ISLAMIC VIDEOS TUBE: عید اور اس کا اسلامی تصور عید اور اس کا اسلامی تصور - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Wednesday, July 15, 2015

عید اور اس کا اسلامی تصور

عید اور اس کا اسلامی تصور
عید کا مادہ سہ حرفی ہے اور وہ ہے ۔ عود عادً یعود عوداً وعیاداً کا معنی ہے لوٹنا، پلٹنا واپس ہونا ، پھر آنا چونکہ یہ دن ہر سال آتا ہے اور اس کےلوٹآنے سے اس کی فرحت و مسرت اور برکت و سعادت کی گھڑیاں بھی اس کے ساتھ لوٹ آتی ہیں اس لیے اس روز سعید کو عید کہتے ہیں۔
اسلام ایک دین فطرت اور مکمل ضابطۂ حیات ہے اور فرد اور معاشرے ، دونوں کی اصلاح و فلاح کا ذمہ داربھی، اس نے ملتِ اسلامیہ کو دو ایسے اسلامی تہواروں اور دینی جشنوں سے سرفراز کیا ہے جو فرزاندانِ اسلام کی خوشی ، روحانی بالیدگی ، انفرادی مسرت اور اجتماعی شوکت کا مظہر ہیں۔ ان میں سے ایک تہوار کا نام عید الفطر ہے اور دوسرے کا نام عیدالاضحٰی
ظہور اسلام کے ایک عرصہ بعد جب ہجرت کا عظیم واقعہ رونما ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کو دیکھا کہ وہ سال میں دو دن تہوار(غیر اسلامی ) مناتے ہیں۔ آپ(ص) نے دریافت فرمایا : یہ دو دن کیسے ہیں؟ اہل مدینہ نے بتایا یہ دو دن ہماری مسرت اور خوشی کے دن ہیں۔ ہم ان دنوں میں کھیل کود کرتے ہیں۔ آپ(ص) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم کو یوم الاضحٰی اور یوم الفطر کے دو دن عطا فرمائے ہیں جو تمہارے کھیلنے کودنے اور خوشی منانے کے ان جاہلیت کے دنوں سے بہتر ہیں۔ اس طرح حضرت شارع نے اپنے اس فرمان سے عہدِ جاہلیت کی یادگار تقریباب و رسومات کا یکسر قلمع و قمع فرما کر اہل مدینہ و تمام مسلمانوں کو ’’عیدین سعیدین ‘‘ دو بابرکت عیدوں۔۔۔ کا تحفہ عطا فرمایا ۔
ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ " ﻟﯿﻠﺘﮧ ﺍﻟﺠﺎﺋﺰﮦ"
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
عید الفطر کو میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے یہ تہوار اسلام کے مزا ج اور مسلمانوں کی تہذیبی اقدار کی عکاسی کرتا ہے اس تہوار سے مسلمانوں کی اللہ سے وابستگی اورعبادت الٰہی سے دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے ۔ عاقل و بالغ اور تندرست مسلمان مہینہ بھر دن کو روزہ رکھتے اور رات کو تراویح میں قرآن پا ک سنتے ہیں۔ مسلمان ماہ رمضان میں تلاوت قرآ ن حکیم کا بالخصوص اہتمام کرتے ہیں۔یوں ماہِ رمضان کے انتیس یا تیس دن گزرنے کے بعد اپنی عبادت و ریاضت اور ماہِ مبارک کی برکت و سعادت حاصل کرنے کی خوشی میں عید مناتے ہیں ۔ عید کے دن علی الصبح اٹھ کر غسل کرتے ہیں چند کھجوریں یا کوئی میٹھی چیز کھا کر بلند آوازسے تکبیریں پڑھے ہوئے ’’ اﷲ اکبر اﷲ اکبر لاالہ الااﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد ‘‘ کہتے ہوئے بوڑھے بچے، جوان سب عید گاہ کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ شہر ہوں یا دیہات ہرجگہ مسلمان مرد و زن اور چھوٹے بڑے صاف ستھرے اور پاکیزہ کپڑے پہنے ، آنکھیں بشاشت سے روشن اور پیشانیاں عید کی مسرت سے منور لیے نظر آتے ہیں۔ فضائیں تحمید و تقدیس اور تکبیر و تہلیل کی روح پرور صداؤں سے گونجتی سنائی دیتی ہیں۔ عیدگاہوں اور کھلے میدانوں میں نماز عید کے لیے مسلمانوں کے اجتماعات ملی شان و شوکت کے نئے ولولے پیدا کرتے اور’’ شکو ہ ملک و دیں‘‘ کے دلنواز مناظر ، قلب و نظر کی تسکین و تمکین کا باعث بنتے ہیں۔

یوم عید کے اکثر اعمال مسنونہ سے اس عقیدے کا اظہار ہوتا ہے کہ عظمتوں کے تمام پہلو اور کبریائی کی تمام صورتیں صرف خداوند ذوالجلال کی ذات بابرکات کے شایانِ شان ہیں۔ کبریائی اسی کی ذات کی زیبائی اور عظمت وجبروت اس کی قدرت کی جلوہ نمائی ہیں۔ تمام بندگانِ الٰہی وہ حاکم ہوں یا محکوم ، خادم ہوں یا مخدوم ، امیر ہوں یا غریب ، قوی ہوں یا ضعیف، سب کے سب اس کے عاجز بندے اور فانی مخلوق ہیں۔ وہ سب کا حاکم علی الاطلاق اور رازق دان داتا ہے۔ وہی اوّل و آخر ، وہی حیی وقیوم اور وہی ازلی اور ابدی ہے اور عظمت و کبریائی کے تمام مظاہرے صرف اور صرف اس کا ذاتی حق ہیں۔ عید الفطر کے روز عیدگاہ جاتے ہوئے سب کے دمہ کا بلند آواز سے تکبیریں کہتے ہوئے جانا صلوۃ العیدین میں زائد تکبیریں پڑھنا اور پھر خطبہ عید میں متعدد بار ان تکبیروں کا دہرایا جانا محض اس لیے ہوتا ہے کہ توحید الٰہی اور مساوات اسلامی کا تصور مسلمانوں کے دلوں میں رج بس جائے اور ذہن کے نہاں خانوں میں اتر کر ان کے عقیدہ و عمل کا جز و لاینفک بن جائے۔  
👇 👏نوٹ👏 👇
عید کی خوشیوںمیں اس بات کو یاد رکھے کہ کہی آپ کاکفن بازار میں تو نہیں آگیا.
  🌟اپنے رمضان اور عید کے خوشیوں اور دعاؤں میں ان لوگوں کو بھی یاد رکھے جو اپنے رب حقیقی سے جاملے
 🌟اوراس معصوم کو بھی جواپنی مان کوافطار کے وقت پوچھتا ہے کہ امی ابوکب آءے گےاورجس کے والد جیل مین ہے.
 🌟اورفلسطین اور برما اور شام کے ان معصوموں کو جنھونے اپنے باپ کا چہرا بھی نھیں دیکھا  
🌟اوراس بیوی کو جس کا سہاگ اجڑگیا  
🌟 اوران لوگوں کو جوجیلوں میں اپنے رات دن کاٹ رہیں ھیں.
  🌟اوردنیا کے تمام مظلوم مسلمانوں کو
  🌟اوران غریب مسلمانوں کو جو نءے کپڑوں سے اپنی عید نھیں کرسکتے.
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: عید اور اس کا اسلامی تصور Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today