ISLAMIC VIDEOS TUBE: دجال کے ایجنٹ دجال کے ایجنٹ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Sunday, August 2, 2015

دجال کے ایجنٹ



دجال کے ایجنٹ

جدید ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کی وجہ سے جدیدیت کا جو سیلاب اسلامی ملکوں میں در آیا ہے … وہ مسلمانوں کی اکثریت کو خس و خاشاک کی طرح اپنے ساتھ بہا لے جارہا ہے … جدیدیت کے سیلاب بلاء کو ایک طرف جدید ترین مشینوں کا سہارا ہے تو دوسری طرف میڈیا کی پشت پناہی ‘ علامہ اقبال نے سچ فرمایا تھا کہ

دنیا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پیش

تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا



اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

معروف محقق ڈاکٹر گوہر مشتاق لکھتے ہیں کہ … آہ! آج ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹ میڈیا نے مسلمانوں کی آنکھوں کو بے حیاء مناظر دکھا دکھا کر اور ان کے کانوں کو اخلاق باختہ گانے سنا سنا کر ان کی اخلاقی حس کو بے حس کر کے رکھ دیا ہے … ان کی معاشرتی زندگی کے ہر گوشے میں برائی اتنا رواج پکڑ چکی ہے کہ آج برائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جارہا … اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے جس کی نبی اکرم ﷺ نے ایک حدیث مبارکہ میں پیشن گوئی فرمائی تھی کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ جب تم لوگ برائی کا حکم دو گے اور نیکی سے روکو گے… (روایت عن ابی امامۃ الباھلی) جدید دجالی نظام کی جڑوں کی آبیاری مغرب کے ایسے مفکرین اور سائنسدانوں نے کی … جو خدا کی ذات سے بیزار اور مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے … ’’ڈارون‘‘ کی فکر جو کہ مغربی عمرانی علوم کی بنیاد بنی کے مطابق انسان کا ارتقاء بندر سے ہوا اور انسانوں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں۔

’’کارل مارکس‘‘ اور ’’ایڈم سمتھ‘‘ نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ انسان کے تمام اعضاء رئیسہ میں سے ان کا مطمع نظر صرف اور صرف اس کا معدہ ہونا چاہیے … ’’فرائڈ‘‘ نے انسانیت کو جنس پرستی کا پیغام دیا … مغرب کے یہ وہ مفکرین ہیں کہ آج پاکستانی میڈیا پر چھائے ہوئے امریکی پٹاری کے چوٹی کے دانش فروش جن سے مرعوب زدگی کی حد تک متاثر ہیں … ان متعصب اور اسلام سے خوفزدہ تجزیہ نگاروں اور دانش فروشوں کے بس میں نہیں کہ وہ مندرجہ بالا یا دیگر مغربی مفکرین کے ناموں کی تختیاں اپنے گلوں میں ڈال کر پاکستان کے گلی کوچوں میں رقص کرتے پھریں؟ لیکن جدید دجالی نظام کے ان مغربی مفکرین کا انجام کیا ہوا؟ڈاکٹر گوہر مشتاق لکھتے ہیں کہ ’’دجالی نظام کی جڑوں کو مضبوط کرنے والے اکثر مفکرین کا انجام بہت برا ہوا… کارل مارکس انتہائی مایوسی اور کسمپرسی کی حالت میں مرا ‘ ’’فرائڈ‘‘ کی ہر چیز کی جنسی تعبیر سے تنگ آکر اس کے سب سے قابل اعتماد شاگرد او ر مستقبل کے متوقع جانشین کارل نیگ نے اپنے استاد کے نظریات سے نہ صرف یہ کہ توبہ کی … بلکہ ہمیشہ کیلئے اس سے کنارہ کشی بھی اختیار کرلی۔

’’فرائڈ‘‘خود تمام عمر کوکین کا نشہ کرتا رہا … او ر مرنے سے کچھ دیر پہلے اپنے ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے مارفین کے ٹیکے لگا کر ختم کر دیا جائے … یوں فرائڈ نے خودکشی کرلی ‘ مشہور فرانسیسی فلسفی آگسٹ کامتے(August Comte) جو کہ جدید سوشیالوجی کا بانی کہلاتا ہے … زندگی کے آخری سالوں میں ذہنی توازن کھو بیٹھا ‘ جرمن فلسفی شوپن ہار (Sehopenhauer) بھی زندگی کا بیشتر حصہ پاگل رہا۔

مایہ ناز جرمن فلسفی نطشے(Nietzsche) جس نے اپنی کتابThusspoke Zarathustra میں ببانگ دہل لکھ دیا تھا کہ (معاذ اللہ) "God is Dead" یعنی خدا مر گیا ہے(استغفر اللہ) اور پوری دنیا کے دجالی نظام میں یہ بات بہت زیادہ سراہی گئی … او ر یہ خوفناک جملہ لکھنے پر … اسے خراج تحسین پیش کیا گیا … امریکہ کے معروف جریدے نیوز ویک نے 18 اپریل1966 ء کے شمارے میں یہ خبر اپنے فرنٹ کور پر شائع کی … وہی ’’نطشے‘‘ اپنی زندگی کے آخری دس سال پاگل رہ کر موت کی دہلیز پر جاپہنچا۔

دراصل ان عظیم ذہنوں نے اپنے پروردگار کو بھلا دیا تھا … اس لئے پروردگار نے بھی انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا … کیونکہ خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے ‘ جیسا کہ قرآن میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’ترجمہ: ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو ‘ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا ‘ تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا … یہی لوگ فاسق ہیں‘‘ (سورۃ الحشر آیت19 )

مسلمان کا گھر سب سے بڑا قلعہ ہے ‘ مسلم کنبہ سب سے بڑی ڈھال ہے ‘ ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹوں کا سب سے بڑا ٹارگٹ مسلمانوں کا خاندانی نظام ہی ہے ‘ یہ ایجنٹ گھر گھر ٹی وی ‘ انٹرنیٹ ‘ کیبل وغیرہ کے روپ میں گھس کر اس کے افراد کے ذہنوں میں انتشار اور کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔

دوسری طرف سوسائٹی میں مخلوط تعلیم ‘ ویلنٹائن ڈے ‘ بسنت ‘ کیٹ واکس ‘ میراتھن ریس ‘ ہم جنس پرستی اور عورتوں کے حقوق کے نام پر معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو ڈھانے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں … رقص و سرود ‘ ڈسکو ڈانس ‘ گانے بجانے کو … ثقافت قرار دیکر اسلامی معاشرے پر شیطانی طاقتیں باقاعدہ حملہ آور ہوچکی ہیں۔

خدا کے باغی ان مغربی مفکرین کے ذہنی غلام معروف ٹی وی چینلز کے ذریعے ’’ان کے مطابق‘‘ ان کے ذہنوں میں جس قدر بھی گند بھرا ہوا ہوتا ہے … زبردستی قوم کے سامنے انڈیلتے رہتے ہیں‘ ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹ ’’اسلام‘‘ بھی اپنی طرف سے وہ پیش کرنے کی کوشش کررہتے ہیں کہ جو امریکہ اور مغرب کیلئے قابل قبول ہو۔

نہ چہرے پر اسلام ‘ نہ قلب و ذہن اسلام کے تابع ‘ نہ عادات و اطوار اور حرکات و اخلاق پر کہیں اسلام کے سائے … مسلمانو تکا لگائو کی صدائیں لگانے والے مشہور زمانہ رنگ باز ‘ جن کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان کی شریعت قبول نہیں ہے … ہاں لیکن انہیں امریکہ کی وہ شریعت قبول ہے کہ جس میں … اسلام کے نام پر غیر محرم عورتوں سے اٹھکیلیاں کرنا جائز ہو ‘ وہ امریکہ برانڈ اسلام کہ جس میں نہ تو سود پر پابندی ہو نہ بے حیائی اور فحاشی پر کوئی پابندی ہو ‘ نہ امریکہ کے ایجنٹ بننے پر پابندی ہو ‘ نہ برطانیہ ‘ بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹ بننے پر کوئی پابندی ہو۔

پاکستان کے مسلمانو! اگر آپ نے اللہ کے عذاب سے بچنا ہے تو پھر ایک آنکھ والے دجال کے ان سارے ایجنٹوں … کے خلاف پرامن احتجاج کرکے ان کے تسلط سے جان چھڑانا پڑے گی۔

ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹوں میں … ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ‘ اور سیل فون کا نام بھی شامل ہے … آج ہم مسلمانوں کی طرف دیکھیں تو اکثر کی زندگیاں نماز کی بجائے ٹی وی پروگراموں کے گرد گھومتی ہیں۔

نماز قضا ہوتی ہے تو ہو جائے … لیکن ٹی وی پروگرام نہیں چھوٹنا چاہیے اور پھر جس دن کرکٹ کا میچ دکھایا جارہا ہو … اس دن تو پانچوں نمازیں بھی چھوٹ جائیں تو کسے پرواہ ہے (العیاذ باللہ) آجکل پاکستان کے ٹی وی چینلز کے ذریعے پاکستانی قوم کو جس طرح کے اخلاق باختہ … اور شیطانی اشتہارات دکھائے جارہے ہیں … ان اشتہاروں میں اخلاق باختگی اور بے حیائی کے مناظر دیکھ کر تو دجال کی ایک آنکھ بھی پھٹی پھٹی کی رہ جاتی ہوگی؟

پاکستانی قوم کیلئے یہ خبر بریکنگ نیوز کی حامل ہوگی کہ الیکٹرانک چینلز کے ذریعے بے حیائی اورفحاشی پر مبنی جو اشتہارات دکھائے جاتے ہیں … ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹ … ان اشتہارات کے بھی نوٹ وصول کرتے ہیں… یعنی نوٹ سمیٹنے کیلئے قوم کے بچوں اور بچیوں کو بے حیائی کی ترغیب دینا ‘ بینک بیلنس بڑھانے کیلئے قوم کو اخلاقی گراوٹ کا شکار بنا دینا … یہ سب ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹوں کے مخصوص کرتب ہیں ‘ حضرت سیدنا علی المرتضی ؓ کا حدیث نبوی ؐ کی بنیاد پر ایک قول ہے … جس میں انہوں نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہوگی کہ ’’ترجمہ: قیامت کے قریب فساد کا جھنڈا ہر گھر کی چھت پر لہرا رہا ہوگا‘‘… اہل علم و دانش کہتے ہیں کہ غور کیا جائے ’’فساد کا جھنڈا‘‘ جس کی طرف حضرت علیؓ اشارہ کر رہے ہیں ٹی وی کا انٹیناAntenna ہے … جو آج ہر گھر کی چھت پر نصب ہوتا ہے … اسی طرح سرکار مدینہ ﷺ نے قیامت کی ایک او ر نشانی بتائی ’’یعنی لوگ راتوں کو ناچا کریں گے … اور ان کے سروں پر آلات موسیقی ہوا کریں گے ‘‘… آج جب کہ ٹی وی چینلز پر ساری ساری رات … میوزیکل شوز دکھائے جاتے ہیں … اور گلیوں ‘ محلو ں اور سڑکوں پر ہمارے نوجوان اپنے کانوں پر واک مین کے مائیکرو فون لگائے ہوئے چلتے پھرتے موسیقی سنتے دیکھتے ہیں تو آقاء مولیٰ ﷺ کی حدیث مبارکہ کی صداقت پر یقین مزید بڑھ جاتا ہے۔

اب آتے ہیں ایک اور دجالی ہتھیار ’’موبائل‘‘ کی طرف … موبائل نے ہمارے معاشرے کو جس برے طریقے سے برباد کرنے میں کردار ادا کیا ہے … وہ نہایت افسوسناک ہے ‘ کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ جس ملک میں آٹا ہر روز مہنگا ہو رہا ہو … چینی ‘ دالیں ‘ چاول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہو … اس ملک میں آخر موبائل اور اس پر ملنے والے پیکجز دن بدن سستے کیوں ہوتے جارہے ہیں؟

آپ نے تو اس بات پر بھی غور نہیں کیا ہوگاکہ … صرف200 روپے فیس دیکر پورا مہینہ گھروں میں دیکھے جانے والے تقریباً اسی چینلز جو دکھائے جاتے ہیں آخر اس کے پیچھے کیا راز ہے؟ دجال کا کوئی ایجنٹ اس کا جواب یوں دے سکتا ہے کہ حکومت اگر عوام کو سستی تفریح مہیا کر رہی ہے … تو اس پر اعتراض کیوں؟

جواب اس کا بڑا سادا ہے کہ حکومت کو اگر عوام کا اتنا ہی خیا ل ہے تو پھر اسے چاہیے کہ وہ آٹا ہو ‘ یا چاول ‘ کوکنگ آئل ہو یا دالیں چینی ہو یا پتی … اشیاء ضرورت کی ان بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کرتی؟… کیا اس لئے کہ کھانے پینے کی ان اشیاء کا ایک آنکھ والے دجال سے کوئی تعلق نہیں ہے … اور کھانے پینے کی ان چیزوں سے معاشرے میں فحاشی و عریانی نہیں پھیلتی؟ … جبکہ اس کے برعکس دجال کے ایجنٹ یعنی ٹی وی ‘ سنیما ‘ انٹرنیٹ ‘ ڈش ‘ کیبل اور موبائل فونز جتنے سستے ہوں گے … سوسائٹی میں اتنے ہی عام ہوں گے … اور برائی پھیلانے میں ممد اور معاون ثابت ہوں گے۔

نماز آقا و مولیٰ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے … لیکن نماز کے دوران … بعض نمازیوں کی جیبوں میں رکھے ہوئے موبائل اچانک جلترنگ بجا کر … امام اور بقیہ نمازیوں کی توجہ نماز سے ہٹانے کا سبب بن جاتے ہیں … حج جس کو جامع العبادات قرار دیا جاتا ہے … مگر کیا کیا جائے ایسے حاجیوں اور عمرہ ادا کرنے والوں کا کہ جن کے موبائل فون عین وسط حرم میں بج اٹھتے ہیں … اور مائیکل جیکسن کے گانوں پر مشتمل موسیقی حرم پاک میں گونج اٹھتی ہے … اندازہ کیجئے کہ نماز ‘ حج اور طواف کے دوران بھی دجال کے ایجنٹ موبائل عبادت میں انہماک اور لذت کو آناً فاناً ختم کر ڈالتے ہیں۔

جدید مشینوں کا استعمال کوئی برا کام نہیں ہے … لیکن جب ان مشینوں یا آلات سے اللہ کے احکامات کی بغاوت شروع ہو جائے تو وہ آلات اور مشینیں عذاب بن جایا کرتی ہیں۔

موبائل کمپنیوں نے پاکستانی قوم سے اربوں روپیہ کمایا … لیکن ان کمپنیوں نے پاکستانی قوم کے اخلا ق و کردار پر … اتنی کاری ضربیں لگائیں … کہ جن کی وجہ سے ہمارا پورا معاشرتی ڈھانچہ ہل کر رہ گیا ‘ پاکستانی قوم کی جیبوں سے اربوں روپے کمانے والی کمپنیوں نے نوجوانوں کے اخلاق و کردار کو سنوارنے کیلئے کوئی ایک چھوٹا سا کارنامہ بھی سرانجام دیا ہو … تو انہیں چاہیے کہ وہ سامنے لائیں … سستے مسیج پیکجز ‘ نائٹ سستے پیکجز … کے پیچھے چھپے ہوئے مکروہ عزائم تو اب ساری قوم پر آشکارہ ہوچکے ہیں۔

دور جدید میں سائنسی آلات اور مشینوں کے ذریعے… ’’جاہلیت‘‘ کو عام کیا جارہا ہے … ’’جاہلیت‘‘ سے مراد وہ تمام نظریات ‘ عقائد اور معاشرتی رسومات ہیں جو اسلام سے ٹکراتی ہوں … چودہ سو سالوں سے ہر دو میں اسلام کے مقابل میں ’’جاہلیت‘‘ موجود رہی … اور زمانہ قدیم کی ’’جاہلیت‘‘ آج بھی جدید شکل میں موجود ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ’’حضرت آدم کی پیدائش سے لیکر قیامت تک دجال کے ظہور سے زیادہ بڑا کوئی واقعہ نہیں‘‘ (صحیح مسلم)

ایک دوسرے موقع پر حضرت محمد کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ہر ررسول نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا اور میں تمہیں دجال کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں ‘ جو اس سے پہلے کسی نے نہیں بتائی … کہ دجال کی ایک آنکھ ہوگی‘‘(جامع ترمذی)

معروف محقق ڈاکٹر گوہر مشتاق لکھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہ کی آمد کی خبر پہلے اس کے ہرکارے اور ایجنٹ دیتے ہیں … اسی طرح ’’کانے دجال‘‘ کی آمد کا غلغلہ آج اس کے ہرکارے برپا کررہے ہیں … ان ایجنٹوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ وہ سب بھی دجال ہی کی طرح ایک آنکھ رکھتے ہیں … ان میں سرفہرست ٹی وی ‘ سینما ‘ کیبل ‘ ویڈیو کیمرہ ‘ کمپیوٹر (انٹرنیٹ) موبائل فونز اور ویڈیو گیمز شامل ہیں۔

ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹ جدید دجالی نظام میں دنیا کو جکڑ چکے ہیں … جب دنیا کا مشاہدہ ایک آنکھ سے کیا جائے تو وہ بہت سطحی ہوتا ہے … ہر چیز کی گہرائی کا صحیح اندازہ کرنے کیلئے ہمیں دو آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے … اسی لئے اللہ نے انسان کو اپنا یہ احسان یاد کرایا ہے کہ ’’ترجمہ: کیا ہم نے تمہیں دو آنکھیں نہیں عطا کیں‘‘(سورہ بلد) ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹ مذہب اسلام کو تو مختلف خانوں میں بانٹ کر قوم کو لڑانا چاہتے ہیں … لیکن خود پاکستان میں امریکہ برانڈ اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: دجال کے ایجنٹ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today