ISLAMIC VIDEOS TUBE: Allama Iqbal Kay Maah o Saal [Urdu] Allama Iqbal Kay Maah o Saal [Urdu] - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Monday, November 9, 2015

Allama Iqbal Kay Maah o Saal [Urdu]

اقبال: ماہ و سال کے آئینے میں

۹ نومبر ۱۸۷۷ء کوجمعہ کے روز، فجر کے اوقات میں شیخ نور محمد کے ہاں ایک سرخ و سپید بچے نے جنم لیا۔ بچے کا نام محمد اقبال رکھا گیا۔
۱۸۷۹
ننھے اقبال کو خاندان والوں نے جونکیں لگوائیں، جنہوں نے دائیں آنکھ کے قریب سے زیادہ خون چوس لیا اور اقبال کی دائیں آنکھ کی بینائی ہمیشہ کے لیے کمزور ہو گئی۔
۱۸۸۲
اقبال کو مولوی عمر شاہ کی مسجد میں ابتدائی تعلیم کے لیے داخل کروایا گیا۔
۱۸۸۳
مولوی عمر شاہ نے تدریس کا سلسلہ بند کر دیا اور اقبال کو مولوی غلام حسن کی مسجد میں تعلیم کی غرض سے بھیج دیا گیا۔ شیخ نور محمد کے دوست مولوی سید میر حسن نے اقبال کو دیکھا اور شیخ نور محمد کو اس بات پر راضی کر لیا اور اقبال کو سکاچ مشن سکول میں جدید تعلیم کے لیے داخل کروا دیا جائے۔
۱۸۸۵
اپریل میں اقبال نے درجہ اول کا امتحان پاس کیا۔
۱۸۸۸
اقبال نے درجہ پنجم کا امتحان پاس کیا۔
۱۸۹۱
فروری میں اقبال نے پنجاب یونیورسٹی کے اینگلو ورنیکلر مڈل کا امتحان پاس کیا۔
۱۸۹۳
۲ مئی کو اقبال بارات لیے گجرات جانے کو تیار تھے کہ مولوی سید میر حسن کے بیٹے نے انہیں درجہ دہم میں کامیاب ہونے کی خوشخبری سنائی۔ اقبال نے یہ خبر گھوڑے پر بیٹھے موصول کی۔۴ مئی کو اقبال کا نکاح شیخ عطا محمد کی بیٹی کریم بی بی سے گجرات میں ہوا۔ ستمبر میں اقبال کی پہلی غزل گلدستہ "زبان" دہلی میں شائع ہوئی۔ غزل کا مطلع تھا:

آبِ تیغِ یار تھوڑا سا نہ لے کر رکھ دیا
باغِ جنت میں خدا نے آبِ کوثر رکھ دیا

۱۸۹۵
اپریل میں اقبال نے ایف-اے کا امتحان پاس کیا۔اقبال نے گورنمنٹ کالج میں مزید تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ بی-اے میں اقبال نے فلسفہ، انگریزی ادب اور عربی کے مضامین کا انتخاب کیا۔ ستمبر میں اقبال لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔
۱۸۹۶
لاہور میں انجمن کشمیری مسلمانان قائم ہوئی، اقبال اس کے بانی اراکین میں سے تھے۔ انجمن کے پہلے اجلاس میں اقبال نے فلاحِ قوم کے عنوان سے ۲۷ اشعار کی ایک نظم پڑھی۔

دعا یہ تجھ سے ہے یا رب کہ تا قیامت ہو
ہماری قوم کا ہر فرد قوم پر مفتوں
دکھائیں فہم و ذکا و ہُنر یہ اوروں کو
زمانے بھر کے یہ حاصل کریں علوم و فنوں

اسی سال اقبال کی بیٹی معراج بیگم پیدا ہوئیں۔
۱۸۹۷
بی-اے کے امتحان کا نتیجہ نکلا۔ اقبال کو عربی میں اول آنے پر پنجاب یونیورسٹی نے خان بہادر ایف-جلال الدین میڈل عطا کیا۔اقبال نے گورنمنٹ کالج میں ایم-اے فلسفہ میں مزید تعلیم کے لیے داخلہ لے لیا۔
۱۸۹۸
ٹامس آرنلڈ علی گڑھ یونیورسٹی سے ریٹائر ہو کر گورنمنٹ کالج میں پروفیسر کی حیثیت سے آ گئے۔ ایم-اے فلسفہ کی جماعت میں اقبال ٹامس آرنلڈ کے واحد طالب علم تھے۔ ۲۳ جون کو اقبال کے بڑے بیٹے آفتاب اقبال کی پیدائش ہوئی۔ دسمبر میں اقبال نے قانون کی ڈگری کے لیے امتحان دیا جس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
۱۸۹۹
اپریل میں نے ایم-اے فلسفہ کے امتحان میں میڈل حاصل کیا۔ مئی میں اوریئنٹل کالج میں ریسرچ سکالر کے طور پر تقرر ہوا جہاں عربی کتبِ نصاب کی طباعت کی نگرانی، عربی اور انگریزی کتب کا ترجمہ اور درس و تدریس کے فرائض شامل تھے۔ ماہانہ تنخواہ تقریباََ ۷۴ روپے تھی۔ قوم کو تعلیم دینے والے کی عملی زندگی کا آغاز بھی بحیثیت استاد ہوا۔ اسی سال اقبال نے انجمن حمایتِ اسلام کی رکنیت حاصل کی۔
۱۹۰۰
فروری میں اجنمن حمایتِ اسلام کے پندرھویں سالانہ اجلاس کے موقع پر اقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم "نالۂ یتیم" پڑھی۔ اس نظم نے لاہور اور گرد و نواح کے علاقوں میں اقبال کے بہت سے قدر دان پیدا کر دیے۔ ہوسٹل کی چار دیواری سے نکل کر اقبال کی شہرت گھر گھر پھیلنے لگی۔ علی بخش کو اقبال نے اپنے ہاں ملازم رکھ لیا۔ اسی سال اقبال کا ایم-اے فلسفہ کا تحقیقی مقالہ انڈین انٹی کیوری میں شائع ہوا۔ یہ پہلا نثری کام تھا جو منظرِ عام پر آیا۔
۱۹۰۱
جنوری میں گورنمنٹ کالج میں عارضی طور پر اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنری کا امتحان دیا جس میں کامیاب ٹھہرے لیکن دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی بنا پر میڈیکل بورڈ نے آپ کو نا اہل قرار دیا۔ اپریل کے مخزن میں اقبال کی نظم 'ہمالہ' شائع ہوئی۔ یکم جولائی کو اوریئنٹل کالج میں واپس آ گئے۔
۱۹۰۲
فروری میں انجمن حمایتِ اسلام کے ۱۷ ویں اجلاس میں شرکت کی۔ اسی سال اقبال نے امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔ ٹامس آرنلڈ نے انگلستان اور جرنی جانے کا مشورہ دیا۔
۱۹۰۳
مارچ میں انجمن حمایتِ اسلام کے جلسہ میں "فریادِ امت" پڑھی۔ اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد پر بلوچستان میں مقدمہ قائم ہو گیا جس کے لیے اقبال بلوچستان روانہ ہوئے۔ اسی سال اقبال نے اپنا تجزیہ کرتے ہوئے شعر کہا:

اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ تمسخر اس میں واللہ نہیں ہے

۱۹۰۴
ٹامس آرنلڈ گورنمنٹ کاج سے سبکدوش ہو کر انگلستان واپس چلے گئے۔ اقبال نے اس پر نالۂ فراق کے عنوان سے نظم لکھی۔ اگست میں آپ شیخ عطا محمد کے پاس ایبٹ آباد روانہ ہو گئے اور وہاں قومی زندگی کے عنوان سے ایک شاہکار لیکچر دیا۔ اسی سال اقبال کی پہلی نثری کتاب "علم الاقتصاد" شائع ہوئی۔ اقتصادیات کے موضوع پر اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب تھی۔
۱۹۰۵
ستمبر میں انگلستان روانہ ہوئے۔ لاہور سے دہلی کا قصد کیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء کے دربار پرحاضری دی اور "التجائے مسافر" کے نام سے نظم پڑھی۔ اور چند روز کے بعد انگلستان روانہ ہو گئے۔

چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شرابِ علم کی لذّت کشاں کشاں مجھ کو
۱۹۰۶
مارچ میں بی-اے کی ڈگری کے لیے فلسفہ اخلاقیات کے شعبے میں ایک مقالہ پیش کیا۔
۱۹۰۷
مارچ ۱۹۰۷ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں کچھ پیغام نہایت واضح تھے۔ اسی نظم میں ایک حقیقت کو بیان کیا گیا:

میں ظلمتِ شب میں لے کر نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہو گی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہو گا

۱۹۰۳ کے تجزیے کے برعکس ۱۹۰۷ میں اقبال خود آگاہ ہو چکے تھے۔ یہ شعر اس کا واضح اعلان تھا۔ جون میں اقبال کو بی-اے کی ڈگری دی گئی۔ جولائی میں آپ جرمنی پہنچے اور نومبر میں پی-ایچ-ڈی کے لیے اپنا مقالہ یونیورسٹی میں جمو کروا دیا۔ اسی سال میونخ یونیورسٹی سے آپ کو پی-ایچ-ڈی کی ڈگری عطا ہوئی۔
۱۹۰۸
لندن یونیورسٹی میں چھ ماہ کے لیے عربی زبان و ادب پر لیکچرار مقرر ہوئے۔ جولائی میں لندن سے دہلی پہنچے اور اگلے دن لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ اہلیانِ لاہور کی جانب سے بے مثال استقبال کیا گیا۔ اکتوبر میں ایڈووکیٹ کے طور پر اندراج ہوا اور چیف کورٹ پنجاب نے اعلٰی عدالتوں میں پریکٹس کی اجازت دی۔ لوزاک پبلشرز لندن میں اقبال کا پی-ایچ-ڈی کا مقامل شائع کیا۔
۱۹۰۹
انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں "اسلام ایک اخلاقی اور معاشرتی نقطۂ نظر سے" کے عنوان سے مضمون پڑھا۔ مئی میں گورنمنٹ الج میں فلسفے کے پروفیسر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے بھی فلسفہ کے پروفیسر کی آسامی پیش کی لیکن چند وجوہات کی بنا پر اقبال علی گڑھ یونیورسٹی کی آسامی کو قبول نہ کر سکے۔
۱۹۱۰
اپنی نوٹ بک لکھا شروع کی جو بعد میں "شذراتِ فکرِ اقبال" کے نام سے شائع ہوئی۔ سردار بیگم سے نکاح ہوا لیکن رخصتی نہ ہوئی۔ اسی سال "ملتِ بیضا پرایک عمرانی نظر" کے عنوان سے شاہکار مقالہ لکھا۔ دسمبر میں گورنمنٹ کالج کی ملازمت سے مستعفی ہوئے۔
۱۹۱۱
مارچ میں "ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر" علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھا۔ اپریل میں "شکوہ" انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس میں پڑھی۔ دسمبر میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ شبلی نعمانی نے آپ کو پھولوں کا ہار پہنایا اور قوم کی جانب سے "ملک الشعراء" کا خطاب دیا۔
۱۹۱۲
اپریل میں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس میں "جوابِ شکوہ" پڑھی۔ اس سال اقبال نے بہت سی شاہکار نظمیں لکھیں۔ مہاراجہ الور کی جانب سے پرائیویٹ سیکرٹری کی پیش کش ہوئی، اقبال نے انکار کر دیا۔
۱۹۱۳
مختار بیگم سے شادی ہوئی۔ سردار بیگم کو مختار بیگم دونوں کی رخصتی اسی سال ہوئی۔ ستمبر میں مسجد کی شہادت کے ایک مقدمہ کی پیروی کے لیے کانپور روانہ ہوئے۔ الہ آباد گئے اور اکبر الہ آبادی سے ملاقات کی۔
۱۹۱۴
فارسی مثنوی "اسرارِ خودی" کے چند مقامات اانجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھے۔ نومبر میں اقبال کی والدہ امام بی بی وفات پا گئیں۔

کس کو اب ہو گا وطن میں آہ! میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
خاکِ مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شبی میں کس کو میں یاد آؤں گا!

۱۹۱۵
ستمبر میں فارسی مثنوی "اسرارِ خودی" شائع ہوئی۔ ۱۷ اکتوبر کو اقبال کی بیٹی معراج بیگم وفات پا گئیں۔
۱۹۱۶
جولائی میں اقبال کو گردے کی تکلیف ہوئی۔
۱۹۱۷
"شذراتِ فکرِ اقبال" کی چند تحریریں، نیا زمانہ لکھنؤ میں شائع ہوئیں۔
۱۹۱۸
دوسری فارسی مثنوی "رموزِ بیخودی" شائع ہوئی۔ ملت کے امراض کا حل قوم کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ اسی سال "اسرارِ خودی" کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔
۱۹۱۹
پنجاب یونیورسٹی میں اوریئنٹل فیلٹی کے ڈین مقرر ہوئے۔
۱۹۲۰
آر-نکلسن نے "اسرارِ خودی" کا ترجمہ کیا جو اس سال انگلستان میں شائع ہوا۔
۱۹۲۱
جون-جولائی میں ایک مقدمہ کی پیروی کے لیے کشمیر کی طرف روانہ ہوئے۔ ۷ دسمبر کو لکھا: "سفرِ یورپ کے دوران میرے خیالات میں عظیم انقلاب پیدا ہو گیا۔ سچ یہ ہے کہ یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان بنا دیا ہے۔"

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

۱۹۲۲
اپریل میں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں "خضرِ راہ" پڑھی۔ نواب سر ذوالفقار علی خان نے اقبال کی فکر پر پہلی کتاب لکھی۔
۱۹۲۳
یکم جولائی کو اقبال کو گورنمنٹ کی جانب سے "سر" کا خطاب دیا گیا۔ انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں نظم "طلوعِ اسلام" پڑھی۔ یکم مئی کو فارسی شاعری کی تیسری کتاب "پیامِ مشرق" شائع ہوئی۔
۱۹۲۴
ستمبر میں اردو شاعری کی پہلی کتاب "بانگِ درا" شائع ہوئی۔ ۵ اکتوبر کو اقبال کے بیٹے جاوید اقبال کی ولادت دوسری بیوی سردار بیگم سے ہوئی۔ زچگی ک عالم میں تیسری بیوی مختار بیگم کا انتقال ہو گیا۔
۱۹۲۵
اسلامیہ کالج میں "اسلام اور اجتہاد" کے نام سے لیکچر دیا۔
۱۹۲۶
ستمبر میں "بانگِ درا" کا دوسرا ایڈیشن شائعع ہوا۔ نومبر میں مجلس قانون ساز پنجاب کے ممبر منتخب ہوئے۔ ۶ دسمبر کو اقبال کی کامیابی کا سرکاری اعلان ہوا۔
۱۹۲۷
مارچ میں پنجاب مجلس قانون ساز اسمبلی میں اقبال نے پہلی دفعہ خطاب کیا۔ اپریل میں انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں "مسلم ثقافت کی روح" کے موضوع پر انگریزی میں خطاب کیا۔ جون میں فارسی شاعری کی چوتھی کتاب "زبورِ عجم" شائع ہوئی۔ نومبر میں مسلم لیگ مخلوط انتخاب کے مسئلہ پر دوحصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک جناح لیگ تھا اور دوسری شفیع لیگ تھی۔ اقبال نے شفیع لیگ کا ساتھ دیا۔
۱۹۲۸
فروری میں پنجاب کونسل میں مالیہ اراضی پر تقریر کی اور مالیہ کی وصولی کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ دسمبر میں جنوبی ہند کے سفر پر روانہ ہوئے۔ چودھری محمد حسین اور ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی ہمراہ تھے۔
۱۹۲۹
جنوری میں مدراس پہنچے جہاں ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔ سفرِ مدراس میں اقبال نے چھ لیکچر دیے جو بعد میں خطباتِ اقبال کے نام سے مشہور ہوئے۔ اسی سفر میں اقبال سلطان ٹیپو شہید کے مزار پر حاضر ہوئے اور فاتحہ خوانی کی۔ ستمبر میں اقبال کے استاد مولوی سید میر حسن کا انتقال ہو گیا۔ نومبر میں اقبال نے علی گڑھ کے اسٹریچی ہال میں لیکچر دیا۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے اقبال کو ڈی-لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں لاہور واپس آ گئے۔
۱۹۳۰
مدراس میں دیے گئے چھ لیکچرز کا مجموعہ شائع ہوا۔ اگست میں چھوٹی بیٹی منیرہ بانو پیدا ہوئیں۔ ۱۷ اگست کو شیخ نور محمد سیالکوٹ میں وفات پا گئے۔ ۲۹-۳۰ دسمبر کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس الہ آباد کی صدارت کی اور صدارتی خطبہ میں علیحدہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔
۱۹۳۱
اپریل میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں شرکت کی۔ ستمبر میں دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن روانہ ہوئے۔۲۵ نومبر کو اقبال نے افغانستان کے جلا وطن حکمران امان اللہ خان سے روم میں ملاقات کی۔ ۲۶ نومبر کو رائل اکیڈمی روم میں لیکچر دیا۔ ۲۷ نومبر کو اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی سے ملاقات کی۔ ۲۹ نومبر کی شام قاہرہ پہنچے جہاں ۲ دسمبر کو مصر کے علماء سے ملاقات کی۔ ۴ دسمبر کو بیت المقدس روانہ ہوئے۔ ۶ دسمبر کو موتمر عالمِ اسلامی کے افتتاحی اجلاس سے کطاب کیا۔ ۷ دسمبر کو موتمر کے نائب صدر منتخب کیے گئے۔ ۳۰ دسمبر کی صبح لاہور پہنچے اور فرمایا کہ فلسطین کا سفر میری زندگی کا یادگار واقعہ ثابت ہوا ہے۔
۱۹۳۲
۲ مارچ کو اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیرِ اہتمام پہلا یومِ اقبال منایا گیا۔ فروری میں فارسی شاعری کی پانچویں کتاب "جاوید نامہ" شائع ہوئی۔ اگست میں مولانا انور شاہ کاشمیری سے ملاقات کی۔ ۱۷ اکتوبر کو تیسری گول میز کانفرنس کے لیے لاہور سے روانہ ہوئے۔ ۱۷ نومبر کو گول میز کانفرنس کا پہلا اجلاس ہوا۔ ۲۰ دسمبر کو لندن سے پیرس پہنچے اور ۲۱ دسمبر کو ممتاز فلسفی ہنری برگساں سے ملاقات کی۔
۱۹۳۳
جنوری میں پیرس سے اندلس پہنچے۔ مسجدِ قرطبہ میں اذان دے کر دو نفل ادا کیے۔ ۲۴ جنوری کو میڈرڈ میں لیکچر دیا۔ ۲۲ فروری کو بمبئی واپس پہنچے۔ ۲۷ فروری کو لاہور واپس آ گئے۔ ۲۰ اکتوبر کو افغانستان کی حکومت کی دعوت پر افغانستان روانہ ہوئے جہاں آپ کو تعلیمی مقاصد کے لیے مشورے کی غرض سے بلایا گیا تھا۔ سر راس مسعود اور سید سلیمان ندوی آپ کے ہمراہ تھے۔ اس سفر کے دوران حکیم سنائی اور بابر کے مزارات پر گئے۔ ۴ دسمبر کو پنجاب یونیورسٹی نے آپ کو ڈی-لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ اقبال پہلے ہندوستانی تھے جنہیں یہ ڈگری دی گئی۔
۱۹۳۴
۱۰ جنوری کو عید الفطر کے موقع پر شدید سرد موسم میں سویوں پر دہی ڈال کر کھانے سے آپ کو گلے کی تکلیف ہوئی اور طویل بیماری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خطباتِ اقبال کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ جون میں حکیم نابینا نے علاج شروع کیا۔ ۲۹ جون کو جاوید اقبال کے ہمراہ حضرت مجدد الف ثانی کے مزار پر حاضری دی۔یکم جولائی کو انجمن حمایتِ اسلام کے صدر منتخب ہوئے۔ نومبر میں مثنوی "پس چہ باید کرد مع مسافر" شائع ہوئی۔
۱۹۳۵
جنوری میں اردو شاعری کا دوسرا مجموعہ "بالِ جبریل" شائع ہوا۔ ۲۹ جنوری کو برقی علاج کی غرض سے بھوپال روانہ ہوئے۔ مئی میں قادیانیت کے دائرہ اسلام سے خارض ہونے کا بیان اخبارات میں شائع ہوا۔ ۲۴ مئی کو سردار بیگم (والدہ جاوید اقبال) وفات پا گئیں۔ انہیں بی بی پاک دامناں کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ۲۵ اکتوبر کو مولانا الطاف حسین ھالی کے جسنِ صد سالہ میں سرکت کے لیے پانی پت گئے۔ نومبر میں پنڈت جواہر لال نہرو نے قادیانیت کی حمایت میں ایک طویل بیان دیا جو ماڈرن ریویو کلکتہ میں شائع ہوا۔
۱۹۳۶
فروری میں برقی علاج کی غرض سے پھر بھوپال گئے۔ ۲ مارچ کو بھوپال پہنچے اور شیش محل میں قیام کیا۔ اپریل میں اجنمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں آخری بار شرکت کی۔ مئی میں قائداعظم نے لاہور میں اقبال سے ملاقات کی۔ اقبال کو پنجاب مسلم لیگ کا صدر بنا دیا گیا۔ اسی سال نظم "ابلیس کی مجلسِ شوریٰ" تخلیق ہوئی۔
۱۹۳۷
جنوری میں حج پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ۲۲ جنوری کو اقبال کا تبصرہ شائع ہوا جس میں قادیانیت اور پنڈت جواہر لال نہرو کو مؤقف کو مسترد کر دیا اور قادیانیوں کو خارجِ اسلام قرار دینے کی دوبارہ حمایت کی اور انہیں اسلام کے لیے مضرت رساں قرار دیا۔ ۱۰ دسمبر کو شعبہ تحقیقاتِ اسلامی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ ۱۳ دسمبر کو الہ آباد یونیورسٹی نے آپ کو ڈی-لٹ کی ڈگری عطا کی۔
۱۹۳۸
۹ جنوری کو انٹر کالجیٹ برادر ہڈ نے یومِ اقبال منایا۔ ۲۱ اپریل کی صبح پانچ بج کر پندرہ منٹ پر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ شام کو بجے جاوید منزل سے جنازہ اُٹھا۔ رات نو بج کر پینتالیس منٹ پر تدفین ہوئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حافظ حامد محمود


  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: Allama Iqbal Kay Maah o Saal [Urdu] Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today