ISLAMIC VIDEOS TUBE: "متاثر ہونا" "متاثر ہونا" - ISLAMIC VIDEOS TUBE
Latest News
Saturday, April 1, 2017

"متاثر ہونا"

"متاثر ہونا"
(اہم معروضات ہیں، لازمی پڑھیں)
ایک چھپی کمزوری جس کا ہم کو ادراک نہیں!
ہر انسان کو اصلاح کی ضرورت ہے اور اصلاح کی نیت سے جب انسان خود پر توجہ دیتا ہے تو بہت سی بڑی بڑی برائیاں جو ظاہر ہوتی ہیں ان پر اللہ کی توفیق سے قابو پا لیتا ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا ادراک ہمیں خود نہیں ہوتا کہ گویا یہ بھی ہماری کمزوری ہے کہ جس کی وجہ سے ہم گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کمزوری یا بیماری کہہ لیں وہ "کسی شخصیت سے متاثر ہونا" ہے۔
جی ہاں!
تھوڑا سا غور کریں تو بات مشکل نہیں، آسانی سے سمجھ آنے والی ہے۔
ہماری قوم کی اکثریت اس بیماری میں مبتلاء ہے۔ اور یہ بیماری بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ پرستش کی طرف بھی لے جاتی ہے، یعنی جس شخص سے ہم متاثر ہوتے ہیں تو اس کی ذات کے تاثر کی بناء پر ہم شخصیت پرستی پر بھی اتر جاتے ہیں یعنی پھر وہ شخص ہاں کہے یا نا کہے، ہمارے نزدیک سب ہی حق و سچ بن جاتا ہے اور یہی وہ منزل ہوتی ہے جب ہم گمراہی کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔
لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ کسی معزز و محترم شخص کا احترام ہی نہ کیا جائے، ہر کسی کو ایک ہی درجہ کے اعتبار سے دیکھا جائے یا خود کو ترم خاں سمجھ کر مراتب کی تدریج کو بھلا دیا جائے اور "میں نہ مانوں" والی صفت اپنا لی جائے۔
ہونا یہ چاہیئے کہ ہر شخص کا اس کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے البتہ ان کی کہی گئی ہر بات پر اٰمنا و صدقنا نہ کہا جائے، بلکہ اس پر کچھ غور و فکر، کچھ تحقیق وغیرہ کر لی جائے، معاملہ کی جانچ پڑتال خود جس قدر ممکن ہو کی جائے، مسئلہ کی نوعیت کو سمجھا جائے اس کے بعد اس شخص کی بات پر غور کیا جائے، پھر کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے تو ایک ستھری رائے قائم ہوگی۔
یاد رکھیئے!
قرآنِ کریم، حضور نبی کریم ﷺ کی احادیثِ شریفہ اور سنن اور صحابہ کرام کے اقوال و اعمال اور آئمہ مجتھدین کی مدون فقہہ میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہوتا ہے الحمد للہ۔ اگر کوئی عقیدہ کوئی نظریہ ان مذکورہ ماخذین میں موجود ہے تو کوئی ضرورت نہیں کہ آج کے دور کی کسی شخصیت کی بات جو ان مذکورہ ماخذین سے مختلف ہو کسی بھی مصلحت کے تحت مانی یا سمجھی جائے۔
ہاں اگر مسئلہ کی نوعیت کچھ ایسی ہو جو بظاہر مذکورہ ماخذین میں نہ ملے اور کوئی عالم، یا دانشور اپنی رائے سے مسئلہ کو حل کرے تو لازمی ہے کہ خوب غور کر لیا جائے کہ اس عالم یا دانشور کی بات قرآن و سنت کے اصول کے مطابق ہے یا فقط ذاتی رائے ہی ہے۔ اگر تو ذاتی مزاج کی آمیزج ہے تو کوئی حرج نہیں کہ بات قبول نہ کی جائے۔
بات ذرا فقہہ کی طرف چلی گئی، جو کہ میرا موضوع نہیں ہے، البتہ موضوع سے کچھ متعلق ہے اس لیے ذکر کر دیا، بہرحال، میرا اشارہ نظریات اور کسی خاص مسئلہ میں رائے قائم کرنے کے متعلق ہے۔ مثال سے بات واضح ہو جائے گی:
جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، جب مولانا عبدالعزیز غازی حفظہ اللہ کی طرف سے دائر کردہ کیس کی ابتداء ہوئے تو جسٹس صاحب نے کچھ ایسے فرمودات ارشاد کیے کہ پوری قوم #متاثر ہو گئی، اور ان کے چرچے ہونا شروع ہو گئے، ٹھیک ہے کہ وہ شخص ذاتی طور پر مخلص ہوگا اور ایمانی کیفیت میں بہت کچھ بول دیا ہوگا، لیکن ہم فوراً متاثر ہو گئے، اور ہم نہ نا تو عدالت کی تاریخ پر غور کیا، نہ ہی ملکی تاریخ پر، نہ ہی نظامِ جمہوریت کی حقیقت کو سمجھا اور صرف چند خوشنماء اقوال کی وجہ سے ہم ایسے متاثر ہوئے کہ ہم نے ان عدالتوں سے کہ جہاں اسلام قوانین کی روزانہ دھجیاں سرِ عام اڑائی جاتی ہیں، ان پر یقین کی حد تک امیدیں قائم کر لیں۔ اور یہ سب ہوا صرف ایک شخص سے متاثر ہونے کی وجہ سے۔ اگر ہم کچھ تحقیق کرتے تو جان جاتے کہ کفریہ قوانین پر قائم عدلیہ کا نظام ہو یا نظامِ جمہوریت، یہ قطعاً کسی شخص کو چاہے وہ ذاتی طور پر کتنا ہی مخلص و ایماندار کیوں نہ ہو کوئی ایسا اقدام اٹھانے نہیں دے گا کہ جس سے اسلام کا بول بالا ہو، کیونکہ اس نظام کو جب بنایا ہی اسلامی نظام کو ختم کرنے کے لیے تھا تو کیونکہ یہ اسلام کی یا مسلمانوں کی چلنے دے گا۔
اب متاثر ہونے کا ایک اور نقصان کیا ہوا، کہ جس شخص یعنی جسٹس شوکت عزیز سے متاثر ہوئے تھے اب سب اس کو گالیاں بھی دیں گے، برا بھلا بھی کہیں گے اور اس سے نا امید بھی ہوں گے، لیکن عدلیہ کے نظام کو، یا جمہوری نظام کو کچھ کہنے کی طرف ہمارا ذرہ برابر ذہن نہیں جائے گا کیونکہ یہ امیدیں ہم نے ایک شخص سے متاثر ہو کر باندھی تھیں، اگر اس کے بجائے ہم نے خود تحقیق کرکے کوئی رائے قائم کی ہوتی تو آج مایوس نہ ہوتے، بلکہ میری طرح اپنے اس یقین پر مزید مطمئن ہو جاتے کہ یہ نظام بدترین نظام ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی خیر نہیں۔
یہ تو ایک حالیہ مثال ہے، ورنہ ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں، آئندہ کبھی دوبارہ ذکر کروں گی ان شاء اللہ۔
خلاصہ یہ کہ کسی کے متعلق کوئی بھی رائے فوراً ہی قائم نہ کریں، فوراً ہی کسی کی ظاہری شخصیت سے متاثر نہ ہو جائیں، بلکہ ان کے ادب و احترام، مقام و مرتبہ کو دیکھتے ہوئے صرف ان کی بات کو بغور سمجھیں، اس پر اپنی تحقیق کریں کہ یہ بندہ یہ بات کیوں کہہ رہا ہے، اس موقع پر اس کا یہ کہنے کا کیا مطلب اور کیا وجہ ہو سکتی ہے اور اس کے کیا نتائج ہوں گے!
متاثر اگر ہوا جائے تو کسی ایسے شخص سے کہ جس کی زندگی گزر چکی ہو تاکہ اس کی تمام زندگی آپ کے سامنے ہو، تاکہ پھر ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں جب وہ آپ کی قائم کردہ امیدوں کو توڑے تو آپ مایوسی کا شکار ہوں۔
یاد رکھیں!
کسی کی چند اچھی باتیں اسے اچھا نہیں بناتیں، اسی طرح کسی کی چند بری باتیں اسے برا نہیں بناتیں۔ اس لیے رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کریں!
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح فہم و بصیرت عطا فرمائے اور گمراہی سے بچائے!
آمین۔
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Item Reviewed: "متاثر ہونا" Rating: 5 Reviewed By: Pakistan Media Today