ISLAMIC VIDEOS TUBE: خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی تلوار | Khalid Ki Talwar خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی تلوار | Khalid Ki Talwar - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Friday, July 24, 2015

خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی تلوار | Khalid Ki Talwar



تاریخ اسلام کی لازوال خونی داستانیں
خالد کی تلوار
قسط 1: جلد اول
دستک : ایڈمن شہزادی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم 
الحمد لله رب العالمين

تمام تعریفیں اللہ ھی کی ذات کے لیے ھے جو تمام عبادات چاھے زبانی ھے بدنی ھو مالی ھو کے لائق ھے، اللہ پاک کے حاص فضل و کرم سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت اور اصحاب کرام سے محبت نے دستک تاریخ اسلام کے گھر کو پھر سے مجبور کردیا کہ شمشیر بے نیام "
قصصہ الا انبیاء"
دجال کون کب کہاں"
عشرہ مبشرہ"
جب صور پھونکا جاے گا"
مصحف "
قصہ چار درویش"
سیرت امی عائشہ "
داستان ایمان فروشوں کی "
وغیرہ جیسے اسلامی اور زبردست سلسلوں کے بعد ایک بار پھر سے ایک زبردست شاھکار لکھا جاے " سو پیش حدمت ھے ؔ خالد کی تلوار"
براے مہربانی یاد رکھئیں، کہ اس سیریز کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیا کریں، جتنا آپ احباب کا شوق زیادہ ھوگا اتنی ھی زیادہ اقساط اپلوڈ کی جاے گی، تمام موبائیل صارفین سے درحواست ھے یا وہ لوگ جن کو تحریریں آدھی ادھوری ملتی ھے ان سے گذارش ھے کہ آپ براہ راست گوگل سے یا اوپیرا منی سے ڈایرکٹ فیس بک کھول کر دستک کی پوسٹ پڑھ لیا کریں تو ان شاء اللہ آپکا مسئلہ ختم ھوجاے گا،،،

الحمد للہ وحدہ والصلوٰة علی من لا نبی بعد۔ حضرت شیخ ابو عبداللہ محمد بن عمرو اقدی جناب ابو بکر بن احمد سے روایت کرتے ہیں یہ صاحب عمر بن عثمان بن عبدالرحمن ونوفل بن محمد ومحمد بن عبداللہ بن محمد وربیعہ بن عثمان اور یونس بن محمد اور مائن بن یحییٰ بن عبداللہ اور محمد بن عمر رافعی اور معاذ بن محمد انصاری اور عبدالرحمن بن عبدالعزیز اورعبداللہ بن مجیدو غیر ہم رحمہم اللہ تعالیٰ سے راوی ہیں کہ جس وقت حضورۖ کی وفات شریف ہوچکی اور آپ کے بعد حضرت صدیق اکبر مسند خلافت پر فائز ہوگئے ۔ نیز آپۖ کے زمانہ خلافت میں جبکہ مسیلمہ بن قیس کذاب مدعی نبوت اور شجاع والود بھی قتل ہوچکے اور طلیحہ شام کی طرف بھاگ گیا۔ فتح یمامہ بھی ہوچکی۔ بنو حنیفہ مار ڈالے گئے، اہل عرب نے آپ کی اطاعت قبول کرلی تو حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول نے شام پر لشکر کشی کا ارادہ اور اہل شام سے قتال کا عزم کیا۔ چنانچہ ایک روز آپ نے تمام صحابہ رضوان اللہ کو جمع کرکے ان کے سامنے یہ تقریر فرمائی۔
''حضرات خداوند تعالیٰ جل مجدہ آپ لوگوں پر رحم فرما دیں، آپ اس بات کو یاد رکھیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو اسلام جیسی چیز مرحمت فرمائی۔ امت محمدۖ بنایا۔ آپ کے ایمان اور یقین کو زیادہ کیا، کامل فتح بخشی۔ چنانچہ خود باری تعالیٰ فرماتے ہیں:''
(الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا) (المائدة: ٣)
''میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے کامل کیا تم پر اپنی تمام نعمتیں پوری کیں اور اسلام کو تمہارے لیے میں نے دین پسند کیا۔''
نیز آپ سمجھئے (باری تعالیٰ آپ پر رحم کریں) کہ ہمارے آقا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام میں جہاد کرنے کا ارادہ کرلیا تھا اور چاہا تھا کہ وہاں کوشش اور ہمت سے کام لیا جائے مگر باری تعالیٰ نے آپۖ کو اپنے پاس بلا لیا ور آپۖ کے واسطے اپنے پاس جگہ تجویز کردی۔ اب آپ لوگوں پر واضح رہنا چاہیے کہ میں ارادہ کرچکا ہوں کہ میں مسلمانوں کا ایک لشکر مع ان کے اہل وعیال کے شام کی طرف بھیج دوں۔ رسول اللہۖ قبل از وفات شریف مجھے اس کی خبر دے چکے ہیں۔ آپۖ نے مجھ سے بایں الفاظ فرمایا تھا:
رویت لی الارض فرأیت مشارقھا ومغاربھا وسیلغ ملک امتی ماروی لی منھا۔
''یعنی مجھے زمین دکھلائی گئی میں نے مشرق ومغرب کو دیکھا سو عنقریب جو زمین مجھے دکھلائی گئی وہ میری امت کی ملک میں آجاوے گی۔''
''اب تم سب متفق ہوکر مجھے اس کا مشورہ دو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟''
تقریر ختم ہونے کے بعد سب نے متفق ہور جواب دیا کہ یا خلیفہ رسول اللہۖ! ہم آپ کے حکم کے تابع ہیں۔ آپۖ جیسا ارشاد فرمائیں جہاں اور جس جگہ آپ جانے کا حکم دیں ہم ہر وقت تیار ہیں۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ نے آپ کی اطاعت ہم پر فرض کردی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں فرماتے ہیں:
واطیعو االلہ واطیعوا الرسول واولی الا مرمنکم۔
''تم اللہ اور اس کے رسولۖ اور اپنے بادشاہ کی اطاعت کرو۔''
یہ جواب سن کر حضرت ابوبکر صدیق بہت خوش ہوئے اور آپ نے ملوک یمن اور امراء عرب واہل مکہ معظمہ کے نام ایک ہی مضمون کے چند خطوط لکھے۔ آپ نے تحریر فرمایا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
از طرف عبداللہ عتیق بن ابی قحافہ بجانب تمام مسلمانان
السلام علیکم! حمدوصلوٰة کے بعد واضح ہو کہ میں نے شام پر لشکر کشی کا ارادہ کردیا ہے تاکہ اس کو کفاروں اور ناہنجاروں کے قبضہ سے علیحدہ کردیا جائے۔ تم میں سے جو شخص جہاد کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ وہ بہت جلد خداوند تعالیٰ کی اطاعت کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت شریف تحریر فرمائی:
انفرواخفافا وثقالا وجاھدو اباموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ۔
''تم ہلکے بھاری یعنی تھوڑا سامان ہو یا زیادہ کیسے ہی ہو (جہاد میں) برابر جایا کرو اور اپنے مال اور جانوں کے ساتھ خداوند تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو۔'' (سورہ آیت)
یہ خطوط آپ نے انس بن مالک خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ روانہ فرمائے اور خود جواب اور ان کے آنے کے منتظر ہوئے۔
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابھی تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ انس بن مالک نے آکر اہل یمن کے آنے کی خوشخبری سنائی اور حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے بیان کیا کہ میں نے جس شخص کو آپۖ کا حکم سنایا اس نے فوراً خدا کی اطاعت اور آپۖ کے فرمان کو منظور کرلیا۔ وہ لوگ مع سازوسامان جنگ وزرہ پوشی آمادہ حضوری خدمت ہوچکے ہیں۔ یا خلیفہ رسولۖ میں ان سے پہلے آپ کی خدمت میں خوشخبری لیکر حاضر ہوا ہوں۔ جنہوں نے آپ کی فرمانبرداری ژولید موئی اور غبار آلودگی (یعنی جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر) کے لیے منظور کی۔ وہ لوگ نہایت دلیر اور اچھے شہسوار اور بڑے بہادر ورئوسائے یمن ہیں مع اہل وعیال کے روانہ ہوچکے ہیں اور عنقریب پہنچا چاہتے ہیں، آپ ان کی ملاقات کے لیے تیار رہیے۔ آپ کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ یہ دن تو اس طرح گزر گیا۔ دوسرے روز صبح ہی مجاہدین کی آمد کے آثار شروع ہوگئے۔ اہل مدینہ یہ دیکھ کر کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اطلاع دی۔ آپ نے لوگوں کو سوار ہونے کا حکم دیا اور خود ان کے ہمراہ مجاہدین کے استقبال کے واسطے باہر نکلے۔ تھوڑی دیر کے بعد لشکر پر لشکر اور گروہ در گروہ مجاہدین آنے شروع ہوئے ہر ایک قوم اور قبیلہ علم بلند کیے اور جھنڈا ہاتھ میں لیے ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے خوش خوش چلا آرہا تھا جس وقت لشکر قریب ہوا تو قبائل یمن کے قبیلوں میں سے سب سے آگے بہترین زرہ پہنے اور قیمتی تلواریں حمائل کیے یا خود پہنے ہوئے عربی کمانیں لٹکائے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ حمیر تھا اس قبیلے کا سردار ذوالکلاع الحمیری تھا جو ایک عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ جس وقت وہ حضرت صدیق کے قریب پہنچا تو آپ کو سلام کرکے اپنی سکونت اور قومیت کا تعارف کرایا ور حسب ذیل اشعار پڑھے۔
(ترجمہ اشعار) میں قوم حمیر سے ہوں اور جن لوگوں کو آپ میرے ساتھ دیکھتے ہیں، وہ جنگ میں سبقت کرنے والے اور حسب نسب کے اعتبار سے اعلیٰ ہیں۔ شجاعت کے پیشہ کے شیر اور د لیروں کے سردار ہیں۔ بڑے بڑے مسلح بہادروں کو لڑائی کے وقت تلوار کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ہماری عادت اور خوہی لڑائی کی اور ہمت ہی مرنے مارنے کی ہے اور ان سب عہدہ داروں پر ذوالکلاع ان کا سردار ہے۔ ہمارا لشکر آچکا اور ملک روم ہماری جوار نگاہ اور شام ہمارا مسکن صلحیت کی خواہش کے خلاف ہوگا۔ دمشق ہمارا ہے اوروہاں کے رہنے والوں کو ہم ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیں گے۔
حضرت صدیق نے یہ سن کر تبسم فرمایا اور حضرت علی سے کہا: ''اے ابو الحسن! کیا تم نے رسولۖ سے یہ نہیں سنا تھا کہ اذا اقبلت حمیر ومعھا نسائھا تحمل اولادھا فابشروابنصراللہ المسلمین علی اھل الشرک اجمعین۔ (یعنی جس وقت قبیلہ حمیر مع اپنے اہل وعیال کے آوے تو مسلمانوں کو ان کی فتح کی خوشخبری سنا دینا کہ مسلمان تمام مشرکین پر فتح پادیں گے۔) حضرت علی نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ میں نے بھی رسول اللہۖ سے اسی طرح سنا تھا۔''
حضرت انس کہتے ہیں کہ جب قبیلہ حمیر مع اہل وعیال اور سازوسامان گزر گیا تو ان کے پیچھے قبیلہ مذحج جو نہایت عمدہ قیمتی گھوڑوںپر سوار باریک نیزہ ہاتھ میں لیے سرکردگی قیس بن ہبیرہ المردی پہنچا، یہ سردار بھی جس وقت حضرت ابوبکر صدیق کے قریب آیا تو آپ کو سلام کرکے اپنا اور اپنے قبیلے کا تعارف کرایا اور یہ شعر پڑھے۔
ترجمہ: ''ہمارا لشکر آپ کی خدمت میں بہت جلد حاضر ہوگیا۔ ہم قلعہ مراد کے تاج کے مالک ہیں۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوگئے ہیں۔ ہمیں حکم دیجیے تاکہ رومیوں کو اس تلوار سے جو ہم حمائل کیے ہوئے ہیں، قتل کرڈالیں۔''
حضرت صدیق نے ان کو دعا خیر دی، یہ آگے بڑھے ان کے پیچھے قبیلہ طرہ کی فوج تھی جس کے سردار حابس بن سعید الطائی تھے جس وقت حابس خلیفہ اول کے قریب آئے تو ازراہ تعظیم آپ گھوڑے سے اتر کر پیادہ پا چلنے کا ارادہ کرنے لگے۔ مگر سردار اعظم نے قسم دے کر روک دیا۔ جب حابس قریب آئے تو سلام کے بعد مصافحہ کرکے حضرت ابوبکر صدیق نے ان کا اور ان کی قوم کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد قوم ازدایک جمعیت کثیر کے ساتھ تھی، اس کے سپہ سالار جندب بن عمر والدوی تھے۔ اس جمعیت اور قوم کے ساتھ حضرت ابوہریرہ بھی کمان لٹکائے اور ترکش لیے ہوئے موجود تھے۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق ہنسے اور فرمایا تم کیوں چلے تم لڑائی کے فن سے کم واقف ہو۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا، صدیق! اول تو اس لیے کہ جہاد کے ثواب میں شامل ہوجائوں۔ دوسرے شام کے میوہ جات انشاء اللہ العزیز کھانے میں آئیں گے۔ آپ یہ سن کر بہت ہنسے۔
اس کے بعد میسرہ بن مسروق العبسی کے زیرکمان بنو عبس اور اس کے پیچھے قبیلہ کنانہ جس کے سردار فثم بن اشیم الکنانی تھے، آئے تمام قبائل یمن کے ساتھ جو یہاں آئے تھے ان کی اولاد اموال اور عورتیں، گھوڑے، اونٹ وغیرہ موجود تھے۔ حضرت صدیق یہ جاہ وحشم دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے ارو خدا وند تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ مدینہ طیبہ کے اردگرد ہر ایک قبیلہ نے علیحدہ علیحدہ پڑائو کیا۔ چونکہ ایک جم غفیر اور فوج کثیر جمع ہوگئی تھی اس لیے کھانے پینے میں کفایت اور جگہ کی قلت ہوئی۔ سامان رسد میں کمی آئی۔ گھوڑوں کے دانے اور چارے میں تکلیف اٹھانی پڑی۔ یہ دیکھ کر سرداران قبائل نے مجتمع ہوکر آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض ومعروض کی جائے کہ چونکہ یہاں کثرت اژدحام کے باعث تکلیف ہورہی ہے، اس لیے آپ ہمیں شام کی طرف روانہ کردیجیے۔ اس صلاح ومشورہ کے بعد حضرات حضرت ابوبکر صدیق کے پاس حاضر ہوئے اور سلام کرکے آپ کے سامنے بیٹھ گئے۔ ایک نے دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کیا کہ سلسلہ کلام کون شروع کرے۔ آخر سب سے اول قیس بن ہبیرة المرادی نے عرض کیا کہ یا خلیفہ رسولۖ آپ نے ہمیں جس کام کے لیے حکم فرمایا ہم نے اس کو خداوند تعالیٰ اور اس کے رسولۖ کی اطاعت اور جہاد کے شوق میں فوراً قبول کرلیا۔ اب خدا کے فضل سے ہمارا لشکر پوری طرح تیار ہوچکا، سازوسامان سب کرلیا گیا۔ نیز آپ کا شہر گھوڑوں خچروں اور اونٹوں کے لیے تنگ اور فوج کی ضروریات کے لیے ناکافی ہونے کے باعث تکلیف دہ ہے جس کی وجہ سے لشکر کو تکلیف ہوتی ہے اس لیے جنگ کی اجازت دی جائے اور اگر جناب والا کی رائے کسی اور امر کی طرف راغب ہوگئی ہے اور پہلا ارادہ منسوخ فرما چکے ہوں تو ہمیں اجازت دے دی جائے کہ ہم اپنے وطن مالوف کی طرف لوٹ جائیں۔ اسی طرح باری باری ہر ایک سردار قبیلہ نے عرض کیا۔
جس وقت آپ سب کی گفتگو سن چکے تو آپ نے فرمایا کہ اے ساکنین مکہ معظمہ وغیرہ واللہ! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا بلکہ میرا منشاء محض تمہاری تکمیل کرنا تھا تاکہ تمہاری جمعیت پوری ہوجائے۔ عرض کیا گیا حضور کوئی قبیلہ آنے سے باقی نہیں رہا، سب آچکے، آپ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ اور امید کرکے ہمیں روانہ کیجیے۔
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: خالد (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی تلوار | Khalid Ki Talwar Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today