ISLAMIC VIDEOS TUBE: دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کا دجالی پلان ایک اور فراڈ دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کا دجالی پلان ایک اور فراڈ - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Thursday, September 17, 2015

دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کا دجالی پلان ایک اور فراڈ



دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کا دجالی پلان ایک اور فراڈ

کروڑوں مسلمانوں سمیت اربوں انسانوں کیخلاف پوری دنیا میں مالیاتی آمریت کی اجارہ داری کیلئے یورپی یہودی اسرائیل (Euro۔Jewish state of Israel) نے مسلمانوں اور دیگر غریب ممالک کو اپنی غلامی اور محتاجی کے چنگل میں پھنسانے اور بین الاقوامی مذموم عزائم کو تقویت دینے کیلئے ایک مربوط اور منظم سازش کے تحت منصوبہ بندی کی ہوئی ہے جس پر متواتر عمل درآمد جاری ہے۔عمومی طور پر شدید غربت کے شکار ممالک کے ذرائع ابلاغ ایسی رپورٹوں کو غائب کردیتے ہیں جہاں کا سرکاری مذہب اسلام ہو۔ اس کی ایک بڑی مثال "انٹرنیشنل کانفرنس برائے گولڈ دینار مالیات" (conference on International Gold Dinar Money)ہے جوکوالالمپور کے پْڑا ٹریڈ سینٹر میں مورخہ24 اور25جولائی 2007ئ کو منعقد ہوئی تھی جس میں ملائیشا کے سابق وزیر اعظم تْن ڈاکٹر مہاتیر محمد نے مالیات کے حوالے سے انتہائی پْر مغز تقریر کی تھی۔جس میں مرکزی خیال یہ تھا کہ" سونے کے دینار کے سکے واپس لائے جائیں اور اس کاغذی مالیاتی نظام کو تبدیل کردیا جائے جو امریکی ڈالر کے پْر فریب تانے بانے سے بندھا ہوا ہے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو اس معاشی اور مالیاتی جال سے نکال سکیں"۔یہ نظام خصوصی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جو یہودی و نصاری گٹھ جوڑ کے آگے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ، عنقریب یہ نظام اپنے ارتقائی منازل کو طے کرتے ہوئے اس مقام تک جا پہنچے گا جہاں موجودہ رائج کاغذی نوٹ کا نظام ہے۔کاغذی نوٹ کی جگہ بتدریج "الیکڑونک روپیہ"(Electronic Money) کا نظام ساری دنیا میں رائج کیا جارہا ہے جیسے بغیر حجت کے قبول بھی کرلیا جائے گا ، جبکہ ہم اب بھی دیکھ رہے ہیں کہ بنکوں میں رکھے اربوں روپوں سے سود بنک حاصل کرتے ہیں اور جن کے اکائونٹ ہوتے ہیں ، وہ" ڈیبٹ کارڈ" یا سودی نظام میں گرفتار ہونے والے" کریڈٹ کارڈ "کے ذریعے ترسیل زر کو ممکن بنا رہے ہیں۔جبکہ ای بنکگنگ کے ذریعے بھی تجارتی لین دین معمول کا ذریعہ بن چکا ہے اور بتدریج ایسے عام لوگوں پر بھی لاگو کرایا جارہا ہے جس کی ایک چھوٹی مثال "ایزی پیسہ"کے ذریعے مواصلات زر کا پہنچانا بھی ہے۔دراصل یہود و نصاری کے گٹھ جوڑ سے جو نظام تشکیل پایا ہے اس کا بنیادی مقصد دنیا کے مالیاتی نظام سے اس روپیہ کو جس میں اس کی اپنی ذاتی قدر و قیمت موجود تھی اس کو ایسے روپیہ سے تبدیل کردینا تھا جس کی کوئی ذاتی قیمت نہ ہو۔John Perkins )کی کتاب Confessions of an Economic Hit Man کا مطالعہ مفید ہوسکتا ہے)۔ علاوہ ازیں ہمیں سمجھنے کیلئے ، کہ جیسے ہی کسی ملک کی کرنسی کی قیمت گھٹا دی جاتی ہے ، وہاں پر زمین و جائیداد کی قیمت ، مزدوری اور دیگر ضروریات زندگی کی چیزیں ان لیٹروں کیلئے سستی ہوجاتی ہیں جنہوں نے یہ نظام ترتیب دیا ہے۔ پاکستان میں ڈالر کے موجودہ اتار چڑھاؤ میں جن مالیاتی لیٹروں کو کھربوں روپیہ کا فائدہ پہنچا ہے وہ اسی کاغذی کرنسی نظام کا ایک حصہ ہے۔جب پیسوں کی قیمت گھٹ جاتی ہے تو آئی ایم ایف ان ممالک پر پرائیویٹائزیشن کیلئے دباؤ ڈالتی ہے اور پھر مالیاتی لیٹرے ان ممالک کا پٹرول ، گیس ، بجلی بنانے کے کارخانے ، ٹیلی فون کمپنیاں اور دیگر صنعتی اور معدنی وسائل اونے پونے دام خرید لیتے ہیں۔کالے دھن کو سفید کرنے کی اسکیمیں لائی جاتی ہیں اور غیر قانونی دھندوں و ہتھکنڈوں سے اکھٹا کئے جانے والا روپیہ قانونی بن جاتا ہے۔اپریل1933ء کے ایک واقعے سے یہود ونصاری کے گٹھ جوڑ کی بین الاقوامی سازش سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اس مالیاتی نظام کے تحت دولت کی قانونی چوری کس طرح کی جاتی ہے۔امریکی حکومت نے ایک قانون لاگو کیا جس کے تحت امریکی شہریوں کیلئے سونے کے سکے ، ان کی خام شکل اور سونے کے سرٹیفیکٹ رکھنا جرم قرار دے دیا گیا ، سونے کے سکوں کو لین دین کیلئے استعمال سے روک دیا گیا اور ان کی قانونی حیثیت کو ختم کردیا گیا ، یوں یہ سکے روپے کی طرح خرید وفروخت میں استعمال نہیں ہوسکتے تھے، امریکی حکومت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ ایک خاص وقت تک یہ سکے کسی کے پاس نظر آئے تو اس کو دس ہزار ڈالر کا جرمانہ یا چھ مہینے قید کی سزا ہوگی ، ان سکّوں اور سرٹیفیکیٹوں کے عوض امریکہ کے فیڈرل ریزرو بنک نے جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ، کاغذی نوٹ (امریکی ڈالر)جاری کردئیے اور ہر ایک اونس کے عوض بیس ڈالر کا نوٹ دیا جانے لگا ، گویا ایک اونس سونے کا نعم البدل کاغذی نوٹ میں تبدیل کردیا گیا ، نتیجہ کے طور پر عوام دوڑ پڑی ، قید اور جرمانہ سے بچنے کیلئے اپنے سونے کے سکوں کے عوض ڈالر کے نوٹ تبدیل کروانے لگی ، مگر جو لوگ سمجھ بوجھ رکھتے تھے انھوں نے سونے کو تبدیل کرنے کے بجائے مزید سونا خریدنا شروع کیا اور انہیں سوئس بنکوں میں بھیجتے چلے گئے اور پھر اسی سال برطانیہ نے بھی امریکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک میں یہی کاروائی کی اور سونے کو تجارتی مقاصد کے استعمال سے روک دیا انہوں نے صرف یہ کیا کہ اپنی کاغذی کرنسی پاؤنڈ اسڑلنگ کو سونے کی ضمانت سے الگ کردیا ، جب امریکہ میں تمام کا تما م سونا کاغذی کرنسی میں تبدیل ہوگیا تو جنوری1934ء میں امریکی حکومت نے اپنی مرضی سے اپنے کاغذی ڈالر کی قیمت میں چودہ فیصد کی کمی کردی اور اس کے ساتھ ہی اپنے اس قانون کو جس کے ذریعے سونا رکھنا ممنوع کردیا گیا تھا ، ختم کردیا
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کا دجالی پلان ایک اور فراڈ Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today