اس بات کی تصدیق نہیں کرتے ۔کہتے ہیں جب آدمی بولتا ہے تواس کی حقیقت واضح ہوتی ہے یہی کچھ عبد الستار صاحب کے ساتھ بھی ہوا کچھ عرصہ پہلے حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ پر تحریک پاکستان کے حوالے سے لگائے جانے والے اعتراضات کا جواب دینے کیلئے فقیر اپنی لائبریری میں کچھ پرانے اخبارات کی ورق گردانی کررہا تھا کہ اسی دوران جنگ اخبار 27مئی 2007 ؁ء کے سنڈے میگزین کے کچھ صفحات پر نظر پڑی جس میں ایدھی صاحب کا ایک انٹرویو شائع ہوا اس انٹرویو میں انہوں نے جو کچھ کہاوہ ایدھی صاحب کااصل چہرہ واضح کرنے کیلئے کافی ہے ۔ملاحظہ ہووہ انکشافات جوایدھی صاحب نے خود اور ان کی بیگم نے ان کے متعلق کئے۔
عید الاضحی پر قربانی کرنے کی ضرورت نہیں
قارئین کرام یہ بات کسی سے بھی مخفی نہ ہوگی کہ عید الاضحی پرجانوروں کی قربانی کرنا شعار اسلام میں سے ہے اور ہر صاحب استطاعت مسلمان پر واجب ہے۔کچھ عرصہ سے اس کے خلاف مخصوص ذہن کے لوگ یہ پروپگینڈا کررہے ہیں کہ اس میں معاذ اللہ پیسوں کاضیاع ہے آج کل قربانی کے مسائل پر جو چھوٹے موٹے رسائل وکتابچے شائع ہورہے ہیں ان میں خصوصی طور پر اس اشکال کے مختلف تسلی بخش جواب دئے جارہے ہیں۔اگر یہ بات کوئی بے دین یا غیر مسلم یاکوئی عام آدمی کرتا تو ہمیں اتنی حیرت نہ ہوتی مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ خود ایدھی صاحب کا بھی یہی نظریہ ہے کہ قربانی کرنا فضول ہے معاذ اللہ ملاحظہ ہو:
’’میرے نزدیک قربانی کرنے کی بجائے اس رقم کو عوام کی فلاح کیلئے استعمال کرنا چاہئے ۔فلاح و بہبود پر خرچ کرنے سے نظام بہتر ہوگا ‘‘۔(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء ،ص۶)
علماء کرام کی توہین
قارئین کرام علماء کرام و فقہاء عظام دین کے حقیقی ترجمان ہیں آج جو دین ہمارے سامنے موجود ہے یہ انہی علماء ربانیین کی کاوشوں کا نتیجہ ہے غیر مسلم دانشور اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک عوام کا تعلق علماء سے رہے گا ان کے دلوں سے دین کی محبت کونکالنا ممکن نہیں اسی لئے کافی عرصہ سے یورپی لابی اور اس کے ہمنوا علماء ،طلباء اور مدارس کے خلاف دن رات منفی پروپگینڈا میں مصروف ہیں یہی حال ایدھی صاحب کا بھی ہے علماء کے بارے میں ان کانظریہ کیا ہے ملاحظہ ہو:
’’دنیا بھر میں مذہبی لوگوں کو ٹھکرایا جاچکا ہے صرف دو سے تین فیصد لوگ ایسے ہیں جو مذہبی حضرات کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں وگرنہ پادری اور ملا کا کردار ختم ہوچکا ہے اور اس کی مذہبی تشریحات کا پردہ کھل چکا ہے ‘‘۔
(جنگ سینڈے میگزین ،27مئی 2007 ؁ء،ص ۶)
غور فرمائیں لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے تو ایدھی صاحب نے داڑھی بھی رکھ لی اور خیر سے میڈیا پر خود کو’’مولانا عبد الستار ایدھی صاحب ‘‘ بھی کہلواتے ہیں مگر علماء کے بارے میں ان کا نظریہ کیا ہے آپ نے خود پڑھ لیا تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ مذہبی طبقے کو عوام نے رد کردیا مگر دوسری طرف عید الاضحی پر قربانی موقوف کرنے کے متعلق کہتے ہیں کہ:
’’میں ا س مسئلے میں زیادہ نہیں جانا چاہتا کیونکہ یہ سنت ابراہیمی کامسئلہ ہے اور اس میں مولویوں کی جانب سے اختلاف آسکتے ہیں‘‘۔
ایدھی صاحب ایک طرف توآپ کہتے ہیں کہ مولویوں کو عوام نے ٹھکرادیا دوسری طرف انہی مولویوں کااتناخو ف کہ اپنا موقف بھی پورے طور پر پیش کرنے سے ڈر رہے ہیں یہ قول و فعل کا تضاد کیوں؟؟؟
ایدھی صاحب اگر مذہبی طبقے کو عوام نے ٹھکرادیا ہے تو آپ خود اپنا شمار کس طبقے میں کرتے ہیں؟؟؟ اگر مذہبی طبقے سے تو عوام تو اس کو ٹھکراچکی ہے اور اگر ’’بے دین‘‘طبقے سے تو یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو دھوکا کیوں؟؟؟
افسوس یہ ہے کہ آپ نے ساری زندگی کارل مارکس ،لینن اور سٹالن جیسے کمیونسٹوں کی کتابوں کامطالعہ کیا ہے ( جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۶)اگر آپ تھوڑا وقت قرآن یاحدیث کو کسی اچھے معلم دین کی زیرنگرانی دے دیتے توآج آپ مذہب کے بارے میں اس قسم کے خیالات نہ رکھتے۔ہمارا آپ سے سوال ہے کہ اگر ہم مذہبی طبقہ کو ٹھکراچکے ہیں تو دینی معاملات میں ہم آخر جائیں کس کے پاس آپ جیسے لوگوں کو پاس جن کو لبنان کی حسیناؤں اور کارل مارکس کی کتابوں سے ہی فرصت نہیں؟؟؟
پھرایدھی صاحب کی دیدہ درہنی کو دیکھیں کہ وہ پادری اور ملا کوایک کیٹگری میں شمار کررہے ہیں افسوس ہے مگر دوسری طرف لوگوں کودھوکہ دینے کیلئے خود بھی ملا کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔
مذہبی اور سماجی طبقہ ظالم طبقہ ہے
حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹوں کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ایدھی صاحب بالکل لادینی کی طرف جاچکے ہیں اور ہر لادین کی طرح انہیں دینی طبقے سے سب سے زیادہ نفرت ہے ا س لئے کہ اگر ان لوگوں کی لادینی میں کوئی طبقہ رکاوٹ ہے تو وہ صرف دینی طبقہ ہے ملاحظہ ہو دینی طبقے کے بارے میں ایدھی صاحب کی خطرناک ذہنیت:
’’مذہبی اور سماجی یہ سب لوگ ظالم کی کیٹگری میں آتے ہیں مولوی بھی سرمایہ دار ہیں اس کے ایجنٹ سماجی کارکن ہیں پاکستان کی 60سالہ زندگی میں یہ مولوی لوگ ہر دس سال بعد کھڑے ہوجاتے ہیں کبھی نظام مصطفی ﷺ کیلئے کبھی اسلام کیلئے کبھی جمہوریت کیلئے یہ سارے نعرے دراصل سرمایہ دارانہ ایجنٹوں کے نعرے ہیں ‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۶)
العیاذ باللہ گویاایدھی صاحب کے نزدیک اسلام کا نعرہ لگانا نظام مصطفی ﷺ کا نعرہ لگانا یہ ظالم لوگوں کاکام ہے یہ سب سرمایہ داروں کی ایجنٹی ہے ایدھی صاحب صاف صاف کیوں نہیں کہتے ہیں کہ اصل بغض ملا سے نہیں اس کے نعرے سے ہے۔
قارئین کرام ایک لطیفہ بھی ملاحظہ فرماتے جائیں کہ اس انٹرویو میں ایدھی صاحب نے مذہبی طبقے کے ساتھ ’’سماجی طبقے‘‘ کو بھی ’’ظالم‘‘ کہا اور خیر سے وہ خود کو سماجی کارکن باورکراتے ہیں انٹریو والے پیج کے مین صفحے پر یہ سرخی قائم ہے:
’’نامور سماجی کارکن عبد الستار ایدھی۔۔‘‘
اسے کہتے ہیں
دروغ گو راحافظہ نہ باشد
ایدھی صاحب کی رنگین مزاجیاں
قارئین کرام سادہ کپڑوں میں ملبوث چہرے پر لمبی داڑھی سجائے بظاہر سیدھے سادھے نظر آنے والے ایدھی صاحب اندر سے ایک 18سال کے اوباش نوجوان ہیں ان کے معصوم چہرے سے دھوکہ مت کھائے گا اس سادہ چہرے کے پیچھے ان کا اصل مکروہ چہرہ خود انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں
ایدھی صاحب سے سوال ہوا کہ آپ کوکون سے مقامات پسند ہیں توانہوں نے جواب میں ’’مکہ مکرمہ‘‘ یا ’’مدینہ منورہ‘‘ کا نام نہیں لیا بلکہ کیا کہتے ہیں ملاحظہ ہو:
’’مجھے ائیرپورٹ بہت اچھے لگتے ہیں مجھے وہ زمین پر خدا کی جنت محسوس ہوتے ہیں یہ ائیر پورٹ دبئی کا ہو ،لندن کا ہو ،امریکہ کا ہو،یا کینیڈا کا ہر جگہ پر جنت کا سا ماحول نظر آتا ہے‘‘ ۔
(سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۶)
جی جناب آپ کو جنت سا ماحول کیوں نظرنہ آئیے گاکہ یہاں دنیا کے پر کونے سے آنے والی ’’دنیاوی حوریں‘‘ جو آپ کو نظر آجاتی ہیں اور یوں آپ اپنے دل کوتسکین مہیا کرالیتے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ دنیا کے یہ ائیرپورٹ تو ایدھی صاحب کوجنت نظرآتے ہیں مگر جس جگہ جنت و جہنم کے فیصلے ہونگے اس کے متعلق ایدھی صاحب کہتے ہیں کہ:
’’عرفات کے میدان میں حج کے موقعہ پر جتنی چوریاں ایک دن میں ہوتی ہیں اتنی چوریاں سال بھر میں نہیں ہوتیں کیا آپ کو علم ہے اس موقعہ پر ۱۰۰ میں سے ۹۹ افراد کی چوریاں ہوتی ہیں ‘‘۔
(سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء ،ص۶)
ہم اس پر سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین اگر ایدھی صاحب میں واقعی دیانت ہے تو کیا وہ اتنے بڑے دعوے پر کوئی دلیل پیش کرسکتے ہیں؟ ہمارے علم میں اب تک یہ بات نہیں کہ ایدھی صاحب نے حج کیا ہے تو آخر وہ اتنی بڑی بات بناء کسی ثبوت کے کیسے کہہ سکتے ہیں؟۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے علم میں اب تک کوئی ایسی بات نہیں آئی کہ عرفات میں اتنی بڑی تعداد میں چوریاں ہوتی ہوں بلکہ اب تک جتنے بھی لوگوں کو حج کی سعادت میسر ہوئی انہوں نے ہمیں یہی کہا کہ جتنی سہولیات خواہ کھانے کے اعتبار سے ہو یا پینے کے اعتبار سے رہنے کا اعتبار سے یا پہننے کے اعتبار سے عرفات کے میدان میں میسر ہیں کہیں بھی نہیں ۔
پھر ہم ایدھی صاحب سے سوال کریں گے کہ جب عرفات میں ۹۹ فیصد لوگ چور ہیں تو وہاں تو ہوتے ہی حاجی ہیں گویا یہ سب چوریاں معاذ اللہ حاجی کررہے ہیں تو آخر ان کا حج کیا خاک ہوا ہوگا ؟؟؟دراصل ایدھی صاحب بھی یہی سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ جب حج پر جانے کے بعد بھی انسان نہ سدھرے تو حج پر جانے کا کیا فائدہ؟ حج پر جو خرچہ آئے گاوہ بھی تم مجھے دے دو تاکہ میں پھر کسی فرانسیسی سے شادی کرلوں اور وہ یہ سارامال اڑالیجائے۔
ایدھی صاحب ہمیشہ اپنے ساتھ دو لڑکیاں رکھتے ہیں
ایدھی صاحب اپنی رنگین مزاجی کے متعلق کہتے ہیں کہ:
وہ (گاندھی۔۔۔از ناقل) ہمیشہ اپنے ساتھ دو لڑکیاں رکھتا تھا میں بھی اس طرح کرتا ہوں (قہقہہ)
(سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۶)
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس عمر میں اس قسم کے کرتوتوں پر آپ کوشرم آتی مگر آپ کی یہ مسکراہٹ بتارہی ہے کہ اس چہرے کے پیچھے کس قسم کا شخص چھپا بیٹھا ہے۔
ایدھی صاحب لبنانی دوشیزاؤں کے حسن کے اسیر
ایدھی صاحب سے سوال ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کبھی کسی سے عشق کیا تو جواب دیتے ہیں کہ:
’’میں نے لبنان میں بہت خوبصورتی دیکھی ہے وہاں کا حسن بے مثال ہے میں نے حسین چہرے لبنان میں بہت دیکھے ۔۔۔۔ایک خوبصورت لڑکی نے میرے ساتھ وعدہ بھی کیا کہ وہ میرے ساتھ کام کرے گی‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
غور فرمائیں قرآن تو مسلمان مرد و عورت کو یہ حکم دیتا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کرکے رہو ایک حدیث میں ہے کہ عورتیں شیطان کا جا ل ہیں مگر یہ شخص اس عمر میں بھی کس فخر سے اپنی رنگین مزاجی کا اظہار کررہا ہے کہ پڑھنے والے بھی شرماجائیں جب اس عمر میں یہ حال ہے تو جوانی میں کیاگل کھلائے ہونگے ۔
جولوگ ایدھی صاحب کے بارے میں ایک اچھے اور شریف انسان کا خیال ذہن میں تصور کئے بیٹھے ہونگے ان کیلئے یہ انکشافات یقیناًدل آزاری کاسبب بنے ہونگے ہمارا بھی شروع میں یہی حال تھا مگر حقیقت کو جھٹلانا اچھا معلوم نہ ہوا اس لئے دل پر پتھر رکھ کر محض عوام کو اس شخص کی اصل حقیقت سے آگاہ کرنے کیلئے یہ سب کچھ لکھ رہاہوں۔
آپ خود سوچیں کہ جس مقام پر ایدھی صاحب فائزہیں کیا یہ مقام اس قسم کی باتیں کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟؟؟اگر کوئی شخص اس قسم کے کاموں میں ملوث بھی ہو تو اپنے مقام کو دیکھتے ہوئے و ہ ان باتوں کو زبان پر نہیں لاتا مگر ایدھی صاحب جس دیدہ دلیری سے یہ سب کہہ رہے ہیں یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ایدھی صاحب عادی مجرم ہیں۔
عبد الستار ایدھی صاحب میوزک اور فلموں کے رسیا
’’میوزک سننے کا عادی ہوں عرب گلوکارہ ام کلشوم کا میوزک سنتا ہوں اس کی آواز پر میں فدا ہوں نورجہاں اور سہگل کو بھی پسند کرتاہوں ۔۔۔۔ایک ہی فلم دیکھی پکاریہ پاکستان سے پہلے کی فلم ہے‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
نبی ﷺ کی حدیث ہے کہ گانادل میں نفاق کوایسے پیدا کردیتا ہے جیسے پانی کھیتی کو علماء فرماتے ہیں کہ گانے سے سرور حاصل کرنا کفر ہے ایک حدیث میں نبی ﷺنے فرمایا کہ میں گانے باجے کے آلات توڑنے کیلئے مبعوث کیا گیا ہوں مگر دوسری طرف ایدھی صاحب ہیں جو میوزک کے رسیا بھی ہیں اور پھر ساتھ میں پکا مسلمان ہونے کا دعوی بھی یہ بھی غور فرمائیں کہ ایدھی صاحب کوپسند بھی آئی تو’’گلوکارہ‘‘۔۔۔۔!!!
بغیر گواہوں کے بیٹے کا نکاح پڑھوادیا
میں نے بیٹھے کو ہدایت کی کہ مولوی کے پاس نہیں جانا پھر میں نے اپنے بیٹے کو فون پر اپنی اہلیہ سے بات کروادی کہ بیٹا دو گواہ بن گئے اور تیری شادی ہوگئی‘‘۔
(جنگ ،27مئی 2007 ؁ء،سنڈے میگزین،ص۸)
بغیر گواہوں کی موجودگی کے ایجاب وقبول کے نکاح کس طرح ہوسکتا ہے میں اس کا فیصلہ اہل علم حضرات پر چھوڑتا ہوں ۔
رنڈیوں اور شرابیوں سے بھی چندے کی وصولی
ایدھی صاحب کے ہاں چندے کی وصولیابی کا کوئی شرعی نظام مقرر نہیں چنانچہ ان سے سوال ہواکہ:
یہ جو بڑی بڑی کوٹھیاں آپ کو ملی ہیں وہ تو ذخیرہ اندوزوں اور منشیات فروشوں نے دی ہیں ؟
ایدھی صاحب جواب دیتے ہیں کہ:
چند لوگ ہیں جو مجھے شروع سے چندہ دیتے ہیں یہ ان کی اپنی نیت پر ہے مجھے تو رنڈی بھی چندہ دیتی ہے میں تو لوگوں کی نیت دیکھتا ہوں ۔(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء ،ص۸)
حالانکہ ایدھی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ مالِ حرام کو ثواب کی نیت سے دینے والوں پر علماء نے ؒ خوف کفر کا فتوی دیا ہے مگر آپ کو مارکس کی کتابوں سے اور لبنان کی حسیناؤں سے فرصت ملے تو ان امور کی طرف توجہ دیں پھر آپ نیت کو کیسے پہچان لیتے ہیں اس لئے کہ نیت تو دل کا معاملہ ہے اس نے دل میں کیا رکھا ہے کہ آپ اس پر کیسے مطلع ہوگئے؟؟؟
ایدھی صاحب کی قرآن سے بغاوت
قارئین کرام !سورہ نسآء کے دوسرے رکوع میں اللہ پاک نے وارثوں کے حصے تفصیل سے بیان کئے ہیں اسی میں یہ اصول مقرر کیا ہے کہ مرد کو عورتوں کے مقابلے میں ڈبل حصہ ملے گا چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ :
للذکر مثل حظ الانثیین
مرد کا حصہ دو عورتوں کے بقدر ہے
مگر ایدھی صاحب سے جب سوال ہواکہ کیا لڑکیوں کوجائداد میں سے حصہ دینا چاہئے تواس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ:
’’بالکل دینا چاہئے اور برابر حصہ ملنا چاہئے میرے نزدیک لڑکی اور لڑکے کا حصہ برابر ہونا چاہئے دو ہوں تو دو دے دو ‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
غور فرمائیں قرآن تو کہتا ہے کہ لڑکی کا حصہ مرد کے برابر نہیں بلکہ اس سے آدھا ہے مگر ایدھی صاحب کہتے ہیں نہیں پورا دو اور یہ پورا دینے کا فتوی کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ ’’میرے نزدیک‘‘ ایدھی صاحب کیا ہم آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ یہ ’’میرے نزدیک‘‘ کی اتھارٹی آ پ کو کس نے دی؟؟؟
بہرحال ہم ایدھی صاحب سے حسن ظن رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ ایدھی صاحب کو اپنی ’’جنت‘‘ اور لبنان کی ’’حوروں‘‘ سے فرصت ہی نہ ملی کہ وہ قرآن کی طرف توجہ کرتے اور یہ اصول ان کے سامنے آتا۔
ایدھی صاحب جھوٹ بھی بولتے ہیں
قارئین کرام شوہر کو بیوی سے زیادہ کون جانتا ہوگا آئے ایدھی صاحب کی بیوی بلقیس صاحبہ سے ہی ایدھی صاحب کے کردار کے بارے میں پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کیا کہتی ہیں بلقیس ایدھی صاحبہ اپنے شوہر کے بارے میں کہتی ہے کہ :
’’نہیں مانتے بالکل نہیں مانتے یہ تو ہمیشہ اپنی من مانی کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
قارئین کرام جھوٹ بولناکس قدر قبیح فعل ہے یہ کسی بھی مسلمان سے مخفی نہیں بلکہ عام کافر بھی اس کو پسند نہ کرتا ہوگا مگر دیکھا نام نہاد سماجی رہنماکا اصل چہرہ غور فرمائیں شریعت تو جھوٹے آدمی کی گواہی بھی قبول نہیں کرتی تو پھر آخر ہم اپنے خون پسینے کی کمائی ایک ایسے شخص کے حوالے کس طرح کرسکتے ہیں جو عورتوں کا دلدادہ میوزک کا رسیا اور جھوٹ بولنے کا عادی ہو کیا جھوٹاآدمی کبھی امانت دار ہوسکتا ہے ؟؟ کیا آپ اس بات کی گارنٹی دے سکتے ہیں کہ آپ کے صدقات ،عطیات ،زکوۃ ایدھی صاحب نے جس جس مصرف پر خرچ کئے اس کے بارے میں وہ جھوٹ نہیں بول رہے ہیں؟؟۔
ایدھی صاحب ایک بد اخلاق شخص ہیں
قارئین کرام میرے نبی ﷺ کی حدیث ہے کہ میں مکارم اخلاق کو مکمل کرنے کیلئے مبعوث کیا گیا ہو ں ایک حدیث میں اللہ کے نبی نے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی اور فرمایا کہ میں تم میں سے سب سے زیادہ اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنے والا ہوں مگر دوسری طرف ایدھی صاحب کا اپنی پہلی بیوی سے کیا رویہ رہا ہے ملاحظہ ہو:
’’میں نے اپنے بھائی سے ذکر کیا اس نے کہا مان جاؤوگرنہ تمہارے منع کرنے پر تمہیں چھوڑ دے گا پھر بچوں کو لے کر تم کہاں جاؤ گی اور یہ ماحول اور معاشرہ بھی یہی کہتا ہے کہ مرد دوسری بیویاں کرتے ہیں او ر یہ گناہ نہیں یہ اس کا ذاتی فعل ہے اس کو منع نہ کر ،میں نے دل بڑا کیا اور ان کی مرضی کو قبول کیا لیکن یہ مجھے اس کے سامنے بہت ذلیل کرتے تھے وہ تین ہزارکی پرفیوم لگاکر ان کو متاثر کرتی تھی ۔۔وہ ہمیشہ چوریاں کرتی تھی لیکن یہ کبھی میری بات نہیں مانتے تھے ‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
قرآن میں دوسری شادی کے ساتھ عدل کی شرط کو لگایا گیا ہے میرے پیارے نبی ﷺ کی حدیث ہے کہ جو شخص اپنی دو بیویوں میں عد ل نہیں کرتا وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا جسم گلا ہوا ہوگامگر اس سب کے بعد اب آپ ایدھی صاحب کا کردار بھی دیکھ لیں کہ بظاہر ایک سادہ سے آدمی کے پیچھے کس قدر گمراہ شخص چھپا بیٹھا ہے ایدھی صاحب میں وہ تمام خرابیاں موجود ہیں جوایک عام بدکردار آدمی میں ہوتی ہیں حتی کہ خود ایدھی صاحب کی بیوی کے بھائی کا یہ کہنا کہ وہ تم کو چھوڑ دے گا اور ’’یہ اس کا ذاتی فعل‘‘ جیسے الفاظ بتاتے ہیں کہ ایدھی صاحب اپنے رشتہ داروں میں صحیح شہرت کے آدمی نہیں او ر ان لوگوں کے دلوں میں ایدھی صاحب کیلئے کوئی قدر و منزلت نہیں ورنہ ’’یہ اس کا ذاتی فعل‘‘جیسے عامیانہ الفاط ہر گز ایدھی صاحب کیلئے استعمال نہ کئے جاتے ۔
پھر یہ بھی غور فرمائیں کہ ایدھی صاحب کی بیگم تین ہزار کی پرفیوم لگاتی تھی کیا ہم ایدھی صاحب سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ پیسہ ان کے والدین کی جاگیر سے استعمال کیا جاتا تھا یا غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی تھی۔۔۔؟؟؟
یہی نہیں بلکہ بلقیس ایدھی صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس ’’عورت نے اپنے بھائی کی مددسے سات کروڑکی چوری کی ہے‘‘قارئین کرام غور فرمائیں یہ پیسہ ایدھی صاحب کے باپ کی جاگیر سے چوری نہیں کیا گیابلکہ آپ کی اس زکوۃ ،صدقات کا مال ہے جو آپ کے خون پیسنے سے کمائے ہوئے مال سے دیا گیااور آپ نے صرف اس نیت سے دیا کہ یہ مال غریبوں پر لگ کر آ پ کیلئے صدقہ جاریہ بن جائے گامگر افسوس کہ آپ کے دئے ہوئے عطیات ایدھی صاحب کے گھر والوں کی عیاشی پر خرچ ہورہے ہیں ،پھر ایدھی صاحب باوجود اپنی بیوی کے اصرار پر اس عورت کے خلاف کاروائی نہیں کررہے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ ان کی یہ بھگوڑی بیوی پھر واپس آجائے گی مگر کیا ہم ایدھی صاحب سے یہ پوچھنے کاحق رکھتے ہیں کہ ان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ عوام کا مال لوٹنے والوں کے خلا ف کاروائی صرف اس وجہ سے نہ کریں کہ لوٹنے والی ان کی ’’محبوبہ‘‘ ہے ایدھی صاحب ابھی کچھ دیر پہلے تو آپ یہ راگ آلاپ رہے تھے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے(حالانکہ مسلمانوں سے ٹیکس وصول کرنا جائز نہیں جزیہ صرف ذمی کافروں پر ہے)،زکوۃ نہیں دیتے یتیموں کامال کھاجاتے ہیں ہر طرف کرپشن ہے مگر خود آپ کی بیوی نہ معلوم کتنے یتیموں کاحق کھاگئی کتنے غریبوں کا مال کھا گئی آخر یہاں آپ کے اصو ل کہاں گئے یہ چراغ تلے اندھیرا کیوں؟؟؟افسو س تو ان لوگوں پر ہے جنہوں نے یہ مال دیا تھا جن کا نہ صدقہ ادا ہوا نہ زکوۃ یہ صرف ایک واقعہ ہے جس پر سے بلقیس ایدھی نے پردہ اٹھایا ہے نہ معلوم اندرون خانہ کتنے لوگوں کا مال ایدھی اور ان کے خاندان والے ہضم کرچکے ہیں ایدھی صاحب کی سادگی سے دھوکہ مت کھائے یہ صرف اور صرف لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے انہوں نے سادگی کا لبادہ اوڑا ہوا ہے ۔
ایک اور جگہ ایدھی صاحب کی بد اخلاقی کاذکر کرتے ہوئے ان کی بیوی کہتی ہیں کہ:
’’ان کوبات بات پر غصہ آجاتا ہے یہ منٹ منٹ بعد بچوں کی طرح غصے میں آجاتے ہیں‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
جب ہر وقت غصہ تو ہم کس طرح یقین کرلیں کہ یتیم معصوم بچے،بیوائیں اور غریب نادار وہ بچے اور بچیاں جو ایدھی صاحب کی زیر کفالت ہیں خوش و خرم زندگی گزار رہی ہونگی ؟؟؟۔
ایدھی صاحب اور ان کی بیگم پردے کے قائل نہیں
غیر محرم سے اسلام میں پردہ فرض ہے مگر ایدھی صاحب کی بیگم یہ فلسفہ نقل کرتی ہیں کہ:
’’پردہ دل کا ہوتا ہے ،آنکھو ں کا پردہ ہونا چاہئے آنکھوں میں بے شرمی اور بے حیائی ہو توپردہ کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
حیرت ہے کہ قرآن تو نبی ﷺ کی بیویوں کو جو امت کی مائیں ہیں پردے کا حکم کرتا ہے اور بلقیس صاحبہ کہتی ہیں کہ اصل پردہ دل کا ہونا چاہئے کیا معاذ اللہ امہات المومنین کے دلوں میں پردہ نہ تھا؟؟۔
یہ تو ایدھی صاحب کی بیگم کانظریہ تھامگر ایدھی صاحب تواپنی بیگم سے بھی دوہاتھ آگے نکلے کہتے ہیں کہ:
’’جنگ:عورت کو گھر سے باہر نکل کر کام کرنا چاہئے؟
ایدھی:بالکل کرناچاہئے ،عورتو ں کو مردوں کے شانہ نشانہ کام کرنا چاہئے‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
ایدھی کا سارا عملہ بے ایمان ہے
ایدھی سنٹرز کے ملک بھر میں 1500گاڑیاں اور 3ہزا ر ڈرائیور ہیں میرے پاس اتنے ڈرائیور ہیں لیکن ایک بھی ایماندار نظر نہیں آئے گا ۔۔۔ڈرائیور چھوٹی چھوٹی چوریاں کرتے ہیں ‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
مدرسہ اور مسجد کی تعمیر کی کوئی ضرورت نہیں
’’ایدھی صاحب کلکتہ سے مشرقی پاکستان گئے وہاں کے لوگوں نے ان کی دعوت کی اور بتایا کہ ہم نے مدرسہ اور مسجد بنائی ہے تو ایدھی صاحب نے وہاں کہا تھاکہ غریبوں کی بھوک مٹائی جائے تو وہ مدرسہ اور مسجد سے بہتر ہے‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء،ص۸)
ملک کی سلامتی کیلئے فوج کی ضرورت نہیں
قارئین کرام نبی ﷺ کی حدیث ہے کہ اسلحہ مرد کا زیور ہے مگر چونکہ ایدھی صاحب ایک لادین ذہنیت کے مالک ہیں اس لئے انہیں اسلام کی ہر بات میں نقص نظر آتا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ:
’’ میں اسلحے کے خلاف ہوں اسلحہ دنیا کے کسی ملک کے پاس بھی نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔فوج بھی نہیں ہونی چاہئے بس صرف سکیورٹی ہونی چاہئے کسی ملک کی بھی فوج نہیں ہونی چاہئے‘‘۔
(جنگ سنڈے میگزین،27مئی 2007 ؁ء)
ایدھی صاحب اگر دفاع کیلئے فوج نہ ہو تو کیا ملک کی حفاظت آپ جیسے لوگوں کے ذریعہ کی جائے گی جو لبنان کی حسیناؤں کی اداؤں پر ہی ایمان دے بیٹھتے ہیں؟۔
قارئین کرام ہمارے اس مضمون کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں نہ ہمیں ایدھی صاحب سے کوئی ذاتی دشمنی ہے ہمارا مقصد صرف لوگوں کو اس دھوکے سے آگاہ کرنا تھا جو ایدھی صاحب اپنی سادگی کی صورت میں عوام کو دے رہے ہیں یہ صرف ابتداء ہے امید کرتا ہوں کہ اس موضوع پر محققانہ ذہن رکھنے والے مزید بھی تحقیق کریں گے اور عوام کے سامنے مزید انکشافات ہونگے ۔باقی ہم نے حقیقت حال آپ حضرات کے سامنے رکھ دی ہے اب آ پ کی مرضی کے اپنے عطیات و زکوۃ ایدھی صاحب جیسے لوگوں کو دے کر بربا د کرتے ہیں یا کسی مستند دینی ادارے کو دیتے ہیں جو آپ کے عطیات کو مستحقین تک پہنچانے کا مضبوط بندوبست کرتے ہیں۔
ی ہے اگر اس سب کے باجود بھی آپ کے اکابر قابل طعن نہیں تو ہمارے اکابر کیوں؟؟وجہ فرق بیان کریں۔
عبد الستار ایدھی کی شان رسالت ﷺ میں سنگین گستاخی
عبد الستار ایدھی اپنی خود نوشت میں کہتا ہے کہ :
دوسری شادی ‘ایک بے عمل اور کاہل شخص ہی کرسکتا ہے ۔
(ایدھی عبد الستارسوانح حیات کھلی کتاب،ص۲۵۵:۲۳ مارچ ۲۰۰۰،شائع کردہ ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان)
معاذ اللہ ایدھی نے یہاں دوسری شادی کرنے والوں کو کاہل اور بے عمل کہا اور سب جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک سے زائد شادیاں کی راجح قول کے مطابق آ پ ﷺ کے نکاح میں ۱۱ ازواج مطہرات آئیں۔۔کس قدر سنگین گستاخی ہے اسلام میں کئی ایسی بزرگ شخصیات ہیں جنہوں نے دوسری شادی کی بلکہ دوسری شادی کرنے کی اجازت تو قرآن دیتا ہے غور فرمائیں بات کہاں تک پہنچ گئی؟
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: عبد الستار ایدھی صاحب کی حقیقت Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today