ISLAMIC VIDEOS TUBE: ڈومز ڈے والٹ یا دجال کا غذائی پہاڑ؟؟ ڈومز ڈے والٹ یا دجال کا غذائی پہاڑ؟؟ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Tuesday, September 15, 2015

ڈومز ڈے والٹ یا دجال کا غذائی پہاڑ؟؟


ڈومز ڈے والٹ یا دجال کا غذائی پہاڑ؟؟
دجال کے چیلے جو یہود یا صیہونیوں کی صورت میں پوری دنیا میں موجود ہیں انکا مقصد اس وقت پوری روئے زمین پردجالی حکومت و اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ جب دجال کا ظہور ہو تو اس کے عالمی نظام کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ پیدا نہ کرسکے۔ چنانچہ پورے زور و شور سے ہر شعبہ میں دجالی کارندوں کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ہر شعبہ زندگی میں دجالی نظام اور حکم چلایا جاسکے۔ ان ہی چیزوں میں ڈومز ڈے والٹ (Doomsday Vault) کے نام سے ایک پروجیکٹ بھی ہے۔ ‘ڈومز ڈے‘ انگریزی میں روز حشر یا قیامت کے دن کو جبکہ “والٹ” حفاظتی تہہ خانہ کو کہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس پر بات کی جائے کہ یہ کیا پروجیکٹ ہے اور اسکا کیا مقصد ہے؟ آپ کے سامنے ایک حدیث اور دجال کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب سے اس موضوع کی تشریح و تطبیق پیش خدمت ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے:
“اس (دجال) کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا (مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ان باتوں کی لیے وہ نہایت حقیر ہے لیکن اللہ اسے اس کی اجازت دے گا (تاکہ لوگوں کا آزمایا جاسکے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں یا دجال پر)۔” (صحیح البخاری: جلد 9، صفحہ 244، روایت المغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ)

اس حدیث کی تشریح میں حضرت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہم لکھتے ہیں :
”تمام ترغذائیں مصنوعی اور کیمیاوی مادوں سے لبریز ہیں۔ ذرا تصور کیجئے! ایسے شہر کے سہولت پسند باشندوں کا کیا بنے گا جو ایک آدمی کی غذا کا بندوبست نہیں رکھتے اور تمام تر انحصار یہودی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر کررہے ہیں۔ جانور مصنوعی نسل کشی کے ذریعے پیدا کیے جارہے ہیں۔ فصلیں مصنوعی بیجوں اور کھادوں سے اگائی جارہی ہیں۔ جہاں امریکی بیج لگ جائے وہاں کوئی دوسرا بیج چل ہی نہیں سکتا”آپ کو ہر مرتبہ کمپنی سے بیج خریدنا پڑے گا ورنہ آپ کی زمین میں دھول اڑے گی“ (دجال: کون، کب، کہاں، صفحہ 158۔157)

مزید لکھتے ہیں:۔
“اس کا اندازہ دنیا کو اس وقت ہوگا جب انسان کے گلے سے پیٹ میں اترنے والی ہر چیز مصنوعی ہوجائے گی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھ میں ہوگی جو بھاری رشوت، دباؤ اور شیطانی ہتھکنڈوں کے ذریعے مقامی صنعتوں کا تباہ کرنے کے لیے قدرتی دیسی خوراک کی فروخت پر پابندی لگوا دیں گی اور پھر دجال اس کو پانی کا ایک قطرہ یا پکی پکائی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دے گا جو اس کے شیطانی مطالبات نہیں مانے گا۔ پانی اور غذا کو مصنوعی بنانے کی دجالی مہم اس لیے جاری ہے کہ مصنوعی چیز صانع کے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ جس کو چاہے بیچے نہ بیچے، دے نہ دے، جبکہ قدرتی چیز قدرت کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو کہ پھول اور کانٹوں کا یکساں خیال رکھتی ہے” (ایضاً، صفحہ 158)

ڈومز ڈے والٹ” دراصل “گلوبل سیڈ والٹ” نامی پروجیکٹ کا کوڈ نام ہے جس کا بظاہر مقصد دنیا کے اندر موجود مختلف قسم کے غذائی بیجوں کو محفوظ کرنے کیلئے ایک مرکز کا قیام ہے۔ چونکہ مختلف قسم کی قدرتی آفات یا نیوکلیئر جنگوں کی صورت میں یہ خدشہ موجود ہے کہ زمینی پیداواری صلاحیت ختم ہوجائے، اس لئے اس مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ کرہ ارض پرموجود ہر قسم کے غذائی بیجوں کو ان آفات سے بچانے کا انتظام کیا جاسکے۔ چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر ناروے کے علاقہ “سوالبارڈ” (Svalbard) کو اس پروجیکٹ کے لئے چنا گیا اور 19 جون 2006 کو “گلوبل سیڈ والٹ” جسے ناروے حکومت نے 8 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے تعمیر کیا ہے کا سنگ بنیاد ناروے، سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک اور آئی لینڈ کے وزرائے اعظم نے رکھا اور 26 فروری 2008 کو مکمل ہوا۔
اس حفاظتی تہہ خانہ کو پہاڑ کے اندر 400 فٹ لمبی سرنگ کھود کربنایا گیا ہے جو سطح سمندر سے 130 میٹر بلند ہے تاکہ سمندری خطرات سے بھی محفوظ رکھا جاسکے۔ سرنگ کے اندر 3 والٹس ہیں اور ہر والٹ کے اندر 15 لاکھ بیجوں کے سامپلز رکھنے کی گنجائش ہے گویا کل 45 لاکھ سامپلز اور 2بلین کے قریب بیج محفوظ رکھے جاسکتے ہیں۔ جس علاقہ (سوالبارڈ) میں یہ بنایا گیا ہے وہ دنیا کا سب سے سرد علاقہ کہلایا جاتا ہے جہاں سارا سال درجہ حرارت منفی رہتا ہے اور یہ بیجوں کی حفاظت کیلئے موزوں و معاون ہے۔ اس تہہ خانے کو کنکریٹ اور سٹیل پر مشتمل ایک فٹ چوڑی دیوار سے محفوظ کیا گیا ہے تاکہ گلوبل وارمنگ اور دیگر آسمانی خطرات سے محفوظ رہ سکے، تہہ خانے میں داخلے کا ایک ہی راستہ ہے جس کے دہانے پر حرکت سے کھلنے والے دو رویہ بلاسٹ پروف دروازہ ہے جبکہ کمرے ہوابند ہیں۔ بیجوں کو نمی سے محفوظ رکھنے کیلیے خاص طور پر تیار کردہ کورز میں ڈھانپا گیا ہے۔ یہ جگہ اپنے سخت سرد ماحول اور برفانی ریچھوں کی موجودگی کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ غرض یہ کہ ہر قسم کے خطرات کو سامنے رکھ کر ان سے بچانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
بظاہر تو اس پروگرام کا مقصد آفات و حوادث سے بیجوں کی حفاظت بتایا گیا ہے لیکن درحقیقت اس کے پیچھے بھی سازشی فطرت یہود کے خفیہ شیطانی عزائم کارفرما ہیں۔جو چیز اس منصوبے کو مشکوک بناتی ہے وہ مشہور زمانہ یہودی افراد، اداروں اور خاندانوں کی اس منصوبے میں غیر معمولی دلچسپی ہے۔ چنانچہ اس منصوبے کے شراکت داروں میں ناروے گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس کی تنظیم “بل اینڈ میلنڈا گیٹس”، راک فیلر فاؤنڈیشن ،وغیرہ شامل ہیں۔ بل گیٹس کی تنظیم نے اس منصوبے میں 30 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے مدد دی ہے۔ منصوبے کے دوسرے شریک کاروں میں جینیاتی طور پر مصنوعی بیجوں کی تیاری کے کاروبار کے حوالے سے سب سے زیادہ پیٹنٹ حقوق رکھنے والی فرم مونسینٹو (Monsanto)کارپوریشن، امریکی فرم (DuPont) اور سوئس فرم سنجینٹا فاؤنڈیشن شامل ہیں۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ جینیاتی طور پرکیمیکلز کے ذریعے تیار کردہ مصنوعی بیج جو”مخلوط بیج” یا Hybrid Seeds بھی کہلاتے ہیں، چند نقائص کی بنا پر خود مغربی ممالک میں تنقید کا نشانہ ہیں۔ جس میں ایک تو یہ کہ ان کی مخصوص ساخت کی وجہ سے عام بیجوں کی نسبت یہ بڑھتے نہیں جس کی وجہ سے فصل کی پیداوار میں کمی رہتی ہے، دوسرا یہ کہ یہ ایک سال کیلئے کارآمد رہتے ہیں۔ چنانچہ کسان کو ہرسال نئے بیج خریدنے پڑتے ہیں اور چونکہ ان کے پیٹنٹ حقوق مخصوص ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہیں اسلئے مارکیٹ میں اس سے کمپنی کی اجارہ داری قائم رہتی ہے اور ساتھ ساتھ غریب کسان عملی طور پر ان کمپنیوں کا غلام بنا رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ان بیجوں کے اندر موجود مخصوص کیمیکل جسے “گلائیفوسیٹ” Glyphosate کہا جاتا ہے زیر زمین پانی کو بھی آلودہ کرتا ہے (اسی بنا پر ڈنمارک نے 2003 میں اس کیمیکل پر پابندی لگائی)، زمین کے بنجر پن اور اس سے تیار شدہ خوراک کے استعمال سے تولیدی صلاحیت کی کمی جیسے نقائص بھی مشاہدہ کیے گئے ہیں۔چنانچہ مارکیٹ میں کمپنی کی اجارہ داری قائم رہتی ہے اور عملاً کسٹمر ان کمپنیوں کا غلام بنا رہتا ہے۔
اسی صورتحال کی نشاندہی ایک اور مصنف نے اپنی کتاب میں یوں کی ہے:
“جو لوگ دجال کی خدائی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے دجال ان سے ناراض ہوکر واپس چلا جائے گا اور پھر ان کی کھیتیاں سوکھ جائیں گی۔ اس بات کو کاشتکار حضرات آج کے دور میں بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے ایک لفظ کا مطلب سمجھتے چلیں۔ پیٹنٹ (Patent) یہ ایک قانون ہے جومالک کی حق ملکیت کو ثابت کرتا ہے۔ نئی عالمی زرعی پالیسی، جس کو کسانوں کی ترقی و خوشحالی میں انقلاب کا نام دیا جارہا ہے دراصل ان کے ہاتھ سے اناج کا ایک ایک دانہ تک چھین لینے کی سازش ہے۔ غذائی مواد کے بیجوں (Seeds) کو پیٹنٹ کے ذریعے یہودی کمپنیاں کسی بیج کو پیٹنٹ (Patent) کرلیں تو پھر گویا وہ ان کی ملکیت ہوگیا۔ مثلاً پاکستانی چاول کو وہ کسی نام سے پیٹنٹ کرلیں تو ہمارا ہرکسان اس کمپنی سے باسمتی کا بیج خریدنے کا پابند ہوگا۔ اگر وہ اپنا بیج بنائے گا تو اس پر جرمانہ اور جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ چونکہ یہ بیج مصنوعی طور پر جینیاتی (Genetic) طریقے سے تیار کیا جاتا ہے اس لئے یہ بیج ایک سال ہی پیداوار اگا سکے گا۔آئندہ سال پھر اگر باسمتی کاشت کرنا ہو تو نیا بیج خریدنا پڑے گا۔اس کے ساتھ دوائی بھی اسی کمپنی کی اس پر کام کرے گی اور اگر کسی اور کمپنی کا سپرے کیا تو فصل تباہ ہوجائے گی۔ نیز اس بیج سے تیارشدہ فصل غذا کے بجائے بیماری ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس (پیٹنٹ) قانون کا سہارا لے کرعالمی یہودی کمپنیوں نے دنیا کی تجارت پر کنٹرول کے بعد اب تمام دنیا کی پیداوار پر قبضے کے لئے یہ قانون بنایا ہے۔ تاکہ کل اگر کوئی ان کی بات ماننے سے انکار کرے تو اس کو اناج کے دانے دانے کا محتاج بنا دیا جائے۔”
(تیسری جنگ عظیم اور دجال: صفحہ 163۔162)

انہی عزائم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے راک فیلر فاؤنڈیشن، بل گیٹس کی تنظیم “بل اینڈ میلنڈا گیٹس” کے تعاون سے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے افریقی ممالک میں “The alliance for Green Revolution in africa” کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے اور سبز باغ دکھا کر بہت سے افریقی ممالک کو اپنے دام تزویرمیں پھنسانے اور انہی مصنوعی بیجوں کا رواج دینے کیلئے اسے “بائیوٹیکنالوجی” کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا چیئرمین سابق یواین سیکرٹری جنرل کوفی عنان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے امریکی نژاد جرمن ماہر معاشیات اور جیوپولیٹیکل نقاد ولیم اینگڈھل (جو نیوورلڈ آرڈرکے موضوع پر ایک بیسٹ سیلر کتاب سمیت چار کتب کے مصنف ہیں)، جو 30 سال سے معیشت، توانائی اور نیوورلڈ آرڈر جیسے موضوعات پر لکھتے رہے ہیں اور سینٹر فار ریسرچ آن گلوبلائزیشن نامی کینیڈین تنظیم کے ریسرچ ایسوسی ایٹ بھی ہیں، اپنی ایک کتابSeeds of Destruction – The Hidden agenda of Genetic Manipulation (تباہی کے بیج) میں ہوشربا حقائق بیان کرچکے ہیں۔ ایک اور مغربی محقق جیفری ایم سمتھ بھی اپنی کتاب Seeds of Deception (دھوکہ دھی کے بیج) سمیت دیگر کئی کتب میں ان گھناؤنے عزائم کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔ بیجوں کی جینیاتی تحقیق کیلئے سب سے زیادہ فنڈنگ کرنے والی تنظیم راک فیلر فاؤنڈیشن ہے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی سے خفیہ طور پر منتقل کئے جانے والے سائنسدانوں کو اس کام پر لگایا جو اس سے پہلے ہٹلر کے بدنام زمانہ “جبری نس بندی” جیسے پروگراموں کیلئے کام (تحقیق و عملی معاونت) کرتے رہے۔ اس پروگرام کا مقصد جسے Eugenics کہا جاتا ہے،جرمن قوم سے بقول ہٹلر “ناکارہ، بیمار اور اپاہج” جرمنوں کا خاتمہ کرکے پاکیزہ جرمن قوم کا قیام تھا تاکہ نسلی تفاخر پر مشتمل ایک آرین اعلٰی نسل کی تشکیل ہوسکے جو اس کے قریب دنیا پر قبضہ کرسکے۔ یاد رہے کہ آرین جرمنوں سے ہٹلر کی مراد ہر وہ جرمن تھا جو لمبے قد کا مالک، سنہرے بالوں والا اور نیلی آنکھوں والا ہو۔ چنانچہ اس پروگرام کے تحت 400,000 جرمنوں کی جبری نس بندی کی گئی جبکہ ایک اور پروگرام جسے “ٹی فور” کا نام دیا جاتا ہے ڈاکٹروں کے ذریعے 70000 شہریوں کو قتل کردیا گیا۔ اس پروگرام کی فنڈنگ کرنے والی بھی راک فیلر فاؤنڈیشن تھی۔
گلوبل سیڈ والٹ یا ڈومز ڈے والٹ پراجیکٹ کو چلانے والی تنظیم Global Crop Diversity Trust کے بورڈ ممبران میں وہ تمام ممبران شامل ہیں جو راک فیلر فاؤنڈیشن کے فیملی پلاننگ، آبادی کے کنٹرول اور جبری نس بندی جیسے پروگراموں یا جینیاتی طور پرتیارشدہ پیٹنٹ بیجوں کے کاروباری ہیں۔کیا یہ پروجیکٹ بھی مغرب کی حیاتیاتی جنگ کا حصہ ہے جس کا مقصد کسی متوقع خدشے کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر دنیا کے غذائی ذخائر کو اپنے قبضے میں لینا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا البتہ دجالی قوتوں کے عزائم اب کسی سے مخفی نہیں رہے۔ آپ یہ بات نوٹ کریں کہ جب بھی کوئی آسمانی یا زمینی آفت آتی ہے تو این جی اوز ریلیف کے نام پر پہنچ آتی ہیں لیکن ان کے اقدامات ریلیف سے آگے نہیں بڑھ پاتے کہ دوبارہ وہ علاقے حقیقی ترقی کی بہار دیکھ پائیں اور سالہا سال گزرنے کے باوجود غریب عوام دو وقت کی روٹی کیلئے لائنوں میں لگ کراور حکمران اپنی سطح پر بھکاریوں کی طرح مانگنے پر مجبور رہتے ہیں اور اربوں روپے لگا کر بھی ان کی آبادکاری نہیں ہوپاتی۔ زلزلہ کے بعد کے حالات آپ دیکھ لیں کہ کئی برس گزرنے اور اربوں ڈالر لگنے کے باوجود ترقی 10 فیصد بھی بمشکل نظر آرہی ہے۔ اسی مصنف نے بھی اپنی کتاب میں اس جانب اشارہ کیا تھا۔
“پیٹنٹ بل کے ذریعے اس طرح وہ دھیرے دھیرے ہماری پیداوار پر قبضہ کرتے جارہے ہیں۔ جلد ہی وہ تمام دنیا کی پیداوار پر مکمل کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری اس بات کو سمجھنے کیلئے آپ نئی زرعی پالیسیوں کا مطالعہ کیجئے یا پنجاب کے کسانوں سے تفصیل دریافت کریں تو بات باآسانی سمجھ میں آجائے گی۔ دھیرے دھیرے ملک کے اندر غذائی مواد گندم چاول وغیرہ کی کاشت کی مسلسل حوصلہ شکنی کرکے اس کی کاشت کو کم کرایا جارہا ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ ہم ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم اور چینی دریافت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں؟” (تیسری جنگ عظیم اور دجال، صفحہ163)
ولیم اینگڈھل نے بھی ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں 1400 سے زائد سیڈ بینک ہونے کے باوجود اس بم پروف گلوبل سیڈ والٹ کی ضرورت کیوں؟۔
یقیناً اس کی وجہ وہی ہے جس کا اظہار 1970 میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر نے ان الفاظ میں کیا تھا:
If you control the Oil, you control the country,
If you control food, you control the population.
یعنی “اگر آپ تیل پر اختیار حاصل کرلیں تو ملک پر قابو پاسکتے ہیں اور اگر آپ خوراک پر اختیار حاصل کرلیں تو آبادی پر قابو پاسکتے ہیں”
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: ڈومز ڈے والٹ یا دجال کا غذائی پہاڑ؟؟ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today